ریت کا پل

وہ لوگوں کو ششدر اور متحیر کرنے کا ماہر لگتا تھا۔ ”کیا سچ مچ آپ نے مجھے نہیں پہچانا ڈاکٹر خرم ؟ “ اس کی آنکھوں میں غیر یقینی کے بطخ گردن اکڑائے کڑکڑا رہے تھے۔ میں نے یادداشت کی ہر گلی میں ٹامک ٹوئیاں مارلی، سوچوں کے ہر دروازے پر دستک دے لی مگر دست سوال خالی ہی لوٹا۔ باہر روڈپر ٹریفک برائے نام ہی تھا۔ گرمی مزاج پوچھ رہی تھی۔ میرا کلینک شہر کے ا یک مصروف ترین رہائشی علاقے میں تھا۔ وہ ایک گرم حبس بھری دوپہر تھی۔

Read more