پوائنٹ آف نو ریٹرن اور یو ٹرن

جمہوریت کا خاصہ ہی یہی ہے کہ تمام معاملات باہمی افہام و تفہیم سے چلائے جاتے ہیں۔ اور اس نظام کی خوبصورتی دیکھیے کہ اس میں مختلف اہم تعیناتیوں کے لیے اپوزیشن کو بھی ساتھ لے کر چلنا پڑتا ہے جیسے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ کا معاملہ لٹکا ہوا ہے۔ اس میں حکومت…

Read more

ڈی جی نیب اور افسر تعلقات عامہ میں فرق ہوتا ہے

جمہوریت کا حسن اداروں کی مضبوطی میں ہے اس میں کوئی شک نہیں لیکن اداروں کا انظام و انصرام بعض اوقات نہ سمجھ میں آنے والا ہو جاتا ہے۔ جیسے آج کل نیب کا ہوا ہے۔ نیب کا ادارہ شفافیت کے اعلیٰ معیارات پائے، یہاں ملکی پیسہ لوٹنے والوں کا حساب ہو، یہ ادارہ ملک سے کرپشن ختم کرنے کا باعث بن جائے تو اس سے بڑھ کے اس ملک کے ساتھ نیکی بھلا کیا ہو سکتی ہے۔ لیکن نیب جیسا اہم ادارہ نہ جانے مشاورت کے کون سے پہلوؤں کے تحت خود کو متنازعہ ٹھہرا کے شاید اپنے معاملات میں سہولت محسوس کرنے لگا ہے۔

سب سے پہلی بات کہ اداروں میں زبان نہیں بولتی بلکہ قلم بولتا ہے اور قلم بھی ایسے بولتا ہے کہ بہت سوں کی زبانیں گنگ ہو جائیں۔ تب ہی تو جمہوریت کا حسن برقرار رہتا ہے بلکہ یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ جمہوریت سدا سہاگن رہتی ہے۔ لیکن جب قلم کے بجائے زبان بول رہی ہے تو پھر معاملات میں ایک کرختگی آنا شروع ہو جاتی ہے۔ چاہے زبان ٹھیک بھی بولے تو بھی درست شاید نہیں کہ جہاں زباں کا بولنا مقصود ہی نہیں وہاں غصہ نکالنے کا جب آپ کے پاس دوسرا اختیار موجود ہے تو زبان سے الفاظ کی ادائیگی کر کے اپنی کم مائیگی کا ساماں کیا ہی کیوں جائے۔ یہ مجھے کوئی سمجھا دے یا خود سمجھ لیں۔

Read more

سرخ قالین، تھر کے مور اور بھوکی لاشیں

رویے جب ایوانِ اِقتدار میں پہنچتے ہی تبدیل ہونا شروع ہو جائیں تو مہر ثبت ہو جاتی ہے کہ اقتدار ”تھوہڑ دِلوں“ کے ہاتھ لگ گیا ہے۔ سونے پہ سہاگہ جب عوامی دھوکہ دہی کو تبدیلی کا لبادہ اوڑھا کہ اسے سر بازار رونمائی کو کہا جا رہا ہو تو توقعات و امیدوں کے مینار…

Read more

تبدیلی سرکار کو زناٹے دار جواب

پاکستان میں عام انتخابات میں تو بسا اوقات اپ سیٹ مقابلے دیکھنے کو ملتے ہیں۔ لیکن ضمنی انتخابات میں ایسا ہونا قریب قریب نامکن ہی سمجھا جاتا ہے۔ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ بے شک حکومتی وزیر ، مشیر، اراکین ضمنی انتخابات میں حصہ لینے والے امیدوار کی براہ راست…

Read more

سینئر صوبائی وزیر صاحب میں آپ سے مخاطب ہوں

راقم ہی نہیں عرصے بعد کسی کا بھی جانا اگر چک شہزاد کے راستے ایک پرائیویٹ ہاؤسنگ سوسائٹی کی طرف راستے پہ جانا ہو تو خوشگوار حیرت ہوتی ہے کہ راستہ کس قدر شاندار اور وسیع ہو گیا ہے۔ گاڑی فراٹے بھرتی ہوئی جاتی ہے۔ ایک دور تھا جب اس راستے کی قسمت ابھی نہیں…

Read more

چارٹرڈ طیارہ کمرشل فلائیٹ سے سستا ہے

پاکستان تحریک انصاف کو تبدیلی کے صرف نعرے پہ ہی ووٹ نہیں پڑئے بلکہ عوام کو امید ہے کہ یہ نعرہ وہ اپنی حقیقی شکل میں عملی صورت میں نافذ بھی کریں گے کہ جس سے عوام کو اپنے ووٹ دینے پہ افسوس نہیں ہو گا۔ اور ابھی تک تو صورت حال نہایت حوصلہ افزاء…

Read more

ٹھنڈا کر کے کھائیے

پرانے وقتوں میں جب بھی کچھ گرم کھا لیتے اور خاص طور پہ حلوہ اور تالو میں اٹکانا مشکل ہو جاتا اور ہکلاتے ہاتھ جھٹکتے یا تو باہر اُگل دیتے یا حلق سے نگلنے میں بھی جو دقت ہوتی وہ چہرے پہ عیاں ہو جاتی تو بڑے بوڑھے اکثر اوقات چپل دے مارتے اور ساتھ…

Read more

وزیر اعظم کا دورہ جی ایچ کیو اور ہمارے صحافی

پاکستان میں سول ملٹری تعلقات ہمیشہ سے ایک ایسا موضوع رہا ہے جو نہ صرف صحافت کے گرو حضرات کے لیے نہایت سنجیدہ بحث کا سبب رہا ہے بلکہ صحافت کے طالبعلموں کے لیے بھی یہ دلچسپی سے خالی نہیں۔ ایوب خان دور کے بعد سے سول ملٹری تعلقات میں اتار چڑھاؤ دیکھنے میں آتا…

Read more

اوئے سلیم صافی… تیری۔۔۔۔۔۔

میں نہ صرف تمام قارئین سے معذرت خواہ ہوں بلکہ میں خود بہت شرمندہ بھی ہوں. جب میں جانتا تھا کہ ہم ایک ایسے معاشرے میں سانس لے رہے ہیں جس میں دلیل مر چکی ہے تو مجھے سلیم صافی کو صاحب کہہ کے مخاطب ہی نہیں کرنا چاہیے تھا کہ جس کی جانب آج…

Read more

یہ سلسلہ سلیم صافی تک رکے گا نہیں

سینئر صحافی سلیم صحافی نے ایک ایسی شخصیت کے حق میں بیان داغ دیا جو اس وقت زیر عتاب ہیں۔ میاں محمد نواز شریف۔ اور بیان بھی ایسے وقت میں دے دیا جب وفاق میں تحریک انصاف کی حکومت بن چکی ہے کہ جو جماعت سوشل میڈیا کے عفریت کا استعمال پوری طرح جانتی ہے۔…

Read more