نام میں کیا رکھا ہے

شیکسپیئر کے ڈرامے ’’رومیو جولیٹ‘‘ کے ایک ذرا سے تاریخی مکالمے کا کسی نے کیا خوب ترجمہ کیا:’’نام میں کیا رکھا ہے‘۔گلاب تو گلاب ہے، اس کا نام کچھ بھی ہو،اس کی مہک کم نہیں ہوتی‘‘۔ یہ بات ہماری زندگی میں کہاں کہاں سچ ثابت ہوتی ہے، سوچیں تو عجیب خیالات جنم لیتے ہیں۔ ادھر…

Read more

’’اردو شاعری دماغ کے لئے اکسیر ہے‘‘

اردو شاعری کے کمالات کا سائنسدانوں نے بھی اعتراف کرلیا ہے ۔ بھارت کے بہت بڑے اخبار ٹائمز آف انڈیا نے سرخی جمائی ہے :اردو اشعار دماغ کے لئے اکسیر ہیں۔لکھنو میں سائنسی تحقیق کا ایک ادارہ ہے جو سنٹر فار بائیو میڈیکل ریسرچز کہلاتا ہے۔ وہ اپنی ایک حالیہ تحقیق کے دوران اس نتیجے…

Read more

فیس بُک، لعنت یا نعمت؟

جب کمپیوٹر ایجاد ہوا، ہم نہال ہوئے۔ اسے فرو غ ہوا تو ہم کھل اٹھے۔ پھر اس میں شاخیں پھوٹیں تو گویا موسم گل آگیا ، یہاں تک کہ اس میں وہ شاخ نکلی جسے فیس بک کا نام ملا، کسی نے اس کا ترجمہ کیا’ کتاب چہرہ‘۔وہ ایجاد نہیں تھی، اعجاز تھا۔ ایک ایسا…

Read more

خبردار جو ریڈیو پاکستان کو ہاتھ لگایا

آپ جو صبح وشام جمہوریت کی رٹ لگاتے ہیں، شاید اس لب و لہجے کے عادی نہ ہوں لیکن ہم جو مادر جمہوریت کہلانے والے معاشرے میں عرصہ دراز سے آباد ہیں، حاکم ِ وقت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر تنبیہ بھی کر سکتے ہیں اور گھرک بھی سکتے ہیں۔ خبر نہیں ہے، حقیقت…

Read more

پرائم منسٹر بہادر کی شان

نمبر ون اکبر روڈ، نئی دلّی۔ یہ تھا اس مکان کا پتہ جہاں اتنے لمبے چوڑے ملک کے حاکم یعنی وزیر اعظم رہتے تھے۔ اور جہاں ہم کل شام کی چائے پر مدعو تھے۔ شہنشاہ اکبر سے منسوب اس شاہراہ پر حاکم وقت کی رہائش گاہ کیسی ہوگی، ذہن چھوٹے بچوں کی طرح دیر تک…

Read more

مخالفت کرنا ہمارے خمیر میں ہے

لڑکپن میں جو حکایتیں پڑھی تھیں، بظاہر یاد نہیں۔ لیکن بعض حالات رونما ہوں تو یاد داشت کے انبار میں کہیں دبی ہوئی کوئی نصیحت آموز حکایت یوں ابھر کر سامنے آتی ہے جیسے ابھی پچھلے برس ہی پڑھی تھی۔ ان دنوں مجھے ان بڑے میاں کی کہانی یاد آرہی ہے جو اپنے جواں سال…

Read more

موسم، مزاج اور میڈیا

ابھی ایک روز ریڈیو پر اعلان ہوا کہ آج موسمِ خزاں کا پہلا دن ہے۔ باہر نکل کر دیکھا تو ساری ہریالی جو ں کی توں کھڑی جھوم رہی تھی۔خزاں کا موسم خاموشی سے کب آیا ہے۔ ایسا غضب کا پت جھڑ ہوتا ہے کہ جب تک سارے درخت برہنہ نہ ہوجائیں، موسم اپنے تیور…

Read more

جولیس سے جولیٹ تک

پچھلے دنوں اٹلی کے آثار قدیمہ دیکھے۔ ان لوگوں نے یوں بچا بچا کر رکھے ہیں تاکہ دنیا ان کے ماضی کی یادگاریں دیکھے۔ پھر خیال آیا اپنے شہر دلّی کے مسلمانوں کا جن کا مطالبہ ہے کہ ہمایوں کا مقبرہ گراکر اس کی جگہ قبرستان بنایا جائے۔ سبب اس کا یہ بتاتے ہیں کہ…

Read more

اٹلی میں اردو غزل کی دھوم

اردو زبان اب کے ہمیں اٹلی لے گئی۔ بہت کم لوگوں کو معلوم ہوگا کہ یورپ کے اس ملک میں اردو بولنے اور سمجھنے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔ ہم پر بھی یہ حال اس وقت کھلا جب چار دنوں میں ہمیں چار مشاعرے سننے کو ملے۔ پانچویں کی بھی تیاری تھی لیکن یہ…

Read more

ریڈیو پاکستان کی قدر کیجئے

ایک بات طے ہے ۔ چاہے ٹیلی وژن آسمان کو چھولے۔ چاہے سوشل میڈیا انسانی ذہن کو بدل ڈالے۔ ریڈیو کی اہمیت ذر ا بھی کم نہ ہوگی۔ہم نئے پرانے لوگوں نے جس دن سے دنیا کے حالات کو جاننا چاہا ہے، ریڈیوہمارے سرہانے پنجے گاڑ کر بیٹھا ہے۔ ہم نے جس روز اپنے گلی…

Read more