الطافِ صحافت

”الطافِ صحافت“ کے لیے پہلا شکریہ تو مجھے ڈاکٹر طاہر مسعودصاحب کا ادا کرنا ہے۔ مگر ٹھہریے کتاب پر بات کرنے سے پہلے کچھ کہنا ہے کہ ڈاکٹر صاحب سے ابھی تک میری براہ راست ایک بھی ملاقات نہیں ہوئی۔ ٹیلی فونک رابطہ بھی بس دو تین کالوں تک ہی محدود رہاہے۔ مگر اِن کالوں یا ملاقاتوں سے کیا فرق پڑتا ہے۔ دراصل میں اپنے طور پر سمجھتی ہوں کہ میرے اور ان کے درمیان ایک گہرا ناتہ اور واسطہ اُس درد کے حوالے سے ہے جو کبھی مشرقی پاکستان کہلاتا تھا اور جہاں کی وہ جم پل تھے اور جس کے فراق کا اظہار مجھے کہیں کہیں اردو ڈائجسٹ میں اُن کی تحریریں پڑھنے سے ملتا تھا۔ مشرقی پاکستان جو میری بھی محبت تھی اور جس کو جاننے اور سمجھنے کے لئے میں بھی وہاں گئی تھی۔

Read more

لینن کی بیوی کرپسکایا کیسی شخصیت تھی

انیس ہارون کی آپ بیتی میں فہمیدہ ریاض کا بہت ذکر ہے۔ دوستی تھی دونوں میں۔ ترقی پسند نظریات میں بھی دونوں ہم رائے اور ہم نوا تھیں۔ لینن سے بڑی عقیدت اور روس سے وابستگی تھی۔ ایک جگہ انیس لکھتی ہیں کہ انہیں اپنے شوہر سے بہت محبت تھی۔ میاں کا کام کرنے سے وہ خوشی محسوس کرتی تھیں۔ یہاں فہمیدہ انہیں لتاڑتی تھیں۔ ستی ساوتری جیسے طعنوں سے نوازتی تھیں۔

دراصل یہ سوچ فہمیدہ کے ہاں ہی نہیں بلکہ بیشتر ترقی پسند خواتین کے ہاں غالب نظر آتی ہے۔ میرے خیال میں یہ بچگانہ سوچ ہے۔ انسانوں میں محبت کا جذبہ اُن کی بنیادی جبلت ہے۔ اگر جوڑے میں پیار ہے تو ایک دوسرے کا کام کرنے میں کیا شرمندگی اور کیا توہین۔ چلئے عظیم مسلمان عورتوں کا اس ضمن میں کیا کردار تھا اُسے تو چھوڑئیے۔ اُن کے اپنے لیڈرلینن کی بیوی کرپسکایا جو رول ماڈل کی صورت میں ان عورتوں کے سامنے ہے۔ اُس کی ازدواجی زندگی کی جھلکیاں دیکھئیے کہ وہ بطور بیو ی کس قدر محبت کرنے والی، کتنی باوفا، ہمدرد، کتنی غم گسار، غریبی اور دُکھ کے دنوں میں ہر لمحہ ساتھ دینے والی شوہر کی طبیعت اور مزاج کی نرمی گرمی برداشت کرنے والی۔ کیسی عظیم عورت تھی۔

Read more

سندر بن کے جنگلات، عید اور میں

یہ دسمبر 1969 کا رمضان ہے۔ ڈھاکہ یونیورسٹی بندہے۔ رقیہ ہال میں بشمول میرے خال خال لڑکیاں رہ گئی ہیں۔ کچن کی بوڑھی دادیوں کو میری سحری افطاری کا بڑا فکر رہتا ہے۔ اُنہیں میری عید کی بڑی فکر ہے۔ یہ جاننے پر کہ میں عید منانے اپنی دوست کے ساتھ باریسال سے بیس میل دور صاحب رائے گاؤں جارہی ہوں اُن کے چہروں پر طمانیت بھری مسکراہٹ پھیل گئی ہے۔ یہ ممتا سے بھری بوڑھیاں جنہیں بنگالی، بہاری، پنجابی کی سیاست سے کچھ سروکار نہیں۔ بس محبت میں لُتھڑی انسانیت کے ماتھے کا جھومر کیسے اس وقت بے طرح یاد آرہی ہیں۔

اس بوڑھے ڈرل ماسٹر کی یاد نے بھی آنکھیں بھگو دی ہیں۔ عصر سے افطاری تک آڈیٹوریم کے چکنے فرش پر میری دھواں دھار قسم کی اسکیٹنگ اُسے مضطرب کیے رکھتی۔ ”بس کرو۔ روزہ ہے تمہارا اور ہاں عید کرنے گھر جاؤ گی۔ “ نہیں تو۔ اپنے گھر ہی تو عیدیں کرتے کرتے اتنی بڑی ہوئی ہوں۔ اس بار تو پوربو دیس میں عید ہوگی۔ ”میری بات پر وہ کھل اٹھتا ہے۔ لفٹ مین نورالزماں، گیٹ کے دربان نومی اور مونو، دھوبی، موچی جن سب سے میری محبتیں تھیں۔ میری پوربو پاکستان میں عید منانے کو مسرت بھرے جذبوں سے سراہ رہے ہیں۔ شوق وارفتگی کے جذبات میرے بھی انگ انگ سے پھوٹ رہے ہیں۔

Read more

مشرقی پاکستان اور دادی امّاں کی کھٹی میٹھی یادیں

پاکستان کی نئی نسل کی ایک اکثریت شاید یہ جانتی ہی نہ ہو کہ آج کا بنگلہ دیش کبھی اِس ملک کا حصّہ تھا۔ اس کا بازو تھا۔ اس کا مشرقی پاکستان تھا۔ ہماری جوانی میں یہ ہمارا پوربو پاکستان تھا۔ جہاں خوبصورت جزیرے تھے۔ حسین آبشاریں گنگناتی ندیاں اور دریا تھے۔ جس کے بے…

Read more

بگڑیاں تگڑیاں دا یار ڈنڈا

کچھ رولا رپا تو اِس جہالت کا تھا جو اکہتر سالہ اِس پاکستانی وجود پر ابھی بھی آکٹوپس کی طرح چمٹی ہوئی ہے۔ کچھ کو برصغیر کے صدیوں پرانے طبقاتی تقسیم کے اُس نظریے کے کھاتے میں ڈال دیں جہاں شودر اور دلت جیسی ذاتیں برھماکے پاؤں سے نکلی ہوئی ہوتی ہیں۔ پچاس برس قبل…

Read more

افغان عورتوں کی رومانی اور مزاحمتی شاعری

افغانستان میں عورتوں کی شاعری کبھی قابل قبول نہیں رہی۔ اِسے ماننا یا سراہنا یا اس کی حوصلہ افزائی کر نا تو بہت دور کی بات ٹہری یہ اُن کے لئے شجر ممنوعہ ہی نہیں اسے ایک جرم اور گناہ گردانا جاتا رہا ہے۔ یہ کوئی طالبان دور کی بات نہیں ایسا صدیوں سے ہو…

Read more

اورنج ٹرین والے تمہیں ہم یاد کرتے ہیں

ہاں میں تمہیں یاد کرتی ہوں۔ ہر روز باقاعدہ صبح 8اور 9بجے کے درمیان۔ تم نے کام ہی ایسا کیا ہے؟ کہ جب میں ملتان روڈ پر چڑھتی ہوں۔ بے ساختہ میری نظر یں اوپر اٹھتی ہیں۔ اونچے اونچے دیوہیکل کالموں پر بچھی ناک کی سیدھ میں چلتی ٹرین کی پٹڑیوں کی سلیبیں دور تاحد…

Read more

مساجد میں عورتوں کا داخلہ، ان کی امامت اور امام ابو حنیفہ

زکریا ورک نے اپنے حالیہ مضمون میں مغربی ممالک کی مساجد میں عورتوں کے مسجدوں میں داخلے پر مساجد کی انتظامیہ کی طرف سے ردّعمل اور عورتوں کی امامت بارے جس طرز عمل اور فکر کے بارے لکھا ہے اس نے تحریک دی ہے کہ کچھ لکھوں۔ جہاں تک پہلے حصّے کا تعلق ہے یہ…

Read more

ہم جیسے ماٹھے لوگوں کی توقعات

ہم چھوٹے ناکارہ ماڑ ے موٹے اور ماٹھے سے لوگ، جو اس ملک کی کرسیوں پر نئے بیٹھنے والوں سے کیسی کیسی انقلابی امیدیں وابستہ کر لیتے ہیں۔ خواب بننے لگتے ہیں۔ ہتھیلی پر سرسوں اُگانا چاہتے ہیں۔ ہماری تمنا ہوتی ہے کہ ہر رات جب آنکھیں بند کریں اور صبح دم جب یہ کھلیں…

Read more

سوویت انقلاب، سٹالن اور اس کی بیٹی سوتلانہ

پیٹرز برگ میں میرے حسابوں خریدنے کی اگر کچھ چیزیں تھیں تو وہ کتابیں تھیں۔ اور وہ میں نے خریدیں ”Stalin Russia“بھی انہی میں سے ایک تھی۔ عید کی چھٹیاں تھیں۔ ایک نیا وزیراعظم ملک پر براجمان ہوا ہے نئے عزائم کے ساتھ۔ گو دونوں میں کچھ ایسی مماثلت بھی نہیں ہے۔ تاہم کتاب میرے…

Read more