ملا گردی کے سامنے بے بس ریاست

آسیہ بی بی کی بریت کے بعد ہونے والے دھرنے اور ہنگامے حکومت وقت کے ساتھ ایک معاہدے کے بعد اختتام پذیر ہو چکے۔ ان دھرنوں کے دوران کی گئی تقاریر کا نشانہ حکومت، ملک کی عدلیہ اور پاک فوج کی قیادت رہی۔ ہنگاموں کے دوران راہ چلتے لوگوں کی گاڑیوں، موٹر سائیکلوں اور پبلک املاک پر بے دریغ حملے کیے گئے اور انتظامیہ خاموش تماشائی بنی دیکھتی رہی۔ جس معاہدے کے تحت یہ لوگ اپنے گھروں کو واپس گئے اور جو عوام الناس کو دکھایا گیا اس کی دو شقیں ہیں کہ اگر ان مظاہروں کے دوران اگر کسی تحریکی کی ”شہادت“ ہوئی ہو تو اس کی فوری تحقیق کروائی جائے گی اور وہ تمام لوگ جنہیں ان ہنگاموں کے دوران گرفتار کیا گیا انہیں رہا کر دیا جائے گا۔ معاہدہ ہو جانے کے بعد کئی مبصرین نے ارشاد فرمایا کہ یہ اچھی بات ہے کہ معاملہ کسی ہلاکت کے بغیر ختم ہو گیا۔ میرے خیال میں تو ہلاکتیں ہوئیں اور وہ ہیں ریاست کے قانونی اختیار اور ریاست کے اخلاقی جواز کی ہلاکتیں۔

Read more

اردو کالم نگاری کیسے کرتے ہیں

میں بچپن سے اخبار بینی کا مریض ہوں سو اب تک اتنے اخبارات اور کالم پڑھ چکا ہوں کہ پاکستانی صحافت کے ارتقاء پر چھوٹا موٹا تھیسس لکھ سکتا ہوں۔ بچپن میں میں ارشاد احمد حقانی اور پروفیسر وارث میر جیسے لوگوں کے خشک کالم پڑھ کر بے مزہ ہوا کرتا تھا لیکن وہ ابتدائی…

Read more

عمران کی حکومت، میری مراد بر آئی!

میں محترم عمران خان کی سیاست کا تب سے شاہد ہوں جب سے انہوں نے اس کارزار میں قدم رنجہ فرمایا۔ ان کے بارے میں مجھے کبھی یہ غلط فہمی نہیں رہی کہ ان پر کسی قسم کی فکری گہرائی رکھنے کا الزام دھرا جا سکتا ہے۔ ایسی غلط فہمی کا امکان خان صاحب نے اپنے…

Read more

جنرل صاحبان! اس خوف ناک سازش کو بے نقاب کریں

بخدمت جناب چیف آف آرمی سٹاف اور ڈائریکٹر جنرل آئی ایس آئی! اس خاکسار کی آپ تک براہ راست رسائی نہیں اور ہو بھی تو اتنی ہمت کہاں کہ آپ جیسی ہستیوں سے بالمشافہ ہمکلام ہو سکوں۔ گھگھی بندھ جائے گی میری۔ اس لئے بذریعہ تحریر آپ سے مخاطب ہوں۔ یہ کس کے علم میں…

Read more