بد قسمتی کا مغالطہ

میرے ایک دوست کو خدا نے عجیب و غریب صلاحیت سے نوازا ہے، یہ ایسی حیرت انگیز خوبی ہے جو ہزاروں لاکھوں لوگوں میںسے بمشکل ایک شخص میں ہوتی ہے، کمال یہ ہے کہ اِس خوبی کیلئے علیحدہ سے محنت نہیں کرنا پڑتی اور نہ ہی یہ صلاحیت کوئی شخص اپنے آپ میں خود سے…

Read more

ہماری سوچ غیر سائنسی کیوں ہے؟

بچپن میں جب ہم کھلونوں سے کھیلا کرتے تھے تو اکثر اُن کے سیل بہت جلد کمزور ہو جاتے تھے، یہ بات میرے لیے بہت مایوس کُن ہوتی تھی، بیٹھے بٹھائے کھلونا بیکار ہو جاتا تھا۔ ایک روز میں نے سوچا کہ کیوں نہ ایڈیسن کی طرح ایک تجربہ کیا جائے، آخر وہ بھی تو…

Read more

غار کے قیدی

410 قبل از مسیح، یونان۔ سقراط اپنے شاگردوں کے درمیان ہے۔  دانش کے موتی بکھیر رہا ہے۔ ”فرض کرو کہ ایک غار ہے جس میں کچھ لوگ رہتے ہیں، یہ لوگ شروع دن سے اسی غار میں ہیں، باہر کی دنیا کے بارے میں لا علم ہیں، ان کے پیر اور گردنیں زنجیروں میں یوں…

Read more

مونگ پھلی والا ٹھگ

میری اس سے جان پہچان زیادہ پرانی نہیں تھی، یہی کوئی دوچار ماہ پہلے کی بات ہے، یونہی شام کے وقت ٹہلتے ٹہلتے میں اکثر اس کے پاس مونگ پھلی لینے رک جایا کرتا تھا۔ ہلکی سی خنکی میں مونگ پھلی کے گرم گرم دانے مزا دیتے ہیں۔ مونگی پھلی والے کی عمر زیادہ نہیں…

Read more

دوستی کے اصول

میں ایک اکھڑ مزاج آدمی ہوں،بیزار بھی کہہ سکتے ہیں، سہل پسند ہوں، ماحول سے جلد اکتا جاتا ہوں، کوئی بندہ پسند نہ آئے تو قد آدم گالی بن جاتا ہوں، ہر کام اپنی مرضی کے مطابق کرنا چاہتا ہوں اور اس کے علاوہ بھی میری شخصیت میں کئی کمزوریاں ہیں جو کسی بھی خطاکار…

Read more

روز قیامت کیا منہ دکھائیں گے

چودہ سو سال پہلے کے عربوں کا کلچر بہت دلچسپ تھا، مولانا شاہ محمد جعفر پھلواروی کے الفاظ میں ’’وہ بزدل بھی تھے اور بہادر بھی۔ جہاں شرف انسانیت کے اظہار کا موقع ہوتا وہاں وہ بزدل ثابت ہوتے تھے۔ وہ جن، فرشتے ، ارواح کے علاوہ ستاروں اور پتھر کی مورتیوں تک سے ڈر…

Read more

ایک فلسفی، ایک سائنس دان

پہلے ذکر ایک فلسفی کا پھر ایک سائنس دان کا۔

یہ سن 1794 ء کی بات ہے، ایک فرانسیسی فلسفی اپنی جان بچانے کی غرض سے بھاگتا پھر رہا تھا، فرانسیسی حکومت نے اسے موت کی سزا سنائی تھی، اسے اچھی طرح علم تھا کہ گرفتار ہونے کی صورت میں اُس سے کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی کیونکہ اُس کا جرم بہت سنگین تھا۔ غداری۔ گردن زنی مشین (گلوٹین) اُس کا مقدر تھی۔ بڑی دقّت سے پیرس کے نواح میں اسے پناہ ملی جہاں چھپ کر اُس نے ایک کتاب لکھی جس کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہ کسی انسان کی لکھی ہوئی سب سے ”پُر امید“ کتاب تھی، کتاب کا نام تھا A Sketch of a Tableau of the Progress of the Human Spirit فلسفی نے کتاب میں بتایا کہ سائنس توہمات کے چنگل سے آزاد ہو چکی ہے اور اگر آئندہ سو برس تک ہمارے علم و دانش پر کوئی پابندی نہ ہو اور پوری دنیا میں ہر شخص کو مفت تعلیم دی جائے تو ہمارے تمام سماجی مسائل اس صدی کے آخر تک حل ہو جائیں گے، فلسفی کے الفاظ میں ”ہماری ترقی کی کوئی حد نہیں ماسوائے اس کرہ ارض کی مدت کے جہاں ہم رہتے ہیں“۔

Read more

اب رول ماڈل بھی بدل دیں

محکمہ تعلیم کے دفتر میں اجلاس جاری ہے، تمام افسران اپنی اپنی نشستوں پر براجمان ہیں، آج کی میٹنگ میں نصاب تعلیم میں تبدیلی کا ایجنڈا زیر غور ہے، تمام لوگ اِس بات پر متفق ہیں کہ موجودہ نصاب حد درجے فرسودہ ہو چکا ہے اور جدید تہذیب اور معاشرے کے بدلتے ہوئے رنگ ڈھنگ…

Read more

کالم لکھنے کے غلط طریقے

ابھی مجھے اخبار میں کالم لکھتے ہوئے کچھ ہی عرصہ گزرا تھا کہ ایک ای میل موصول ہوئی جس میں ایک عفیفہ نے پوچھا کہ میں اخبار میں کالم لکھنا چاہتی ہوں، بتائیں کیا کروں، میں نے جواب میں لکھا کہ آپ اپنی کوئی تحریر مجھے بھجوا دیں میں پڑھ کر رائے دوں گا۔ محترمہ…

Read more

ہیپی برتھ ڈے علامہ صاحب

لاہور کا بھاٹی گیٹ اسی طرح مشہور ہے جیسے کراچی کا لالو کھیت، پنڈی کا راجہ بازار اور پشاور کا قصہ خوانی بازار۔ اگر آپ گورنمنٹ کالج، لاہور سے داتا دربار کی طرف آئیں تو دائیں ہاتھ کو سرکلر روڈ پر مڑنے سے پہلے ہی ذرا سا بائیں طرف بھاٹی گیٹ ہے، بجلی کی تاروں…

Read more