انقلاباتِ زمانہ بھی عجب ہیں ناصر

یہ پچھلی دہائی کا ذکر ہے۔ نیا میلینئم، نئی صدی کا آغاز، بہاء الدین ذکریا یونیورسٹی، ایم اے انگلش کی کلاس کا پہلا دن، ڈاکٹر شیریں کی انگریزی، ڈاکٹر فاسٹس (Dr Faustus) کے کورس، سینئرز کی ریگنگ اور کرکٹ کے میڈیم سائز بیٹ جتنا موبائل فون۔ ہمارے لئے یہ سب کُچھ ہی نیا اور عجیب…

Read more

مسٹر پرائم منسٹر۔ ماسی غفوراں کو زہر بھجوا دیں

حکمران جمہوری رہے ہوں یا ڈکٹیٹر، عوام نامی مخلوق کسی حُکمران کی کبھی ترجیح نہیں رہی۔ اور پاکستان تو رہا ہی ٹریننگ گراؤنڈ ہے۔ چاہیں تو کرکٹ کی پِچ بنا لیں، چاہیں تو ہاکی کے لئے آسٹرو ٹرف بچھا دیں اور چاہیں تو پول لگا کر فُٹبال کھیلیں۔ شِکار بھی یہاں کبھی ممنوع نہیں رہا،…

Read more

عثمان بزدار، ایک اسسٹنٹ کمشنر کی نظر سے

عثمان بزدار وزیرِ اعلیٰ کیا نامزد ہوئے، پنجاب کی دھرتی کو شیرِ مادر سمجھ کر ہڑپ کرنے والی سیاسی اشرافیہ، مافیاز کا غول، صحافت کے بھانڈ، سٹیٹس کو کے موقع پرست، پنجاب کو مردار سمجھ کر اس کے بدن سے اپنے اپنے حصے کا ماس بھنبھوڑنے والے گدھ سب مل کر نشانہ باندھے کنکر پہ…

Read more

ہے کوئی پوچھنے والا؟

عجب ملک ہے، عجب حکمران اور عجب ہی عوام، ملٹی نیشنل کمپنیاں کیا گُل کھلاتی رہیں اور کھانے کے نام پر ہمیں کیا کھلاتی رہیں، کسی کو فرصت نہیں کہ پوچھے، پانی کی ایک بوتل 100 روپے میں بکے، موبائل کمپنیاں 100 کے لوڈ پہ جتنے مرضی پیسے جِس نام سے کاٹ لیں، بچوں کے…

Read more