عمران بھائی (وزیر اعظم عمران خان) کے نام ایک کھلم کھلا خط

سلام عمران بھائی،

آپ قومی ہیرو تھے، ہیں اور ابھی بھی زیروساتھ لگنے سے قیمت میں کافی اضافہ ہو جاتا ہے۔ عمران بھائی پہلے تو راز کی بتاؤ ں کہ میں بھی پنکی جی سے بہت متاثر ہو ں اور ان سے استخارہ کرواناچاہتی تھی۔ مگر ان کے سابقہ استخاروں کی تعبیر نے مجھے بے حد خوف زدہ کر دیا ہے۔ لہذامیں نے ذاتی حد تک اس سے توبہ کر لی ہے۔ کیونکہ میں قوم جتنی بہادر و طاقت ور نہیں ہو ں۔

خیر عمران بھائی آپ ہماری نسل کے وہ ہیرو تھے کہ کسی ”لنگور عمران“ سے بھی اس دور میں کسی لڑکی کی شادی ہو جاتی تو وہ نکاح نامے پہ آپ کے تصور سے دستخط کر دیا کرتی تھی۔ اور اپنی سہیلیوں میں شرما کر کہا کرتی تھی کہ تمہارے بھائی جان کا نام ”عمران“ ہے۔ تب سے بہت سے مرد آپ سے حسد کرتے رہے ہیں۔ اب یہ وزیر، مشیر، فقیر آپ سے پرانی حسد کابدلہ لے رہے ہیں۔ مگر یہ بات خواب ختم ہونے کے بعد سمجھ آتی ہے۔ کہ انڈوں کی قیمت کیا ہوتی ہے اور مرغا کتنے انڈے دیتا ہے۔

Read more

نظریہ ضرورت

”ڈیئر سٹوڈنٹس سقوطِ ڈھاکہ 1971 ء میں بظاہر ہوا لیکن تاریخ پر طائرانہ نگاہ رکھنے والے اس کی جڑیں اور شاخسانے بہت دور تلاش کرتے ہیں۔ وہاں کہ جہاں بظاہر کوئی گمان بھی نہیں گزرتا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ ”سر! یہ طائرانہ نگاہ کیا ہے؟ “ ”بیٹا جیسے پرندہ بہت آگے تک دیکھ سکتا…

Read more

عقل مند مرد، عقل کے ہاتھوں مارا جاتا ہے

آپ نے مشاہدہ کیا ہو گا کہ کم عقل مند اور ذرا بے وقوف مردوں کی زندگی مزے میں ہوتی ہے۔ ان کے آس پاس والے اکثر ان سے خوش نظر آتے ہیں۔ یہ اپنے ازدواجی اور محبوبائی معاملات میں بھی خوش نصیب ٹھہرتے ہیں۔ ان کی زوجہ اور محبوبہ ان سے خوش ہوتی ہیں۔…

Read more

شعبہ اردو جی سی یونیورسٹی لاہور اور شعبہ اردو انقرہ یونیورسٹی ترکی

دوروزہ عالمی کانفرنس

Spring of Wisdom and Love

یہ نومبر کی بہار تھی۔ نومبر دسمبر دو ایسے مہینے ہیں جو کسی ایک تاریخ کو تاریخ کا حصہ بنا دیتے ہیں۔ چودہ، پندر ہ نومبر بھی ایسے ہی دو دن تھے۔ جو تاریخ کو متاثر کرنے جارہے تھے۔ اگر مجھے اس تاریخ کو چند لفظوں میں قید کرنا ہوتا تو میں تب بھی کلاسیک کا سہارا لیتی۔ چارلس ڈکنز کے شہرہ آفاق ناول کے چند جملے اس کانفرنس کی منظر نگاری کے لئے کافی ہیں۔

It was the best of times…, it was the age of wisdom …, it was
the season of light…, it was the spring of hope….
….

Read more

لبرل آنٹی کی ولگر کہانی

بدھسوا تنہا بیٹھی سوچ رہی تھی کہ سدھارت بدھا کیسے بن گیا۔اس کو نروان کیسے مل گیا۔ برہمنیت کا غرور خاک میں ملا نا کو ئی آسان کام نہیں تھا ۔ نا ہی بدھی ریاضت میں کو ئی آسانی تھی ۔ ضبط کے بھی روزے کی انتہا ، تو پھر نروان کیسے اور کیونکر مل…

Read more

کتاب میلہ ۔۔۔ نئے مانجھی اور نئے زمانے کے پتوار

نومبر کا آغاز ہے۔ خنک ہوائیں میدانی علاقوں میں ہوائی آلودگی کے باعث میلی میلی سی ترقی کے نام پہ اتراتی پھر رہی ہیں۔ موسم نے قوم کی دکھتی رگ پہ مسیحائی ہاتھ رکھ دیا ہے۔ مگر ساتھ ہی بجلی اور گیس کے یونٹ کی بڑھتی ہوئی قیمت نے گویا زخم پر نشتر بھی رکھ…

Read more

اپنے بچو ں کی عزت کیجئے

بچے وہ ان دیکھے بیج ہیں جن کا پھل ہم سب بہت عمدہ کھانا چاہتے ہیں۔ نہ صرف توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمارا نام روشن کریں گے، ہماری خدمت کریں گے، ہمارے تابعددار ہوں گے بلکہ ہم یہ دعوی کرتے ہیں۔ کیونکہ ہم خود کو اپنے والدین سے اچھا والدین سمجھ رہے ہوتے ہیں۔…

Read more

بانیہ

یہ بہت حسین خنک و نم رات تھی۔ ستارے آسمان پر مسکرا رہے تھے۔ چاند آسما ن پر اور زمین پر بہت دن بعد آیا تھا۔ سو مست مسرور سے نیم سفید بادل اس کے گرد مدھر رومانوی رقص میں اِترا رہے تھے۔ وہ چاند تھا اپنی مستی میں مست، نازاں۔ کہ چاہے جانے کا…

Read more

حجلہ عروسی میں لب بستہ دلہن اور محاذ جنگ پر کامرانی کی لب ریز دعا

ہم فوج میں کپتان ہوئے تو گھر والوں نے ہماری شادی کی ٹھان لی، مگر بڑے بھائیوں نے عجب ظلم ڈھائے، کہ ایک نے شادی کا رِسک ہم پہ لینے کے بعد، اپنی شادی کا فیصلہ کرنے کا ارادہ ظاہر کیا اور دوسرے نے شادی نہ کرنے کا اعلانِ عام سنا دیا۔ ہم چھوٹے تھے…

Read more

حور اور لنگور کی تصویر

چھوٹی سی بیٹی کھیل رہی تھی۔ شوہر نے بیوی سے کہا دیکھو ایک دن کو ئی لنگور دولہا بن کے آئے گا اور اسے بیاہ کر لے جائے گا۔ بیوی نے بہت پیار سے کہا ”آپ کو یاد ہے ایک دن آپ بھی یونہی دولہابن کے آئے تھے“ لیکن جب یہ لمحہ آتا ہے۔ رشتے…

Read more