بلوچ خان اور نیا پاکستان

اپنے گھر کے ٹیرس پہ اپنے بچوں کے ساتھ جھنڈیاں اور برقی قمقمے لگاتے ہوئے مجھے اچانک سے بلوچ خان کا خیال آگیا، جو آج سے کم و بیش سولہ سال پہلے مجھے عجیب ڈرامائی انداز میں ملا تھا۔ یہ سال 2002ءکی بات ہے، جب چاغی کے اطراف میں قحط سالی کا ایک بہت بُرا…

Read more

منظور بلوچ کا مشکیزہ

برسوں بعد مستونگ سے ایک اچھی خبر سننے کو ملی۔ NA- 267 مستونگ سے منظور بلوچ کی کامیابی۔ منظور بلوچ کی مالی حالت کا اندازہ اُس کی موٹر بائیک سے لگایا جاسکتا ہے، جس کو اگر وہ فروخت کرنا چاہے، تو جتنے اُس نے ووٹ (25738) لئے ہیں، کوئی اُس کے چوتھائی کے برابر بھی…

Read more

”کتا تو مر گیا خان صاحب “

آپ نے انتخابات میں کامیابی کے بعد اپنی پہلی تقریر میں حضرت عمرؓ کے سنہری دور خلافت کا ذکر کرتے ہوئے اُن کا وہ مشہور قول دہرایا کہ ”اگر دریائے فرات کے کنارے ایک کتا بھی بھوکا مرتا ہے، تو اُس کا ذمہ دار میں (حضرت عمر فاروقؓ) ہوں گا۔ “۔ یقینا آپ تک یہ…

Read more

گدھے اور گائے کی سیاست

کسی میں اتنی ہمت نہیں ہے کہ وہ ہمارے ملک کی سیاست کے بدخواہوں کو کرارا جواب دے، جو ایک گدھے کی موت کو ایشو بناکر ہمارے سیاسی جوش جنوں پر انگلیاں اٹھارہے ہیں۔ کوئی نہیں ہے جو اُنہیں ہندوستان کی گلیوں میں پڑی ہوئی وہ لاشیں دکھائے جو آئے دن گائے کے نام پہ…

Read more

مستونگ میرا شہر ہے اور میں دہشت گرد نہیں ہوں

میرا خیال ہے کہ بات شروع کرنے سے پہلے مجھے آپ کو مستونگ کے جغرافیے کے بارے میں بتانا چاہئے۔ کیونکہ بدقسمتی سے آپ کے یہاں اکثریت کو یہ بھی نہیں معلوم کہ ”کوئٹہ بلوچستان میں ہے یا بلوچستان کوئٹہ میں“۔ ہاں البتہ کچھ ریئل اسٹیٹ ایجنٹس کی آواز اور سی پیک کا شور جہاں…

Read more

ہزارہ ہم خدا دارہ

پتہ نہیں قربان علی آج کہاں ہے۔ وہ جو اپنے ہر دکھ میں مغموم، خوشی میں مسرور، ناکامی پہ پرامید اور کامیابی پہ مست ہوکر چلّاتا تھا۔ ”ہزارہ ہم خدادارہ “ یعنی ”ہزاروں کی بھی خدا سنتا ہے“۔ جو ہر مصیبت، ہر راحت، ہر مشکل اور ہر آسانی پہ صبر اور شکر کیلئے یہی ایک…

Read more