جمال نقوی کی جرأتِ رندانہ (آخری حصہ)۔

1980ء میں جمال صاحب اور نذیر عباسی ایک جگہ سے اور ایک ساتھ گرفتار ہوئے۔ جمال صاحب یہ سمجھ رہے تھے کہ وہ اور نذیر کچھ وقت کے لیے گرفتار ہوئے ہیں لیکن کچھ ہی دنوں بعد انھیں یہ حتمی خبر مل گئی کہ اب وہ نذیر سے کبھی نہ مل سکیں گے اور اس…

Read more

جمال نقوی کی جرأت رندانہ (حصہ اول)

گنگا جمنا اور تصوراتی دریا سرسوتی کا سنگم۔ سرسوتی جو زمین کے اندر گم ہوگئی ہے لیکن گنگا اور جمنا جب گلے ملتے ہیں تو ان کی یک جائی میلوں تک ایک لکیر کی صورت نظر آتی ہے۔ لوگ اشاروں سے بتاتے ہیں کہ یہ رہی گنگا اور وہ رہی جمنا۔ اس سنگم کو میں…

Read more

ایشیا کی قیدی عورتیں

شیفلر کی جس کتاب کا گزشتہ کالم میں ذکر کیا تھا، اس میں یہ بات کھٹکتی ہے کہ برصغیر اور ایشیا کے دوسرے ملکوں سے تعلق رکھنے والی ان عورتوں کا ذکر اس میں سرے سے موجود نہیں جنھوں نے بیسویں صدی میں سیاسی میدان اور جد وجہد آزادی کے دوران برسوں قید و بند…

Read more

ووٹ کا خط : ووٹروں کے نام

میں کاغذ کا ایک پرزہ ہوں ۔ میرا نام ووٹ ہے اور میرا حسب نسب جمہوریت سے جڑا ہوا ہے ۔ انیسویں اور بیسویں صدی سے میں ساری دنیا میں سفرکرتا ہوں ۔کبھی ایشیا، کبھی افریقا اورکبھی مغربی دنیا میں، غریب اور متوسط طبقے کے لوگ ہر جگہ میرا استقبال کرتے ہیں، وہ جانتے ہیں…

Read more

بائیں بازو کی بروقت پہل کاری

کچھ دنوں سے معصوم لوگوں کی لاشیں سڑکوں پر نہیں بچھی تھیں، بوڑھے باپ اپنے جھکے ہوئے شانوں پر جوان بیٹوں کے تابوت اٹھائے ہوئے نہیں نکلے تھے اور ہم خوش تھے کہ دہشتگردوں کی کمر توڑ دی گئی ہے، جب ہی ملک میں امن چین ہے۔ ہمیں معلوم نہ تھا کہ مشورے ہو رہے…

Read more

محترمہ فاطمہ جناح کی کتنی فیکٹریاں تھیں؟

نئی ایجاد اور نئی دریافت ہمیشہ سماج کو آگے بڑھانے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ موجودہ صدی کے دوران ایسی حیرت انگیز ایجادات جس برق رفتاری سے جنم لے رہی ہیں ان کو دیکھ کر با آسانی یہ دعویٰ کیا جا سکتا ہے کہ محض اس صدی کی ایجادات لاکھوں سال کی انسانی تاریخ…

Read more

کوئی کسی کو یہ کیسے بتائے؟

پاکستان وجود میں آیا اور اس کے ساتھ ہی ہمارے حاکموں نے احکامات جاری کرنے شروع کردیے۔ یہ حکم نامے جمہوریت کے تحفظ اور عوام کے حقوق کی سربلندی کے لیے نہیں تھے۔ یہ حکم نامے نوآبادیاتی حکومت کے احکامات کا تسلسل تھے۔ ملک کا نام نیا تھا، یونین جیک کے بجائے پاکستانی پرچم لہراتا تھا،…

Read more

اظہار کی آزادی اور جبر کا گرداب

5 جولائی آئی اور گزر گئی۔ یہ تاریخ ہمیں ایک ایسے المناک سانحے کی یاد دلاتی ہے، جس نے ہماری زندگیاں بدل دیں۔ یہ ہمیں یاد دلاتی ہے۔ 27 اکتوبر 1958ء میں ہماری بدبختیوں کا آغاز ہوا تھا اور پھر یہ داستان دراز ہوتی گئی، یہاں تک کہ 12 اکتوبر 1999ء کی تاریخ آگئی۔ 2008ء…

Read more

بابا فرید گنج شکر کی چوکھٹ

گزشتہ دنوں یروشلم اور مسجد اقصیٰ کا بہت ذکر اذکار رہا۔ اس حوالے سے بابا فرید گنج شکر یاد آئے ۔ وہ جو اب سے 800 برس پہلے صلیبی لشکرکی شکست کے دس برس بعد یروشلم پہنچے ۔ انھوں نے وہاںقیام کیا ، مسجد اقصیٰ میں صبح دم جھاڑو لگاتے اور پھر اپنا دن ایک…

Read more

بابا فرید گنج شکر کی چوکھٹ

گزشتہ دنوں یروشلم اور مسجد اقصیٰ کا بہت ذکر اذکار رہا۔ اس حوالے سے بابا فرید گنج شکر یاد آئے ۔ وہ جو اب سے 800 برس پہلے صلیبی لشکرکی شکست کے دس برس بعد یروشلم پہنچے ۔ انھوں نے وہاںقیام کیا ، مسجد اقصیٰ میں صبح دم جھاڑو لگاتے اور پھر اپنا دن ایک…

Read more