میاں نواز شریف کا برساتی نظریۂ انقلاب

آخرکار میاں نواز شریف اور ان کی صاحبزادی پاکستان تشریف لے ہی آئے۔ یہ ”آنی“ بڑی بامعنی تھی/ہے۔ سیاست سے دلچسپی رکھنے والا ایک طبقہ انہیں، ذوالفقار علی بھٹو اور محترمہ بےنظیر ثانی ثابت کرنے کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہا تھا۔ اس حوالے سے وجاہت خان نے جب آصف علی زرداری سے…

Read more

پیر، میر، سردار اور بھوتار کسی کے نہیں ہوتے

میرا تعلق اس بد نصیب نسل سے ہے جن کے بچپن کو ضیا نامی آسیب کی دہشت چاٹ گئی۔ غالباً یہ 1977ء یا 1978ء کا زما نہ تھا۔ اسکولوں میں منادی ہوچکی تھی کہ تمام لڑکیاں سروں پہ اسکارف باندھ کر یا چادریں لپیٹ کر آئیں۔ بڑی سراسیمگی کا عالم تھا۔ چادر کون اوڑھے گا؟…

Read more

نیلی بار: میرا دیس نیلوں نیل

کہانی نے آبِ حیات چکھی ہوئی ہے۔ وہ ازل سے زندگیوں کے ساتھ ہونے والی وارداتوں کی امانت دار ہے.... کہانی کرنے والے، کہانی لکھنے والے .... اور کہانی ہونے والے سارے کردار مرتے رہتے ہیں مگر کہانی جیتی رہتی ہے۔ قریہ قریہ، کوچہ کوچہ، یُگ یُگ پھرنے والی کہانی نے بے شمار روپ بدلے۔…

Read more

بلاول بھٹو زرداری، سبز یونیورسٹی اور زرد تنقید

ذوالفقار علی بھٹو صاحب یونیورسٹی آف کیلیفورنیا (برکلے) اور یونیورسٹی آف آکسفورڈ میں پولیٹیکل سائنس، تاریخ اور قانون کے طالب علم تھے اور یونیورسٹی آف ساؤتھ ہیمپٹن میں قانون کے استاد۔ رہے۔ ان کے لکھے ہوئے خطوط، سوشلزم پر دئے گئے لیکچرز کی سیریزاور کتابوں میں انگریزی ادبیات کا وسیع مطالعہ جھلکتا ہے ۔ بھٹو…

Read more

محبت، بغاوت اور نظمیں پرانی نہیں ہوتیں

اگر آپ سامراجی ہتھکنڈوں اور مظلوم و محکوم عوام کے غضب شدہ حقوق کا مطالعہ کرتے رہے ہیں تو آپ نسیم سیّد کی کتاب ’’یوروپئین نوآبادیات کے ایبوریجنل ادب پر اثرات‘‘ کو نئے دور کا وہ صحیفہ کہیں گے جس کا لفظ لفظ خود کو ، آپ سے بار بار پڑھوائے گا۔ آپ اِس کتاب…

Read more

ایک سندھی علی نواز چانڈیو کا خط

میں حلفیہ کہتا ہوں کہ میرا نام علی نواز چانڈیو ہے اور میں ضلع دادو کے ایک گوٹھ میں رہتا ہوں۔ بہت زمانے پہلے ہمارے بزرگ ہجرت کر کے سندھ آ گئے تھے اور پھر سندھ کی محبت نے کہیں جانے نہ دیا۔ اب میرا جینا مرنا سندھ دھرتی کے ساتھ ہے۔ میرے پانچ بچے…

Read more