کیا ہمیں ہائر ایجوکیشن چاہئے؟

ہمارے ہیڈ ماسٹر صاحب کا پورا تعارف تھا محی الدین شمیم صدیقی ایم اے بی ٹی (علیگ) لیکن اسکول کے لڑکے کسی وجہ سے انہیں ’پوپٹ‘ کہہ کر یاد کرتے۔ خیر، کالم کا نکتہ آغاز اُن کا ’نِک نیم‘ نہیں، بلکہ دورانِ گفتگو لفظوں کا وہ زندہ اتار چڑھاؤ ہے، جس کی بدولت شمیم صاحب…

Read more

آدھی صدی پہلے مضافات کی عید

شاعر مشرق کے ہم وطن اور پچھلی صدی کے وسط تک مرے کالج، سیالکوٹ میں فارسی کے نامور استاد حکیم جمشید علی کبھی کبھار علامہ کی بے پناہ مقبولیت سے حیرت زدہ ہو کر یہ شکوہ کیا کرتے کہ ’’میں بھی ایم اے، پی ایچ ڈی اور ڈاکٹر اقبال بھی ایم اے، پی ایچ ڈی۔۔۔…

Read more

ووٹ ایوب خان کو دیا، دعا مائی فاطمہ کے لئے

شعر تو بلاشبہ دلاور فگار ہی کا ہے ، مگر یاد آ رہے ہیں پروفیسر زمرد ملک جو انگریزی زبان و ادب کے استاد تھے اور منفرد لہجہ کے پنجابی شاعر۔ چھیالیس سال کی عمر میں جب دنیا سے گئے تو ’دُور درشن‘ پر اُن کی یاد میں ہونے والے پروگرام کی میزبانی امرتا پریتم…

Read more

علامہ اقبال اور احترام رمضان آرڈیننس

رمضان المبارک میں مجھ جیسے کمزور دل لوگ جن ہستیوں کو یاد کرکے تقویت حاصل کرتے ہیں اُن میں مرزا غالب ہی نہیں، علامہ اقبال بھی شامل ہیں۔ ڈاکٹر جاوید اقبال کا بیان ہے کہ اُن کے والد جب کبھی روزہ رکھ لیتے تو طبیعت دن بھر بے چین سی رہتی اور کئی کئی بار…

Read more

’بس یار، بڈھے ہو گئے آں‘

مکالمہ تھا تو بے ضرر، مگر بات اُس ترتیب سے آگے نہ بڑھی جسے اپنی نوجوانی میں ہم گفتگو کا روایتی تسلسل خیال کرتے تھے۔جیسے کالج کے برآمدے میں استاد اور شاگرد آمنے سامنے آتے تو شاگرد کی کوشش ہوتی کہ جلدی سے آگے بڑھ کر سلام کرے۔ ’’کیسے مزاج ہیں؟‘‘برطانوی شاہی خاندان کی طرح…

Read more

رو میں ہے ’رخشِ عدل‘۔۔۔

مرزا غالب نے کہا تھا کہ ’’رو میں ہے رخشِ عمر کہاں دیکھئے تھمے ‘‘۔۔۔ مگر جمعہ کو سپریم کورٹ کا فیصلہ سنتے ہی ہمارے دوست اور دانشور حماد غزنوی نے اِس مصرعہ میں ’رخشِ عمر‘ کو ’رخشِ عدل‘ سے تبدیل کر دیا۔ ہے تو یہ تخلیقی حرکت، مگر آجکل چونکہ آئین میں درج بنیادی…

Read more