کیا جناب ثاقب نثار اپنے آئیڈیل پر پورے اترے؟

چیف جسٹس کا منصب سنبھالنے کے بعد ایک انٹرویو میں جناب ثاقب نثار نے کہا تھا، ”میں تاریخ میں جسٹس کارنیلیٔس اور جسٹس حمودالرحمن بن کر زندہ رہنا چاہتا ہوں“۔ جناب ثاقب نثار نے عدلیہ کی جن شخصیات کو آئیڈیلائز کیا، وہ بلا شبہ پاکستانی عدلیہ کی تاریخ کے ماتھے کا جھومر ہیں ’جن کے…

Read more

اگرتلہ سے کالا باغ تک

چار سال پہلے کی بات ہے ، کراچی میں جناب الطاف حسن قریشی کی ''ملاقاتیں کیاکیا‘‘کی تقریب رونمائی میں ڈاکٹر طاہر مسعود سے ملاقات ہوئی تو انہوں نے بتایا کہ وہ الطاف صاحب پر ایک کتاب مرتب کررہے ہیں اور اس کے ساتھ یہ حکم کہ مجھے بھی اس کیلئے کچھ لکھنا ہے۔ وہ کراچی…

Read more

پارلیمانی نظام ’’برصغیر‘‘ کو سازگار نہیں؟

جی ہاں! یہ گمان (یا بد گمانی) کیوں ہو کہ صدارتی نظام کی بات (موجودہ) اسٹیبلشمنٹ کا لکھا ہوا گیت ہے۔ وہ جو غالب نے کہا تھا: ریختے کے تمہیں استاد نہیں ہو غالبؔ کہتے ہیں، اگلے زمانے میں کوئی میرؔ بھی تھا صدارتی نظام کے اس خیال کی کونپلیں ماضی میں بھی پھوٹتی رہی…

Read more

صدارتی نظام اور قائد اعظم کی ذاتی ڈائری؟

وطن عزیز میں صدارتی نظام کے ناکام (اور تباہ کن) تجربے کو دہرانے کی خواہش (یا تجویز) اپنی جگہ لیکن اس میں بابائے قوم کو ''ملوث‘‘ کرنا اور اس کے لیے ان کی کسی ''ذاتی ڈائری‘‘ سے حوالہ لانا (نرم سے نرم الفاظ میں بھی) سخت زیادتی ہے۔ قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں…

Read more

…جو چلے تو جاں سے گزر گئے!

بد ترین مخالف اور سخت ترین ناقد بھی انکار نہیں کرتے کہ وہ ایک نڈر اور جرأت مند خاتون تھیں۔ لیاقت باغ میں اپنے آخری جلسے میں بھی کہہ رہی تھیں: ''میں اپنی جان کو خطرے میں ڈال کر اس لئے آئی ہوں کہ میں محسوس کرتی ہوں ، میرا وطن خطرے میں ہے، لیکن…

Read more

یحییٰ، بھٹو، مجیب، ولی خان… اور حمود الرحمن کمیشن کے 34 صفحات

لندن سے سہیل اختر ملک اور لاہور سے احسان وائیں سمیت نیشنل عوامی پارٹی (موجودہ اے این پی) کے احباب کا کہنا تھا کہ تم نے سقوط مشرقی پاکستان کے حوالے سے حالیہ دو کالموں میں خان عبدالولی خان کا نام تو لیا، لیکن 1971ء کے بحران میں پاکستان کو بچانے کے لیے ان کے…

Read more

علیحدگی… آخری آپشن بھی نہیں تھا!

''علیحدگی... شیخ مجیب کا پہلا آپشن نہیں تھا‘‘ پر ملا جلا رد عمل سامنے آیا۔ ایسے بھی تھے جو مجیب کو ازلی و ابدی غدار سمجھتے ہیں۔ بیشتر کے خیال میں علیحدگی واقعی مجیب کا پہلا آپشن نہیں تھا‘ جبکہ اکثریت کا اصرار تھا کہ علیحدگی مجیب کا آخری آپشن بھی نہیں تھا۔ خود میرا…

Read more

علیحدگی… شیخ مجیب کا پہلا آپشن نہیں تھا!

16دسمبر1971ئ... 47 سال بیت گئے لیکن اہل درد کیلئے یہ کل کی بات ہے۔ سقوطِ ڈھاکہ، کہنے والوں نے جسے سقوطِ غرناطہ کے بعد مسلم تاریخ کا سب سے بڑا المیہ بھی کہا، پر بہت کچھ لکھا گیا، کئی کتابیں تصنیف ہوئیں۔ ان میں ایسی بھی تھیں، جو باقاعدہ ایجنڈے کے تحت لکھی گئیں، ایک…

Read more

پنجاب یونیورسٹی… جمع تھے احباب

جناب الطاف حسن قریشی کا خیال تھا کہ وہ پنجاب یونیورسٹی ایلومینائی کے اس تاسیسی اجلاس میں سب سے سینئر ہیں لیکن یہاں پروفیسر ڈاکٹر مریم بھی تھیں، الطاف صاحب سے سات، آٹھ سال سینئر۔ الطاف صاحب 1947ء میں ہجرت کے وقت میٹرک پاس تھے۔ یہاں آ کر محکمہ انہار میں ملازم ہو گئے اور…

Read more

نوازشریف، ایئر مارشل کی رفاقت سے جیلانی کابینہ تک

گزشتہ ''جمہور نامہ‘‘ میں، عملی سیاست میں نوازشریف کی آمد کا حوالہ کئی دوستوں کے لیے دلچسپ انکشاف تھا، جو یہ سمجھتے رہے تھے کہ یہ جنرل جیلانی تھے جن کی انگلی تھام کر لاہور کے صنعت کار خاندان کا نوجوان اس کُوچے میں آیا۔ بعض احباب کو کئی بھولے بسرے واقعات یاد آئے۔ ان…

Read more