ہوئے پڑھ کہ ہم جو رسوا

کسی سیانے کا قول ہے کہ معاشرے میں آگاہی اور شعور اگر اجتماعی سطح پر ہو تو معاشرہ ترقی کی نئی منزلیں طے کرتا ہوا آگے بڑھتا ہے اور اہمیت حاصل کرتا جاتا ہے۔ مگر یہی شعور محض انفرادی سطح پر ہو اور معاشرہ زوال پذیر ہو تو یہ شعور و آگہی اس فرد کے لئے کسی عذاب سے کم نھیں۔ بقول احمد فراز
عیسی نہ بن کہ اس کا مقدر صلیب ہے
انجیل آگاہی کے ورق عمر بھر نہ کھول

جبکہ حضرت جون ایلیا اس رمز اورتکلیف کو کچھ یوں بیان کرتے ہیں۔
ان کتابوں نے بڑا ظلم کیا ہے مجھ پر
ان میں اک رمز ہے جس رمز کا مارا ہوا ذہن

Read more