پاکستانی ٹی وی چینلز پر “درآمد شدہ” تفریح کامسئلہ

پاکستانی سپریم کورٹ نے پچھلے دنوں حکم دیا تھا کہ پاکستانی ٹی وی چینلز بھارتی مواد نہ دکھائے۔ ان کے مطابق انڈین کنٹینٹ پاکستانی معاشرے سے مطابقت نہیں رکھتا اور خطرہ ہے کہ یہاں ان کے برے اثرات مرتب ہوجائے۔ ایسا حکم نامہ پہلی بار سامنے نہیں آیا ہے۔ اس سے پہلے پیمرا کئی دفعہ چینلز کو منع کرچکی ہے کہ وہ مقامی پروڈکشن دکھائے۔

ہماری زندگی کے لئے تفریح کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ ڈرامہ، فلم اور موسیقی تفریح کے اہم ذرایع ہیں۔ ان سے آپ بیک وقت کئی کام لے سکتے ہیں۔ ذہنی تناؤ کے اس دور میں ایک اچھی مووی، ڈرامے یا موسیقی سے آپ کی اعصابی تھکن کم ہوسکتا ہے۔ اہم موضوعات کو اس کے ذریعے اجاگر کرسکتے ہیں۔ تعلیم وتربیت (خصوصا بچوں کی) کراسکتے ہیں۔

Read more

سیکولرز کو سپیس دیں

ریاست کی ابتداء بارے سب سے مستند نظریہ یہ ہے کہ یہ عمرانی معاہدے کے نتیجے میں وجود میں آئی۔

روسو، تھامس ہوبس وغیرہ نے قبل از ریاست کے زمانے کو فطری حالت (state of nature) کہا ہیں۔ ان کے مطابق لاقانونیت، انارکی سے تنگ باشندوں نے باہمی مشورے سے اپنے اپنے حقوق و فرائض متعین کیے جن کو ممکن بنانے کے لئے ریاست، حکومت، حاکم اور شہری کا نظام ترتیب دیا۔ اور سٹیٹ۔ آف۔ نیچر کا خاتمہ کردیا۔

اس معاہدے میں افراد کو ریاست کے تابع کرکے ان کے انفرادی حقوق کو ریاست کے حوالے کیا گیا۔ ان کو توقع تھی کہ ریاست تمام شہریوں سے کسی تفریق کے بغیر ایک جیسا سلوک کرے گی۔ یوں اپنے انفرادی حقوق ریاست کو دے کر انہوں نے ریاست کو ضامن بنایا۔

Read more

لیویز :پہلی صف کے سپاہی، آخری درجے کے شہید

اس ملک کے شہید بھی طبقاتی تقسیم کا شکار ہیں۔ پولیس/ آرمی کے شہیدوں کو پہلے درجے جبکہ قبائلی علاقوں میں تعینات لیویز کے شہداء کودوسرے درجے میں رکھا جاتا ہیں۔

قبائلی علاقوں میں تعینات لیویز فورسز نے نہایت کٹھن وقت میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں ہیں۔ جب قبائلی علاقے طالبان کے زیر تسلط تھے تو یہی لیویز اہلکار تھے جنہوں نے ان کے خلاف پہلا مورچہ سنبھالا اور یہی جوان اور افسران تھے جو ان کے خلاف لڑتے ہوئے شہید ہوئے۔ دہشت گردی کے خلاف لڑکر مرنے والا ہر شہید اس قوم کا ہیرو ہے لیکن لیویز کے شہید اس لحاظ سے منفرد مقام کے حامل ہیں کہ یہ اس میدان جنگ میں کھڑے تھے جہاں یہ جنگ شروع ہوئی اور جہاں یہ عملی طور پر لڑی جارہی تھی۔

Read more