درس و تدریس جیسے حقیر پیشے میں کیا پڑا ہے

پدرشاہی نظام کی رو سے ہمارا تعلق ایک پسماندہ دیہی علاقے سے ہے۔ باوجود اس کے کہ والدہ کا تعلق ایک پڑھے لکھے اردو اسپیکنگ پٹھان گھرانے سے ہے پدر شاہی نظام کے تحت ہم خود کو خوشاب کے اسی پسماندہ دیہات سے سمجھتے ہیں جہاں آج بھی دو وقت کی روٹی ایک لگژری ہے۔…

Read more

میرے پاکستانیو، گھبرانا نہیں ہے!

گستاخی معاف حضور۔ بارہا چلائیں گے کہ گستاخی معاف۔ اور بار بار وہی گستاخی کیے بھی جائیں گے۔ بس چور چوری سے جائے ہیرا پھیری سے نہ جائے۔ انسان خطا کا پتلا ہے اور فدوی خطا کا اسٹیچو آف لبرٹی۔ معافی دینا آپ کی قدرت اور غلطی کرنا اس نا چیز کی فطرت۔ آپ قدرت…

Read more

پیسہ ہے تو وہ لڑکی زندگی انجوائے کیوں نہیں کرتی؟

کئی بہاروں اور خزاوں پرانی بات ہے کہ ہمیں انگریزی ادب پڑھنے سے بڑا گہرا شغف تھا۔ اپنے اسکول کی لائبریری کی کوئی ایسی کتاب نہ تھی جو ہم نے نہ پڑھی ہو۔ یہ زمانہ آج سے کم سے کم اکیس سال پرانا تو ضرور تھا۔ شاید بیس پچیس ہی ہو لیکن ہمیں اچھا لگتا…

Read more

ہمارے مڈل کلاسیے خواب

پتہ نہیں بڑا انسان صدی کے کون سے عشرے میں بننا ہے لیکن ہم نے ان لوگوں کو غور سے آبزرو کرنا ضرور شروع کر دیا ہے۔ بڑے لوگوں کی باتیں بہت بڑی ہوتی ہیں۔ وہ چھوٹے لوگوں کی طرح کوئی ماٹھا کام نہیں کرتے۔ نہ کسی کی بات سنتے ہیں نہ کسی کی نصیحت…

Read more

بشری بی بی ملک کی تمام بیویوں کی رول ماڈل ہیں

بچپن سے ایک ایک نمبر کے پیچھے جان دینے والوں کا بڑا مسئلہ ہوتا ہے کہ وہ زندگی کو بھی ایک امتحان ہی سمجھ لیتے ہیں جس میں ان کا ٹاپ کرنا لازم ہے۔ یہی بیماری ہمیں بھی لاحق تھی۔ چلئے تعلیم حاصل ہو گئی۔ شادی بھی ہو گئی۔ لیکن ہمارا کیڑا نہ مرا۔ اب…

Read more

وزیر اعلی عثمان بزدار ہمارے لئے مشعل راہ ہیں

ایک تو یہ ہم ہم کر کے بات کرنا بڑا مشکل ہے۔ لیکن بھلا ہو وزیر اعظم پاک و ہند کا جن کی ’میں‘ کی گردان نے ہمیں یہ باور کرایا کہ یہ کس قدر مضحکہ خیز حرکت ہے۔ ہم تو وزیر اعظم بھی نہیں کہ کوئی ہماری بے تکان باتوں پر بھی سر دھن…

Read more

مغرب کی مذہبی تنگ نظری، تعزیے اور بمبار

دیکھیے میں کوئی مذہبی شخصیت تو ہوں نہیں کہ میرے ایک کالم پر تہلکہ مچ جائے۔ میری سیاست میرے مذہبی افکار کے گرد گھومے۔ سب ٹاک شوز پر میرا طوطی بولے کہ کہیں کوئی بھی بحث ہو میں اپنی مرضی کی تفسیر سے سب کا منہ بند کرا دوں۔ مجھے خود کو معمولی اور ادنی…

Read more

بیگم کلثوم نواز: مرنے والے چلے جاتے ہیں، ندامتیں رہ جاتی ہیں

امید کرتی ہوں کہ یہ بلاگ اپنی نوعیت کا آخری ہو گا۔ خدا نہ کرے کہ ہمیں دوبارہ اس موضوع پر لکھنا پڑے۔ ابھی تو ہم سب میں واپسی کے دن بھی زیادہ نہیں ہوئے اور اس موضوع پر دوسرا بلاگ ہے۔ اب تو دل میں درد کی بھی مزید گنجائش نہیں رہی۔ یا شاید…

Read more

ہمیں واپس نہیں آنا، بس ڈالر بھیجنے ہیں

ہمیں بچپن سے خواب دیکھنے کا بہت شوق تھا۔ گرمیوں کی راتوں میں جب سب سو جاتے تو ہم گھنٹوں اپنے چھوٹے سے بستر پر آنکھیں میچے لیٹے رہتے۔ خود کو نئی نئی جگہوں پر لے کر جاتے۔ مزیدار کھانے کھاتے۔ دنیا گھومتے۔ نئے نئے لوگوں سے ملتے اور ان کے ساتھ مل کر خوب…

Read more

ہمیں پھوپھو نہیں بننا تھا

دبئی شیشے کا گھر ہے۔ شیشہ بھی وہ والا جس سے باہر کا منظر ہمیشہ ٹھنڈا اور پرسکون دکھائی دیتا ہے۔ گھر سے باہر بھلے کتنے ہی ریت کے جھکڑ چل رہے ہوں گھر کے اندر یہی محسوس ہوتا ہے کہ باہر کالی گھٹا چھائی ہوئی ہے۔ کچھ ہی دیر میں مینہ چھم چھم برسے…

Read more