پنجاب نے اردو نوں پگ بنڑایا، لاج گنوائی

اشرافیہ دی گل چھڈو کہ ”اشرافیہ اک قوم ایہ“۔ لوکاں دے سامنے ایہ سوال رکھ ریاں۔ ایہ دسو بئی سندھ اچ کنھے مہاجر نے جنھاں نوں سندھیاں نے سندھی سمجھیا؟ بلوچستان اچ کنے پٹھان نے جنھاں نوں بلوچ سمجھیا جاندا ایہ، آکھاندے نے؟ خیبر پختون خوا اچ کنھے پنجابی نے جنھاں نوں پختون من لیا گیا…

Read more

ہارون بلور پر حملہ، عدلیہ کو بد نام کرنے کی سازش؟

شہر میں کرفیو کا سا ساماں پیدا کر کے اور اسٹیڈیم کے گرد فوج کھڑی کر کے ہم نے غیر ملکی ٹیموں کو مدعو کیا کہ ہمارے یہاں کسی قسم کی دہشت گردی کا کوئی خطرہ نہیں، آیے کھیل کھیلیں۔ اپنی سی کوشش کے با وجود زمبابوے، ویسٹ انڈیز کی ٹیم اور پاکستان سپر لیگ…

Read more

آج کہیں اس قوم کا نشاں نہیں ملتا

شہر کا کوتوال ایسا قوی تھا، اور ایسا رُعب داب والا، کہ اُس کی اجازت کے بغیر، قلعے کے آسمان پر چڑیا تک بھی پر نہ مارتی تھی۔ بستی کے کس مکان میں جوے کا اڈا ہے، کہاں چوری ڈکیتی کا مآل چھپایا جاتا ہے، کہاں شراب کے مٹکے تیار ہوتے ہیں، کس بالا خانے…

Read more

جھیل بنجوسہ کے کنارے ذاتی زوجہ مگر تتلیاں غائب

”اُف! کیسا غلیظ واش رُوم ہے، یہ تو استعمال کے قابل نہیں ہے“۔ میں نے یہ سنتے ہی فورا ویٹر کو پکارا، اور لعن طعن شروع کر دی کہ آپ صفائی کا خیال بھی نہیں رکھتے، جب کہ میں یہاں آپ کے ریستوران کا نام سن کر آیا تھا، کہ بہت اچھا انتظام ہے۔ ویٹر…

Read more

ٹی وی توڑ دو، بیوی چھوڑ دو

یہ دس بارہ سال پرانی بات ہے؛ ان دنوں سکونت لاہور میں تھی۔ میں بس میں بیٹھا، ریلوے اسٹیشن کی جانب محو سفر تھا؛ دھرم پورہ اسٹاپ سے مخصوص پگڑیوں والے سوار ہوئے؛ ان کا رہ نما ہاتھ میں پوسٹر اٹھائے صدا لگانے لگا: ”بھائیو اور بہنو! یہ جو ٹیلے ویژن ہے، یہ فحاشی کا…

Read more

جب میں جمال شاہ بن کے لڑکیوں سے باتیں کیا کرتا تھا

قصہ میرے ایکٹر بننے کا، شایع ہوا تو اس کے تبصروں کی لڑی میں، راشد نذیر علی صاحب نے بجا طور پہ ڈراما سیریئل ”کل“ کی کاسٹ میں شامل، اس وقت کی معروف ماڈل نوین نقوی کا نام یاد دلایا۔ ایک اور نام میں یاد دلاتا چلوں، وہ نام ہے، شہناز کا۔ شہناز نے ”کل“…

Read more

قصہ میرے ایکٹر بننے کا

یہ پچھلی صدی کا قصہ ہے۔ میرے ایک دوست بین الاقوامی شناخت رکھنے والے پینٹر اور مجسمہ ساز جمال شاہ کے آرٹ اسکول ”ہنر کدہ“ میں فوٹو گرافی پڑھایا کرتے تھے۔ انھوں نے بتایا کہ ”ہنر کدہ“ کا ”تھیٹر گروپ“ بھی ہے۔ رُکن بننے کی معمولی سی فیس تھی، یوں میں تھیٹر گروپ کا رُکن…

Read more

زرافہ اور لمبی لڑکی

اجمل اعجاز کے افسانوی مجموعے ”زرافہ اور لمبی لڑکی“ کا فلیپ میرے پسندیدہ نثر نویس حسن منظر نے لکھا ہے۔ ایک ٹکڑا ملاحظہ ہو۔ ”اجمل اعجاز کے افسانے کسی خیالی دُنیا کے افسانے نہیں ہیں۔ ان کے شہر اور آس پاس کی دُنیا کے لوگ انھیں کردار بھی فراہم کرتے ہیں، اور ان کرداروں کی…

Read more

کیا عوام جمہوری نظام بچا پائیں گے؟

کم سنی میں ایک ناول پڑھا تھا، اس میں کچھ ایسی صورت احول تھی، کہ ایک شخص کی اراضی پر کچھ بدقماش قبضہ کر لیتے ہیں۔ وہ فریاد لے کر ایک با اثر کے پاس جا پہنچتا ہے۔ وہ با اثر شخص اسے یہ کہ کر لوٹا دیتا ہے، کہ جو شخص اپنی اراضی کی…

Read more

وہ دیکھو کتیا کی بچی پیشاب کر رہی ہے

ہمارے یہاں سوشل میڈیا پر یہ چلن ہے، کہ کوئی مخصوص موقع ہو‘ تہوار ہو، خوشی ہو کہ غمی ہو؛ انتہائی مخالف سمت جا کر اس پر بحث کرنا ہے۔ اس میں کوئی مضائقہ بھی نہیں ہے۔ بعض اوقات بات کی ’اصل‘ تک پہنچنے کے لیے یونھی ایک شوشا چھوڑ دینا بھی مناسب ہوتا ہے۔…

Read more