سڈنی بیچ، قدرتی شرمیلی لڑکیاں اور اندھے مرد

پچھلے برس میں اپنی فیملی کے ساتھ سڈنی ساحل سمندر، باؤنڈی بیچ، گیا۔ یہ نہایت خوبصورت اور صاف ستھری جگہ ہے۔ آسٹریلیا میں آج کل سردیوں کا موسم ہے اور بیچ کی اصلی رونقیں تو گرمیوں میں ہی ہوتی ہے لیکن پھر بھی دن کو اگر آسمان صاف ہو جو کہ یہاں اکثر ہی ہوتا…

Read more

کیا ہمارے بچے اب 16 دسمبروں سے محفوظ ہیں

یہ ڈھاکہ اور پشاور والے 16 دسمبر کے قومی سانحے ہمیں کیوں دیکھنے پڑے؟ یہ بہت اہم سوال ہے جو ہم نے مکمل سنجیدگی اور خلوص کے ساتھ اپنے آپ سے شاید ہی کبھی پوچھا ہو۔ ارباب اختیار نے ہمیشہ ہی بیرونی ہاتھ کا بہانہ استعمال کیا اور اپنے اندر کبھی نہیں جھانکا۔ جو پاکستان…

Read more

مولانا طارق جمیل کو فیملی پلاننگ کانفرنس میں شمولیت پر شرمندہ ہونا چاہیے

مولانا طارق جمیل صاحب سے بہت بڑا گناہ سر زد ہو گیا ہے۔ انہوں نے چیف جسٹس کی طرف سے بلائی گئی فیملی پلاننگ کانفرنس میں شرکت کی ہے اور اس سے تمام سچے مسلمانوں کی شدید دل آزاری ہوئی ہے۔

ہم سب پاکستانی مسلمان، خاص طور پر اوریا مقبول جان صاحب، زیادہ تر مدرسہ مالکان اور وہ ساسیں جن کی بہوئیں فیملی پلاننگ کی وجہ سے صحت مند اور قدرے سکھی زندگیاں گزار رہی ہیں یہ جانتے ہیں کہ فیملی پلاننگ حرام ہے، گناہ کبیرہ ہے اور مسلمانوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ یہ خاص طور پر پاکستانی ساسوں کے خلاف ایک سازش ہے۔ بچوں کی تعداد سے بہو کا دف مارنے کا اپنا ہی مزا ہے۔ فیملی پلاننگ کی وجہ سے بہو چند برسوں میں ہی فارغ اور صاف ستھری ہو کے بیٹھ جاتی ہے اور ساس اپنا زمانہ یاد کر کے کوسنے دیتی رہتی ہے جب اسے یہ سہولت اور اس کے نتیجے میں ملنے والی فرصت میسر نہیں تھی کیونکہ بچوں میں کہیں وقفہ ہی نہیں تھا۔

Read more

سو دن پر عمران خان کی لیک ہونے والی تقریر

غریب عوام مجھے افسوس ہے کہ تم غریب اور میرے فین ہی رہو گے۔ میں آپ کو سچ بتانا چاہتا ہوں کہ وزیراعظم بننے سے پہلے میرا خیال تھا کہ میں اس ملک کی حالت بدل کے رکھ دوں گا اور وہ بھی صرف چند دنوں میں۔ لیکن میرا خیال بالکل ہی غلط نکلا۔ اب…

Read more

اجی ریپ، شادی اور زنا بالرضا میں آخر فرق ہی کیا ہے؟

یہ جو نیا فساد ڈالا دیا ہے ناں ان بے غیرت، کافر سازشیوں نے عورت کی مرضی والا، اس سے ساری گڑبڑ ہو گئی ہے۔ ورنہ ہم مرد تو عورت پر شادی کا احسان دھرتے ہوئے بہت باریکیوں میں نہیں جاتے تھے۔ دلہن کی عمر کیا ہے؟ دولہا کی عمر کیا ہے؟ کیا وہ ایک…

Read more

ایک غیرت مند بھائی کا اپنی بہن پر مضمون

اول تو میری کوئی بہن نہیں ہے اور اگر ہے بھی تو کسی کو اس سلسلے میں سوچنے کی بھی جرات نہیں ہونی چاہیے، کوئی سوال یا مضمون تو بہت دور کی بات ہے۔ ہاں چلو اگر بہن ہے تو میں خفیہ طور پر یہ مضمون لکھ دیتا ہوں۔ کہیں ایسا نہ ہو کہ یونیورسٹی…

Read more

یہود و ہنود کی سازشیں، سچ بولنے کی ذمہ داری اور ایک سچی گواہی

وہ (میں زید حامد صاحب کی بات نہیں کر رہا) ہمارے ملک کے مایہ ناز عالم دنیا و آخرت اور تجزیہ نگار ہیں۔ اعلی حضرت میرے پسندیدہ سٹینڈ اپ کامیڈین بھی ہیں (پاکستانی سٹیج فن کاروں سے معذرت کے ساتھ کیونکہ فن کار مزاح نگاری کرتے ہیں، جھوٹ نہیں بولتے ) ۔ وہ کرسی پر بیٹھ کر نجی ٹی وی چینل پر کامیڈی شو کرتے ہیں۔ میں ان کے ٹی وی شوز یو ٹیوب پر دیکھتا ہوں اور بہت محظوظ ہوتا ہوں۔ ایک سے بڑھ کر ایک کلپ۔ ایک سے بڑھ ایک کھوکھلی اور بودی دلیل کو اپنی بے ربط گفتگو میں یوں پروتے ہیں کہ سننے والا بوکھلا جاتا ہے۔

ان کے اعتماد کی داد دینی پڑتی ہے۔ پھر ان کھوکھلی اور بودی دلیلوں کو اپنی اونچی آواز اور مصنوعی جذبات کا تڑکا لگاتے ہیں اور سامنے بیٹھے ہوئے نوجوان ٹی وی اینکر پر چھا جاتے ہیں۔ وہ نوجوان اینکر اسی تازہ اثر کے تحت سر خم تسلیم کرتا ہے اور ہمارے مایہ ناز عالم دنیا و آخرت کا ہی دیا ہوا اگلا سوال ایسے پڑھنا شروع کر دیتا ہے جیسے اس نے یہ سوال خود تیار کیا ہو۔ اور ماہر تجزیہ نگار صاحب بھی کمال مہارت سے ہر سوال پر سرپرائز کا سا تاثر دیتے ہیں۔ اور اینکر کو موڈ کے مطابق ڈانٹتے ہیں یا خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔

Read more

کھاتے پیتے لبرل گھروں کی مادر پدر آزاد عورتیں

وہ خوب صورت، آزاد خیال، سگھڑ، پڑھی لکھی اور ذمہ دار تھی اور ایک ماڈرن تہذیب یافتہ مڈل کلاس گھر میں پیدا ہوئی تھی۔ یونیورسٹی تک بہترین تعلیم پائی اور اچھی ملازمت مل گئی۔ شادی کے سلسلے میں بھی کوئی پابندی نہ تھی اور اپنی پسند کے لڑکے سے شادی ہو گئی۔ سسرال کا ماحول…

Read more

لوز کریکٹر لڑکی اور جنسی ہراسانی کی ایک ڈھیلی تفتیش

میڈم نے دفتر جوائن کیا۔ بڑی سوہنی تھی اور اسے اس بات کا پتا بھی تھا۔ میں نے بھی پہلی فرصت میں اسے بتایا تو وہ کہنے لگی کہ مجھے اپنے سوہنے ہونے کا علم ہے۔ میں اس کی اس بے تکلفی اور آزاد خیالی پر خوش تو ہوا لیکن تھوڑا سا ڈر بھی گیا۔ بڑی منہ زور اور منہ پھٹ تھی۔ دل ہی دل میں اسے زیر کرنے کا جذبہ پیدا ہوا۔ میں شادی سمیت سب کچھ کر گزرنے کو تیار تھا۔

میں نے بڑے خلوص سے یہ بھی سوچا کہ اس بیچاری کو یقینا مالی مجبوری ہو گی کہ نوکری کے لیے اسلام آباد چھوڑ کر اتنی دور آ گئی ہے۔ اور شادی تو اس کی بہرحال نہیں ہو سکی تھی۔ مجھے یقین ہے کہ اس معاملے میں وہ اور اس کے گھر والے بہت پریشان ہوں گے۔

خیر دفتر کی روٹین چل پڑی۔ دفتر میں دل لگا رہتا۔ ہم کام بھی کرتے اور انہیں گھورتے بھی رہتے۔ انہیں دیکھ کر مجھے گنگنانا بھی آ گیا۔ میں خوش تھا اور ظاہر ہے کہ اس کے اندر بھی لڈو پھوٹتے رہتے تھے۔ اچھا بتاتا چلوں کہ تھی وہ میری باس۔ اندر پھوٹنے والے لڈو چھپاتی رہی اور نخرے کرتی رہی۔ مجھے تو پھر نخرے اچھے لگتے ہی تھے۔

Read more