انڈے اور کٹے

ٹھنڈے دسمبر میں وزیراعظم عمران خان کا انڈوں اور مرغیوں کا آئیڈیا بہت ہی ہٹ جارہا ہے۔ سوشل میڈیا بھی گرم انڈوں اور مرغیوں کی تعریفوں اور ”جگتوں“ سے بھرا ہوا دکھائی دیتا ہے جبکہ حد تو یہ ہوئی ہے کہ اراکین پارلیمنٹ بھاری مقدار میں انڈے پارلیمنٹ کے اندر لے جاتے ہوئے پکڑے گئے…

Read more

سسلین مافیا مشکل میں

چار دسمبر 2018 ء کو اٹلی پولیس نے سسلین مافیا کے نئے چیف سیٹیمومینیو کو اس کے 46 کارندوں سمیت گرفتار کرلیا ہے۔ سیٹیمومینیو کو گزشتہ برس انتقال کر جانے والے مافیا چیف سیلواتورے تو تورینا کی وفات کے بعد ایک خفیہ اجلاس میں نیا سربراہ منتخب کیا گیا تھا۔ اٹلی پولیس نے یہ کامیاب آپریشن سسلین مرکز پالیرمو میں کیا۔ اٹلی پولیس نے اس کارروائی کے بعد پاکستان کی طرح دعویٰ کیا ہے کہ سسلین مافیا کی کمر توڑ دی گئی ہے۔ پاکستان بھی اکثر وبیشتر یہ دعویٰ کرتا ہے کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے لیکن دہشتگرد پھر واردات کرجاتے ہیں۔

Read more

یقینی اور غیر یقینی

ویسے تو زندگی ہی غیر یقینی ہے لیکن پاکستان میں بالعموم اور پی ٹی آئی کے دور حکومت میں بالخصوص ہر چیز اور ہر وقت غیر یقینی کی صورت حال ہے۔ ہمارے وزیر اعظم کو خود پر یقین نہیں کہ وہ وزیر اعظم ہیں اور اس سے بڑھ کر یہ بھی وزیر اعظم کو یقین نہیں ہے کہ وہ اس عہدے پر کتنا عرصہ رہیں گے۔ اپنے ”غیر یقینی“ ہونے بارے وزیر اعظم نے گزشتہ سات دن میں دو بار قوم کو یقین دلایا۔ سو دنوں کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری اہلیہ مجھے اکثر یقین دلاتی ہیں کہ آپ وزیر اعظم ہیں۔

ملک میں غیر یقینی کی یہ بلند ترین سطح ہے۔ اصولی طور پر ہمارے ہاں سٹاک ایکسچینج اور ڈالر کی تازہ ترین صورت حال کے ساتھ ساتھ غیر یقینی صورت حال بھی ہر گھنٹے بعد ٹی وی چینلز کے ذریعے بتائی جانی چاہیے تاکہ لوگوں کو سٹاک ایکسچینج اور ڈالر کے ساتھ ساتھ یہ بھی معلوم ہوتا رہے کہ ملک میں غیر یقینی صورت اور ”یقینی صورت حال“ کا کیا عالم ہے؟ جس طرح ہمارے وزیر اعظم غیر یقینی کا شکار ہیں بلکہ ”شاہکار“ ہیں اسی طرح اب یہ وائرس وفاقی کابینہ میں بھی داخل ہو چکا ہے۔ وزیر خزانہ اسد عمر ملکی معیشت کی بہتری اور غیریقینی صورت حال پر بات کرنے کی بجائے دن میں دو تین بار یہ وضاحت کرتے ہوئے نظر آ رہے ہیں کہ ان سے وزارت خزانہ کا قلمدان واپس نہیں لیا جا رہا۔

Read more

عمران خان کا ایک سال میں دو تہائی اکثریت لینے کا ارادہ

وزیر اعظم عمران خان کے گزشتہ روز دیے گئے ”اجتماعی انٹرویو“ سے یہ تاثر بھی پیدا ہوا ہے کہ اسمبلی خطرے میں ہے۔ ماضی میں اسمبلی کو ایوان صدر سے خطرہ ہوا کرتا تھا لیکن پہلی بار سیاسی جماعتوں کے اندر یہ سوچ بیدار ہو رہی ہے کہ وزیر اعظم عمران خان کسی بھی وقت قومی اسمبلی کو ہوا میں تحلیل کر سکتے ہیں۔ واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان یہ سوچ رہے ہیں کہ ایک سال کے اندر اندر چند بڑے کام کر کے اور بڑے بڑے قومی چوروں کو جیلوں میں ڈال کر عام انتخابات کروا کر دو تہائی مینڈیٹ کی راہ ہموار کی جائے۔

Read more

تین دھرنا تحریکوں کا انجام۔۔۔ نظربند کون؟

پاکستان میں اس وقت تین تحریکوں کی تاریخ لکھی جارہی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کے دورِ حکومت میں یہ تحریکیں تقریباً ایک ہی منزل کی مسافر تھیں اور تینوں تحریکوں کو دھرنا سپیشلسٹ ہونے کا اعزاز بھی حاصل تھا۔ ان میں سے ایک تحریک انصاف ہے جو کہ اپنے اقتدار کے ’’شاندار‘‘ سو دن مکمل کرچکی…

Read more

پر امن زخم

وزیراعظم عمران خان کے سو دنوں میں ایک اہم ترین کامیابی کرتار پورہ بارڈر کا کھلنا ہے۔ کرتار پورہ بارڈر کھولنے کے حوالے سے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور سابق وزیراعظم میاں نواز شریف بھی خواہش رکھتے تھے لیکن یہ کامیابی اسی کو ملی ہے جس کا نصیب تھا۔ وزیراعظم عمران خان کی اس کامیابی پر پورا پاکستان جبکہ تھوڑا سا بھارت بھی خوش ہے۔

بھارتی حکومت اس امن پسند فیصلے کے باوجود غصے میں ہے اور بھارت کی طرف سے سشما سوراج نے اس فیصلے پر جو اظہار خیال کیا ہے اس سے محسوس ہوتا ہے کہ کرتار پورہ بارڈر کھولنے کا فیصلہ بھارت سے ”سیاست کی نوک“ پر کروایا گیا ہے کیونکہ بھارت نے کھل کر کہہ دیا کہ کرتار پورہ بارڈر کھولنے کا قطعی مطلب یہ نہیں ہے کہ دونوں ملکوں کے مابین مذاکرات کا آغاز ہو گیا ہے اور نہ ہی بھارت سارک کانفرنس کے لئے کوئی لچک دکھائے گا۔

Read more

میاں نوازشریف بھی یوٹرن لے چکے

دس دن پہلے عمران خان نے کالم نگاروں سے ملاقات کے دوران یوٹرن کے حق میں ایسا پالیسی بیان دیا کہ تقریباً ایک ہفتہ ہمارے تجزیہ نگار تحریروں اور ٹی وی ٹاک شوز میں یا تو یوٹرن کی افادیت پر بولتے اور لکھتے ہوئے نظر آئے اور یا پھر یوٹرن کو ایسے مکروہ کام سے تشبیہ دی گئی کہ یوٹرن لینے سے بندہ شیطان کا پیروکار ہو جاتا ہے۔ لیکن عمران خان کے بیان کے بعد اگر بغور جائزہ لیا جائے تو میاں نواز شریف نے سب سے زیادہ اثر لیا ہے اور چند دنوں میں انہوں نے پے درپے یوٹرن لے کر کم از کم عمران خان اور ان کے ساتھیوں پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے کہ وہ بھی وقتی ضرورتوں کے عین مطابق نہ صرف ڈھل سکتے ہیں بلکہ اپنے دماغ کو بھی استعمال میں لا سکتے ہیں۔

میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز شریف وزیراعظم عمران خان کے ”یوٹرن بیان“ سے پہلے ہی اس پر ”ایمان“ لا چکے تھے کیونکہ دونوں باپ بیٹی جب سے رہا ہوئے ہیں انہیں یہ عقل آگئی ہے کہ مجھے کیوں نکالا والا بیانیہ بے وقت کی راگنی ہے۔ لہٰذا دونوں ہی خاموش ہیں اور دونوں کی زیادہ ترتوجہ نیب کے پاس زیر تفتیش میاں شہباز شریف کا حوصلہ بڑھانے پر ہے۔

Read more

مکّار دشمن کی پسپائی

وزیراعظم عمران خان کے بیرونی دنیا کے طوفانی دورے خوب رنگ جما رہے ہیں، سعودی عرب، چین، متحدہ عرب امارات کے کامیاب دوروں کے بعد عمران خان ملائیشیا کے وزیراعظم مہاتیر محمد سے معاشی ہاتھ ملانے کے لئے گئے تھے، جس کا ملائیشین وزیراعظم مہاتیر محمد نے بھرپور جواب دیا بلکہ ملائیشیا کی خاتون اول نے وزیراعظم عمران خان کا ہاتھ پکڑ کر تصویر بنوانے کی خواہش بھی ظاہر کی جسے پاکستانی وزیراعظم نے فوری قبول کر لیا۔

وزیراعظم عمران خان کو ان کے مخالفین امریکی صدر ٹرمپ سے اکثر تشبیہ دیتے ہیں لیکن اگر دونوں شخصیات کے اخلاقی پہلو کو دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ سے ان کی اپنی اہلیہ بھی جھٹک کر ہاتھ چھڑاتی ہوئی نظر آتی ہیں جبکہ عمران خان سے اپنے اور غیر سبھی ہاتھ ملانے اور ”ہتھ جوڑی“ کرنے کی جستجو کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

Read more