بدصورتی کی کشش – میری ڈائری سے

معاشرے کی بدصورتی پر لکھو تو ذات پر وہ کیچڑ اچھالا جاتا ہے کہ اپنے آپ سے بو آنے لگے۔ بالکل ایسے کہ جیسے چہرہ مسخ ہو اور آئینہ پہچانے سے انکار کردے۔ پر عورت تو ہے ہی فتنہ اور اس کا قلم اس سے بڑا فتنہ۔ آزادی کا شعور اگر ایک قلم کار عورت میں آگیا تو بڑے ترقی یافتہ اذہان جو سامنے واہ واہ کے پل باندھتے نہیں تھکتے، وہ بھی خوف کھانے لگے ہیں کہ کہیں اس کے لفظوں کا سایہ ہمارے گھر ہی اثرات نہ چھوڑ جائے، کہیں ہماری بیٹی بیوی، محبوبہ ترقی کا راگ الاپتی ہوئی ہمارے ہاتھوں سے نکل گئیں، پھر کیا ہو گا۔

سو چوری چوری کہتے ہیں ”بی بی بات تو آپ کی سو ٹکا درست ہے، لیکن احتیاط سے آپ کے آگے بھی بچیاں ہیں اب زنانیوں کو وہ پاٹ بھی ناں پڑھائیں کہ ہماری آزادی سلب ہوجائے۔ “
ہیں ں ں ں ں ں کیسی آزادی؟

”بس ہوتے ہیں کچھ معاملات زندگی کے۔ اب مرد کھل کر تو نہیں بولے گا ناں۔ “
ہاں جیسے آپ ابھی پرائیویٹ پیغام کی صورت میں ایک زنانی کو لفظوں کا خوف دلاکر اپنی پوری مردانگی ظاہر کرنے میں جتے ہوئے ہیں۔ یہی آزادی نا؟

”سیکچول موضوعات، ہراساں کرنا، بچوں کے ساتھ زیادتی، لڑکوں کے ساتھ بدفعلی، کسی معاشرے میں اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے خواتین کا استحصال، نوجوان لڑکیوں کو من پسند شوہر کا انتخاب کرنے کی آزادی۔ یہ موضوع خواتین کے لکھنے کے قابل نہیں۔ صرف آپ سانس نہیں لیتیں یقیناً آپ کے بچے بھی ہیں، ان کو آگے چل کر آپ کے لفظوں کا طعنہ ملے گا پھر کیا جواب دیں گی آپ۔ وہ دیکھا آپ نے خواتین کی ہم جنس پرستی پر لکھی گئی آپ کی تحریر پر کیسے ٹھٹھا ہوا۔

Read more

آپ کا کیا ہوگا جنابِ عالی؟زرداری صاحب ذرا بچ کے

کیا کہا سونامی؟ جی ہاں آچکا۔ نہیں اس سونامی سے مراد عمران خان صاحب کا اقتدار میں آنا نہیں۔ قصہ مختصر یہ ہے کہ پاکستان اس وقت سیاسی سونامی کی لپٹ میں ہے جو تمام سیاسی جماعتوں کی مرکزی قیادت کو بہاکر لے جائے گا۔ پی ٹی آئی کی حکومت کا عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کی…

Read more

صحافیوں کی غیر منصفانہ برطرفیاں، پسِ پردہ حقائق کیا ہیں

ملک میں ”تبدیلی حکومت“ کے ساتھ جہاں سب کچھ تبدیل ہوا وہاں میڈیا انڈسٹری کے حالات میں بھی تبدیلی رونما ہوئی۔ مشرف دور میں کھمبیوں کی طرح اُگنے والے نیوز چینلزکوخوش آمدید کہا گیا۔ لیکن پھر مشرف کے خلاف چلنے والی تحریک اور اس میں میڈیا کا کردارکسی سے ڈھکاچھپانہیں ہے۔ شاید اس وقت ہی اسٹیبلیشمنٹ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ اب میڈیا کو مزید آزادی دینے کی ضرورت نہیں۔ لیکن نواز شریف اور زرداری کی حکومتوں کے باعث بعض نئے چینلز کی آمد اور کچھ کا بند ہونے کا سلسلہ جاری رہا۔ دوہزارآٹھ کے انتخابات اور میڈیا ہاؤسز کی پالیسی کی واضح تقسیم کے بعدیہ طے کرلیا گیاتھا کہ اب میڈیا ہاؤسز کی ضرورت نہیں ہے وجہ صاف تھی کہ کافی کام تو اعلی عدلیہ سے ہی نکال لیا جائے گا۔

Read more

کراچی کا سیاسی وارث کون؟ ہے کوئی؟

کراچی کی سیاست ہمیشہ سے ہی مزاحمتی اور پاکستان کے دوسروں میٹروپولٹن شہروں سے الگ رہی۔ ایوب خان ا ور ضیاء الحق کی آمرانہ حکومتوں کے خلاف جدوجہد میں قائدانہ کردار رہا۔ لیکن شہر میں لسانی اور فرقہ ورانہ تقسیم کو بھرپور انداز میں سیاسی طریقے سے استعمال کیا اور شہر کی ترقی کو الٹا گئیر لگادیا گیا۔ شہر کی تباہی کی ایک لمبی کہانی ہے۔ لیکن آج بات ہے 2018 کے عام انتخابات اور ایم کیو ایم لندن کی سیاست سے چھٹی کے بعد کراچی کی جب سیاست کا ایک نیا چہرہ سامنے آیا ہے۔

Read more

اسرائیل کی طرف سے حماس کے کمانڈروں کی ٹارگٹ کلنک کا سلسلہ

غزہ کی چھوٹی سی پٹی اور اس پر بسنے والے چند لاکھ افراد ہر کچھ عرصہ بعد آگ اور خون میں نہا جاتے ہیں۔ انسانیت کی بھیانک تصویر پیش کرتے فلسطینیوں کے درندہ صفت دشمن اپنے نوکیلے ناخنوں سے لاشے تک نوچ لیتے ہیں۔ غزہ میں رواں سال تین مارچ سے شروع ہونے والے مظاہروں میں اب تک ایک سو بارہ فلسطینی شہید اور تقریباً تیرہ ہزار زخمی ہوئے ہیں اور ان میں شہید ہونے والے تیرہ، اور زخمی ہونے والے اکیس سو بچے ہیں۔ یہ ہلاکتیں زیادہ تر سرحد پر ان کی جانب سے آبائی علاقوں میں لوٹنے کے حق کے لیے کیے جانے والے احتجاج کی وجہ سے کی جا رہی ہیں۔ صہیونیت کی ڈائن، مادر شکم میں سانس لیتے بچوں کو بھی چبا جاتی ہے۔ ایسے حالت میں ہماری قومی اسمبلی میں دبے لفظوں میں اسرائیل کے حق میں بیان آنا شرمناک ہے۔

اسرائیل کی حالیہ وحشیانہ کارروائیوں میں خاص طور پر حماس کے کمانڈروں کو نشانہ بنایا جارہا ہے۔ حالیہ مہینوں اسرائیلی فوج کی حماس اور حماس کی ذیلی تنظیموں کے درمیان میں دوطرفہ کشیدگی بڑھتی جا رہی ہے۔

Read more

وہ سائٹس جو ڈاکٹروں کے لیے سودمند ثابت ہوسکتی ہیں

سوشل میڈیا ہر شعبہ زندگی سے وابستہ افراد کے لیے وسیع تر امکانات رکھتا ہے۔ اس حوالے سے اگر شعبہ طب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی بات کی جائے تو ہمارا مشاہدہ ہے کہ اکثر ڈاکٹر اس فکر میں مبتلا نظر آتے ہیں کہ سوشل میڈیا کو کس طرح اپنی پریکٹس کے سلسلے میں سودمند طریقے سے استعمال کیا جائے۔ دوسری طرف ڈاکٹروں کو اس پریشانی کا سامنا رہتا ہے کہ امراض میں مبتلا افراد اور دیگر لوگ فرصت کے لمحات میں بھی انھیں چین نہیں لینے دیتے۔

ایسے لوگ سوشل نیٹ ورکنگ سائٹس پر ڈاکٹروں کو میسیج کرکے اور اپنے صحت کے مسائل سے متعلق سوالات کرکر کے ڈاکٹروں کا ناک میں دم کردیتے ہیں۔ یہاں ہم ڈاکٹروں کی سہولت کے لیے کچھ قاعدے اور ضابطے تحریر کر رہے ہیں، جن پر عمل کرکے وہ سوشل میڈیا کو پیشہ ورانہ طور پر اپنے لیے سودمند بناسکیں گے اور خود کو ہونے والی پریشانی سے نجات دلاسکیں گے۔ ان مشوروں اور تجاویز پر عمل کرنے سے مختلف امراض میں مبتلا افراد کو بھی فائدہ ہوگا۔

Read more

سوشل میڈیا کا شہرِطلسم

اکیسیویں صدی میں ہم سوشل ویب سائٹس کے شہرِ طلسم میں جی رہے ہیں۔ ہم روز بروز سماجی ویب سائٹس کے سحر میں جکڑے چلے جارہے ہیں اور غیرمحسوس طور پر ان کی ذہنی غلامی میں مبتلا ہوچکے ہیں۔ سوشل ویب سائٹس جہاں لوگوں کو ایک دوسرے کے قریب لائی ہیں، وہیں یہ ایسی زمینیوں…

Read more

بھارتی فوج میں خواتین کی بطور سیکس ورکر بھرتی کا انکشاف

مقبوضہ کشمیر میں ستمبر 2009 میں جب بھارتی فوجیوں میں خودکشی کرنے والوں کی تعداد میں خطرناک اضافہ ہوا تو ”را“ کی طرف سے ایک شیطانی پلان ترتیب دیا گیا، جس کے تحت بھارتی فوج میں خاتون فوجیوں کو بڑی تعداد میں بھرتی کیا گیا، جنھیں سرحدی گارڈوں کے طور پر نوکری دی گئی۔

افسوس کا مقام یہ ہے کہ ان خواتین کو بھارت سرکار کی فوجی ضرورتوں کے تحت نہیں بلکہ سیکس ورکر کے طور پر بھرتی کیا گیا تھا، جس کا مقصد کشمیر میں موجود فوجیوں کو تفریح فراہم تھا۔ سوچنے کا مقام یہ ہے کہ جس معاشرے میں عورت کو نحس وجود تصور کیا جاتا ہو وہ ملک اچانک ایک بڑی تعداد میں خاتون فوجیوں کو کیسے بھرتی کرسکتا تھا۔ معاملہ یونہی چلتا رہتا لیکن صورتحال اس وقت ابتر ہوگئی جب ایک خاتون فوجی جنسی زیادتی کے بعد حاملہ ہوگئی اور حمل ضائع کرنے کی سہولیات سے محروم ہونے کے باعث اسے اسی حالت میں ڈیوٹی انجام دیتے ہوئے پایا گیا، جس کے بعد معاملے کی تحقیقات کا حکم دیا گیا اور اس کے نتیجے میں یہ دل دہلانے والی حقیقت سامنے آئی کہ بارڈر پر اپنے فرائض انجام دیتی 178 خاتون فوجیوں میں سے 63 غیر محفوظ جنسی سرگرمیوں کی وجہ سے سنگین طبی مسائل کا شکار ہیں۔

لیفٹیننٹ جرنل راج کمار اس کمیٹی کے ہیڈ تھے جس کی سفارشات کے نتیجے میں فوجی خواتین کو سیکس ورکر کے طور پر فورس میں تعینات کیا گیا تھا، تاکہ وہاں موجود مرد فوجیوں کو خوش کیا جاسکے۔ اس سارے منصوبہ کو سابق آرمی چیف دیپک کمار کی سرپرستی حاصل تھی۔ اس حوالے سے انھوں نے وزیردفاع سے مشاورت کو بھی ضروری ن سمجھا۔ اس انسانیت سوز اقدام کی بنیادی وجہ یہ تھی کہ 2008 میں فوجیوں کی خودکشی اور اپنے ساتھیوں پر تشدد کے واقعات میں نمایاں اضافہ ہوا، جس کے باعث اب تک 151 خودکشی کے واقعات سامنے آچکے ہیں۔

Read more

مولانا سمیع الحق کا قتل۔ کس کی سازش؟

میں نوحہ کیسے لکھوں کہ لفظ میرا ساتھ نہیں دے رہے۔ یوں تو پورا پاکستان ہی دہشت اور وحشت کے ہرکاروں کی زد میں ہے، اس پر یہ سانحوں کا سلسلہ ہے کہ ختم ہونے ہی میں نہیں آتا۔ المیے ہیں کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ دہشت گردی کے عفریت نے ہمارے ملک…

Read more

جب لڑکوں کا ریپ ہوتا ہے

جنسی زیادتی کا نشانہ لڑکا بنے یا لڑکی، دونوں کی شخصیت ٹوٹ پھوٹ جاتی ہے، لیکن حیرت اور افسوس کا مقام ہے کہ لڑکوں پر ہونے والے اس ظلم کو قانوناً ریپ سمجھا ہی نہیں جاتا۔ تفصیل میں جانے سے پہلے میں اس معاملے کے کچھ پہلوؤں پر بات کرنا چاہوں گی۔ لڑکوں کا ریپ کرنے والے یا تو ’گے‘ ہوتے ہیں جنھیں صرف مردوں میں دل چسپی ہوتی ہے یا پھر ہو وہ مرد ہوتے ہیں جو کہ مرد اور عورت دونوں سے ہی اپنی جنسی خواہش کی تکمیل میں تسکین محسوس کرتے ہیں۔

یہ نہایت تشویش کی بات ہے کہ ہم اب بھی مردوں کے سیکچول ابیوز پر بات نہیں کرتے اور نہ ہی اس حوالے سے ہمارے ملک میں خاطر خواہ قوانین موجود ہیں جن کی بنیاد پر انصاف کی فراہمی کو یقینی بنانا جاسکے۔

ہمارے آس پاس کتنے ہی ایسے معزز افراد شرافت کا چولا پہنے موجود ہیں جو اس قبیح فعل میں ملوث ہیں لیکن وہ یہ جانتے ہیں کہ لڑکوں کے معاملے میں غیرت کا پہلو اتنا اہم نہیں لہٰذا ایسا کرنے میں انھیں کوئی دقت محسوس نہیں ہوتی اور نہ ہی وہ ایسے گھناؤنے فعل کو گناہ گردانتے اور شرمندہ ہوتے ہیں۔

عموماً دیکھا گیا ہے کہ جو مرد ریپ کا شکار ہوتے ہیں وہ اس بات سے انکار کرتے ہیں اور اپنے آپ کو دنیا کے سامنے نہیں آنے دیتے۔ ہاں اگر ایسی صورت حال میں جب کوئی بری طرح زخمی ہوجائے تب ہی طبی مدد لی جاتی ہے۔ گھر والوں کے علم میں اگر یہ بات آبھی جائے تو اسے چھپایا جاتا ہے۔ زیادہ سے زیادہ کوئی اقدام کرنا مقصود ہی ہوتو متاثرہ لڑکے کو اس شخص سے دور کردیا جاتا ہے جس کی وجہ سے یہ لڑکا اس حالت میں پہنچا ہے۔

Read more