امریکی افسانہ بٹن بٹن اور ہمارے خواب

مقررہ وقت پہ دروازے کی گھنٹی بجتی ہے اور نارما لپک کے جاتی ہے۔ مہمان کو کمرے میں بٹھایا جاتا ہے اور اس کے آنے کا مقصد دریافت کیا جاتا ہے۔ جس پر وہ برجستگی سے جواب دیتا ہے کہ وہ ان کے لئے ایک بڑی زبردست پیشکش لے کے آیا ہے۔ وہ انہیں بتاتا ہے کہ انہیں صرف ایک بٹن دبانا ہو گا اور ایسا کرتے ہی ایک ایسے بندے کی موت واقع ہو جائے گی جسے وہ جانتے تک نہیں ہوں گے اور اس کے عوض انہیں پچاس ہزار ڈالر ملیں گے۔

یہ سنتے ہی نارما کی آنکھیں چمک اٹھتی ہیں اور اس کے اندر مدتوں سے دبی ہوئی خواہشات سر اٹھاتی ہیں۔ آرتھر کا رویہ اپنی بیوی کے بر عکس ہے اور وہ کسی بھی انسان کی جان لینے کو ایک سنگین جرم سمجھتا ہے۔ نارما اسے قائل کرنے کی ہر ممکن کوشش کرتی ہے اور ایسا کرنے کے لئے وہ سب سے بڑی دلیل یہ دیتی ہے کہ یہ بٹن دبانے سے ان کے مدتوں کے ارمان پورے ہو جائیں گے۔ وہ ایک بڑا گھر بنا پائیں گے، ایک بہترین قسم کی گاڑی خرید لیں گے، سارے یورپ کا تفریحی دورہ کریں گے اور ایک پر تعیش زندگی گزاریں گے۔ آرتھر کے بار بار منع کرنے کے باوجود نارما باز نہیں آتی اور یہ گھناؤنا کام کر ڈالتی ہے۔ اسے اپنے لالچ کی قیمت

Read more

گمنام غلام

ادب سماج کی نمائندگی کرتا ہے اور اس کے فکری رجحان کا ترجمان ہوتا ہے۔ ادب انسانی زندگی کی امکانی صورتِ حال کے مطالعے کا نام ہے۔ ادب کی مختلف اصناف اپنے اپنے انداز میں فرد کے ذہنی، سماجی، معاشی، جنسی اور نفسیاتی مسائل کی عکاسی کرتی ہیں۔ اعلٰی ادب ایسا ادب ہوتا ہے جو…

Read more

ہمارے تعلیمی نصاب کا المیہ

یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی تعمیر و ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتی ہے۔ تعلیم ہی سے معاشرے کی ساخت وضع کی جاتی ہے اور اس میں نئے نئے رجحانات پیدا ہوتے ہیں۔ تعلیم کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ یہ انسان کو باشعور بناتی ہے۔…

Read more