ایک طوائف، ایک شرمیلا دولہا اور ایک ڈرائیور

مومن شاہ قبرستان کے سامنے کھڑے مستقیم اور نجیب، بھولا مسیح کا انتظار کر رہے تھے۔ نجیب کا خیال تھا، کہ عورت ہو اور شراب نہ ہو، سواد ادھورا رہ جاتا ہے۔ بھولا مسیح سائکل سے اُترا اور نیفے سے شاپنگ بیگ میں لپٹی بوتل نکال کے تھما دی۔ ”پندرہ سو رُپے“۔ ”لیکن قیصر نے…

Read more

لکھنا کیسے سیکھا جا سکتا ہے

کسی بھی فن کے طالب علم کے لیے، دیگر فنون کے طلبا سے میل ملاپ، دیگر فنون کے مکاتب فکر، ان فنون میں مختلف ادوار میں اُبھرتی ڈوبتی تحاریک، تازہ رحجانات، اُن فنون پر مباحث، اپنے فن نکھارنے میں بہت مدد دیتا ہے۔ فلم میکنگ تمام فنون کا مجموعہ ہے۔ یہ ایک ہی وقت میں…

Read more

کام یابی کا تیر بہ ہدف نسخہ

ایک بار میں نے ٹیلے ویژن کے ایک معروف اداکار سے پوچھا، کہ کام یابی کے حصول کا کوئی نسخہ ہے، جس پر عمل کر کے یقینی طور پہ کامران ہوا جا سکے؟ یہ سوال کرتے میرے ذہن میں تھا، کہ وہ کہیں گے: ”نہیں! بالکل بھی نہیں۔ کام یابی کا کوئی فارمولا نہیں ہے،…

Read more

من کا پاپی اور عشقِ ممنوع

اس کی پنڈلیوں کے بال چاول کے دانے سے ذرا بڑے، سخت اور سیاہ رنگ کے تھے۔ صفی چور نظروں سے دیکھا کیا۔ وہ دونوں فرش پہ بیٹھے، دیوار سے ٹیک لگائے، آمنے سامنے بیٹھے تھے۔ صفی نے محسوس کیا، کہ وہ اس کی دُزدیدہ نگاہی کو بھانپ گئی ہے، تبھی اپنے پاؤں کے انگوٹھے…

Read more

ایک کال گرل کی کہانی

’’اس کہانی کا ایک مرکزی کردار ڈاکٹر عدیل ہے، جس کی عمر یہی کوئی پچاس پچپن سال ہو گی‘‘۔ ’’ہوں‘‘! وہ ہوٹل میں ایک کال گرل طلب کرتا ہے۔ پچیس چھبیس سال کی لڑکی‘‘۔ ’’عمر کم نہیں ہو سکتی؟ یہی کوئی بیس بائیس سال‘‘؟ ’’دیکھ لیتے ہیں۔ فی الحال مرکزی خیال سن لیں۔ سونیا نام…

Read more

میری ادھوری کہانی

آج ایک مدت بعد ملاقات ہوئی۔ اُس کی آنکھیں، جو کبھی مِیر کی غزل کی طرح گنگناتی تھیں، اِس وقت دھواں دے رہی تھیں۔ میں ٹک ٹک دیدم تھا۔ بجلی نہ ہونے کے سبب، کمرا نیم روشن تھا، موم شعلے کی نذر ہو کر، آنسووں کی شکل میں لکڑی کی میز پر گِر رہا تھا۔…

Read more

کار جہاں دراز ہے یا زلف سیاہ دراز ہے

ہم سب مسیحا بن کے پاکستان لوٹ رہے تھے؛ خوش تھے، اداس تھے۔ کرغزستان نامی فردوس میں ہم نے لگ بھگ سات برس گزار دیئے تھے؛ طالب علمی کے زمانے کا تو ہر لمحہ، ہر دن ہی یادگار ہوتا ہے۔ باغِ عدن کے شب و روز میں، شاذ ہی ایسا تھا، جس نے ریشمی زلفوں…

Read more

کچھ تو احساس زیاں تھا پہلے

نوے کی دہائی کے نوجوان اینٹی اسٹیبلش منٹ مزاج کے حامل تھے، یہ ضیا کے مارشل لا میں ہوش سنبھالنے والی نسل تھی۔ فطری طور پہ یہ نسل تبدیلی کے لیے بے نظیر بھٹو کے ساتھ کھڑی تھی۔ جنھیں نہیں معلوم انہیں بتاتا چلوں، ضیا دور میں پاکستان میں امن امان کی مجموعی صورت احوال…

Read more

قائد اعظم کے پاکستان کے مجرم

تاریخ نویس اسٹینلے والپرٹ ’جناح کے پاکستان‘ میں لکھتے ہیں، کہ ’کچھ لوگ تاریخ کے دھارے کو تبدیل کردیتے ہیں۔ جب کہ اُن میں سے بھی کچھ دُنیا کے نقشے میں ترمیم کرتے ہیں۔ اُن میں سے بہت ہی کم لوگ نئی قومیت پر ملک تعمیر کرنے کا سہرا سر پہ سجاتے ہیں، اور جناح…

Read more

ابنِ آس اور اس کی صد لفظی کہانیاں

اِبن آس سے میرا تعارف شکیل عادل زادہ کے یہاں ”سب رنگ“ کے دفتر میں ہوا۔ یہ کوئی سترہ اٹھارہ برس پرانی بات ہے۔ غالباً اُن دنوں ابنِ آس روزنامہ اُمت سے وابستہ تھے۔ شکیل عادل زادہ جنھیں ہم بھائی شکیل کہتے ہیں، دُپہر کو قیلولہ فرمایا کرتے تھے۔ اُس دوران ابنِ آس سے مکالمے…

Read more