‘اپنی اپنی محبت کی خاطر والدین نے مجھے چھوڑ دیا’

This entry is part 1 of 10 in the series HerChoice

ایک لڑکی
جس طرح کوئی کھانا پسند نہ آنے اور کپڑا فٹ نہ ہونے پر آپ اسے چھوڑ دیتے ہیں اسی طرح مجھے بھی چھوڑ دیا گیا۔

میرے والدین نے مجھے بچپن میں ہی تنہا چھوڑ دیا۔

کیا ان کا انتقال ہو گیا ہے؟ نہیں، میں یتیم نہیں ہوں اور یہی بات میرے لیے شدید تکلیف کا باعث ہے۔

میرے والدین زندہ ہیں اور اسی گاؤں میں رہتے ہیں جہاں میں رہتی ہوں، لیکن وہ مجھ سے اجنبیوں جیسا سلوک کرتے ہیں۔

جب میں پنگوڑے میں ہی تھی اسی زمانے میں انھوں نے مجھے چھوڑنے کا فیصلہ کر لیا۔

اس عمر میں یا تو میں کھلکھلا کر ہنس سکتی تھی یا پھر بھوک لگنے پر کسی کے چپ کرانے کا انتظار کر سکتی تھی۔

اس وقت میں ایک ایسی بچی تھی جو نہ تو بول سکتی تھی اور نہ ہی کچھ کھو دینے کا مطلب ہی اس کی سمجھ میں آتا تھا۔

میرے والد نے میری پیدائش کے فورا بعد میری والدہ کو چھوڑ دیا اور کسی دوسری عورت سے شادی کر لی اور بعد میں ان کے اپنے بچے بھی ہوئے۔

اس کے بعد میری ماں نے بھی مجھے چھوڑ دیا۔ وہ بھی کسی دوسرے آدمی کی محبت میں چلی گئيں۔

اور میں؟ میں یہ بھی نہیں جانتی کہ مجھے کیا یاد رکھنا چاہیے کیونکہ مجھے تو کسی کی محبت ملی ہی نہیں۔

میرے ماموں کو مجھ پر ترس آیا اور انھوں نے مجھے پالا۔ جب میں چیزوں کو سمجھنے کے ذرا لائق ہوئی تو انھوں نے ہی مجھے میرے والدین سے ملایا۔

میں نے انھیں اداس نظروں سے دیکھا۔ میں نے سوچا کہ وہ مجھے کھینچ کراپنے گلے سے لگا لیں گے لیکن انھوں نے مجھے کسی انجان کی طرح دیھکا۔

مجھ پر یہ واضح ہو گیا کہ میں

۔۔
Read more

طلاق کے بعد خود سے پیار کرنا سیکھا

This entry is part 2 of 10 in the series HerChoice
خاتون اور بیٹی
یہ اپنی دس سالہ بیٹی کے ساتھ سنگل مدر کا فرض نبھانے والی ایک خاتون کی داستان ہے

اس رات جب میرے شوہر گھر سے نکلے تو مجھے ایسا احساس ہوا کہ جیسے میری دنیا ہی اجڑ گئی ہو۔ اس تباہی کی آواز کہیں نہیں سنی گئی اور اس کی جگہ ایک خوفناک خاموش نے لے لی۔

میں اپنی دس سالہ بیٹی کے ساتھ کھڑی ان تصاویر اور یادوں کو دیکھ رہی تھی جو ہم گذشتہ 17 سالوں میں ہم نے ساتھ مل کر سجائی تھیں۔ میں نے ان سے کئی بار بات کرنے کی کوشش کی لیکن ہر بار انھوں نے وہی جواب دیا کہ ہماری شادی ختم ہو چکی ہے۔ انھوں نے اس کی کوئی وجہ بھی نہیں بتائی اور نہ ہی انھیں کوئی پچھتاوا تھا۔

بعد میں مجھے ان کے دوستوں کے ذریعے پتہ چلا کہ وہ اپنے ساتھ کام کرنے والی ایک عورت کے ساتھ ہیں۔ اس احساس کے بیان کے لیے میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ میں اب مزید جینا نہیں چاہتی تھی۔ میں نے بہت سی دوائیاں ایک ساتھ کھا لیں۔ شاید میں مر جاتی لیکن نہ جانے کس طرح بچ گئی۔ میں نے ان کے سوا کبھی اپنی زندگی کا تصور نہیں کیا تھا۔ اپنی شادی سے آگے کبھی کچھ نہیں سوچا تھا۔

میں اپنے محبوب کو کسی دوسری عورت کے ساتھ نہیں دیکھ سکتی تھی۔ میں اس حقیقت کو قبول نہیں کرنا چاہتی تھی۔

خود سے نفرت کرنے لگی

میں حسد اور دکھ سے گھری ہوئی تھی۔ میں اس عورت کو کوس رہی تھی شاید میں یہ بھول گئی تھی کہ میرے شوہر بھی برابر کے شریک ہیں۔ میں یہ بھی سمجھ رہی تھی کہ سب ایک لمحے میں نہیں ہوا۔ ماضی کی بہت سی یادیں میرے دماغ میں تیرنے لگیں

۔۔
Read more

میں نے بغیر شادی کے بچہ پیدا کرنے کا فیصلہ کیوں کیا؟

This entry is part 4 of 10 in the series HerChoice

جب محبت ہوئی تو اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑا کہ وہ غیر ملکی ہے، نہ تو میرا ہم مذہب ہے اور نہ ہی ہم ذات۔

لیکن ابھی ہمارے لو ان ریلیشنز کو ٹوٹے ہوئے صرف ایک ماہ کا وقت گزرا تھا کہ مجھے پتہ چلا میں حاملہ ہوں اور اس کے بچے کی ماں بننے والی ہوں۔

میرے دوستوں نے کہا کہ میں پاگل ہو گئی ہوں کیونکہ میں 21 سالہ کنواری لڑکی تھی اور بچہ پیدا کرنا چاہتی تھی۔

میں نے بھی محسوس کیا کہ میں پاگل ہو جاؤں گی۔ دل گھبرا رہا تھا اور یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے کچھ بہت برا ہونے والا ہو۔ لیکن جو برا ہونا تھا وہ تو ہو چکا تھا۔

میں 19 سال کی تھی جب میں مصطفی سے پہلی بار ملی تھی۔ شمال مشرقی ریاست کے اپنے چھوٹے شہر کو چھوڑ کر میں نے ملک کے دوسرے سرے پر ایک بڑے شہر میں کال سینٹر میں کام شروع کیا تھا۔

مصطفی افریقی نژاد تھا۔ وہ ‘ٹال، ڈارک اینڈ ہینڈسم’ کے درجے میں فٹ آتا تھا۔ میرا جوان دل اس کی طرف کھنچتا چلا گیا۔ ایک ڈیڑھ سال کی دوستی کے بعد ہم نے ایک ساتھ رہنا شروع کر دیا۔

میں مسیحی ہوں اور وہ مسلمان۔ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ محبت بھی تھی لیکن شادی کے بارے میں سوچنے کی جرات دونوں میں نہیں تھی۔

ہم خوابوں کی اس دنیا میں رہ رہے تھے جہاں مستقبل کے بارے میں کچھ سوچنا بے معنی سا لگتا ہے۔ اس کے بہت سے دوست تھے جو ہمیشہ ہمارے گھر آتے تھے۔ میں بھی ان کے ساتھ ہنستی اور کھل کر بات کرتی تھی۔ پتہ نہیں مصطفی کے دل میں کیسے شک گھر کرنے لگا۔ اسے یہ لگنے لگا کہ میرا

۔۔
Read more

شادی نہ کرنے کا مطلب یہ نہیں کہ میں ہر کسی کے لیے دستیاب ہوں

This entry is part 6 of 10 in the series HerChoice

ہر چوائس
میں اپنے چھوٹے بھائی کے رشتے کے لیے اخبار میں ضرورتِ رشتہ کے صفحات دیکھ رہی تھی کہ ایک رشتہ دار نے ایک سطر پر سرخ رنگ سے نشان لگایا۔ اس سطر پر لکھا تھا: ‘اس کی ایک غیر شادی شدہ بڑی بہن ہے۔’ انھوں نے طنز کے ساتھ کہا: ‘بڑی بہن کی شادی نہ ہونا ہمارے لڑکے کے لیے ایک بہتر لڑکی کی تلاش میں بہت سے مسائل پیدا کرے گا۔’

ان کے یہ الفاظ میرے سینے میں تیر کی طرح لگے۔ میں درد سے بلبلا اٹھی اور بمشکل اپنے آنسوؤں پر قابو پایا۔ میرے اندر غصہ ابل رہا تھا کہ وہ ایسی باتیں کیسے کر سکتے ہیں؟ ان کے الفاظ سن کر دم گھٹتا ہوا محسوس ہوا جیسے کوئی میرا گلا گھونٹ رہا ہو۔ میں زور سے چیخنا چاہتی تھی کہ میرے شادی نہ کرنے کا فیصلہ میرے بھائی کے بہتر لڑکی حاصل کرنے کی راہ میں کیسے حائل ہو سکتا ہے۔ البتہ ان حالات میں خاموشی بہتر تھی اور میں نے ایسا ہی کیا۔

مجھے امید تھی کہ میرا بھائی یا میرے والد میرے اس رشتہ دار کی بات کی مخالفت کریں گے۔ لیکن انھوں نے بھی باقی رشتہ داروں کی طرح میرے دکھوں سے کنارہ کش رہنے میں ہی بہتری سمجھی۔ میری ماں میری تکلیف سمجھتی تھی اور وہ کئی بار اس قسم کی دل دکھانے والی باتوں کو ختم کرنے کی ناکام کوشش بھی کرتی تھی۔ بہر حال وہ خوش تھی کہ اس کے بیٹے کی شادی ہونے والی ہے۔ ایک وقت تھا جب میرے والدین میری شادی کے خواب دیکھا کرتے تھے۔

میں دو بھائی بہنوں میں بڑی تھی اس لیے طے تھا کہ میری شادی ہی پہلے ہو گی لیکن میں نے ایسا نہیں کیا۔ یہ ایسا ہی تھا جیسے میں نے

۔۔
Read more

میں نے شادی نہیں کی، اسی لیے تمہارے والد نہیں

This entry is part 7 of 10 in the series HerChoice

ہر چوائس
میری سات سالہ بیٹی کسی بھی دوسرے بچے کی طرح خوش، لا پرواہ اور سوالات کرنے والی تجسس سے ہے۔ وہ اپنے ارد گرد کی دنیا اور اپنی زندگی کے بارے میں پرجوش رہتی ہے۔ لیکن اکثر وہ ایک سوال پوچھتی ہے کہ ‘آئی (ماں) میرے پاپا کیوں نہیں ہیں؟’

میں نے سنگل رہنے کا فیصلہ کیا اور میں اسے ہمیشہ سچ بتاتی رہی کہ ’میں شادی شدہ نہیں ہوں اور اسی لیے تمہارے والد نہیں ہیں۔‘
لیکن میرے خیال سے وہ اس جواب سے مکمل طور پر مطمئن نہیں تھی۔
میں نے بیٹی گود لی ہے اوراس گھر میں آ کر اس بچی کا دل بے چین رہتا تھا کہ وہاں ماں تو ہے لیکن والد نہیں۔

جب وہ پانچ سال کی ہوئی تو اس نے کہا: ’آئی، آپ نے مجھ سے کہا کہ جب لڑکا اور لڑکی بڑے ہو جاتے ہیں تو وہ شادی کرتے ہیں اور ان کے بچے ہوتے ہیں۔ میری ماں کی بھی ضرور کسی سے شادی ہوئی ہوگی۔ اور جب مجھے اپنی پیدا کرنے والی ماں کا پتہ نہیں تو اسی طرح پیدا کرنے والے والد کا بھی پتہ نہیں۔ لیکن یہ نہ کہیں کہ میرے پاپا نہیں ہیں۔‘

میں رو پڑی۔ مجھے پتہ چلا کہ اس کے سوال کے جواب پر اسے کیسا محسوس ہوتا ہوگا۔
اس کی دلیل آسان تھی۔ ایک پانچ سال کی لڑکی نے اپنے سوال کا جواب ڈھونڈ لیا تھا۔

اس نے میری وضاحت کو بے معنی بنا دیا تھا۔ ایک ماں اور انسان کے روپ میں اس نے مجھے سوچنے پر مجبور کر دیا کہ میں اسے کس قسم کے احساس سے روشناس کرا رہی ہوں۔
وہ کہتی رہتی، ’آئی شادی کرلو۔‘

میں نے اس سمجھایا: ’یہ بات نہیں کہ میں شادی نہیں کرنا چاہتی، میں کل

۔۔
Read more

میں معذور تھی، میرا دوست نہیں لیکن ہم نے شادی کئے بغیر برسوں محبت کی

This entry is part 8 of 10 in the series HerChoice

ہر چوائس
کبھی کبھی وہ یہ بھول جاتا تھا کہ میرا ایک ہاتھ نہیں ہے۔

اگر آپ نے اپنے آپ کو اسی طرح قبول کیا ہو جیسے آپ ہیں تو پھر آپ کے ارد گرد کے لوگ بھی آپ کو آسانی سے اسی طرح قبول کرتے ہیں۔

وہ ایک مضبوط آدمی تھے، ایک مکمل شخص، انھیں کوئی بھی لڑکی مل سکتی تھی۔ لیکن وہ میرے ساتھ تھے۔ ہم بغیر شادی کے ایک ساتھ ایک ہی گھر میں رہنے لگے تھے۔ لیکن شادی کے بغیر ساتھ رہنے کا فیصلہ بہت آسان نہیں تھا۔

اس کی ابتدا اس وقت ہوئی جب میں نے اپنی ماں کی خواہش کے تحت اپنی شادی کے لیے اپنی پروفائل ایک ضرورت رشتہ والی ویب سائٹ پر بنائی۔ میں 26 سال کی ہو چکی تھی اور میری ماں کا خیال تھا کہ یہ میری شادی کا صحیح وقت ہے۔

بچپن میں ایک حادثے میں میرا ایک ہاتھ جاتا رہا تھا۔ لہذا میں اپنی شادی کے بارے میں ان کی تشویش کو سمجھ سکتی تھی۔ ایک دن، مجھے اس ویب سائٹ پر ایک پروپوزل آیا۔ وہ پیشے سے انجینیئر اور میری ہی طرح ایک بنگالی تھا۔ تاہم وہ کسی دوسرے شہر سے تھا۔

ملاقات کا فیصلہ

لیکن میں کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر تھی۔ اس لیے میں نے لکھا کہ میں ابھی شادی کے لیے تیار نہیں ہوں۔ اس کے باوجود، اس کا جواب آیا: ‘تاہم، ہم بات کر سکتے ہیں۔’ میں ایک فلیٹ میں دو دوستوں کے ساتھ رہتی تھی جنھوں نے مجھ سے کہا کہ وہ شخص دھوکے باز ہو سکتا ہے جو مجھے استعمال کرنے کے بعد چھوڑ سکتا ہے۔ مجھے دو خراب رشتوں کا تجربہ تھا اور مجھے اچھی طرح سے یہ پتہ تھا کہ مجھے اگلی بار کیا نہیں کرنا ہے۔

درحقیقت میں کسی

۔۔
Read more

کچھ دنوں کے لیے نہ میں کسی کی بیوی اور نہ ہی ماں!

This entry is part 9 of 10 in the series HerChoice

ہر چوائس
کیا آپ کبھی اسپیتی گئے ہیں؟ یہ ہندوستان کے شمال میں ہمالیہ پہاڑ کی گود میں ایک وادی ہے، جہاں چند لوگ ہی آباد ہیں۔

وہاں کوئی موبائل نیٹ ورک نہیں ہے اور یہی وجہ ہے کہ میں وہاں جاتی ہوں۔ وہاں میں اپنی زندگی آزادانہ طور پر کھل کر جینے کے لیے جاتی ہوں۔

ہم دو جوان خواتین کے ساتھ ہمارا ڈرائیور تھا۔ مجھے آج بھی وہ رات یاد ہے جب اس نے ہمیں کاغذ کی پیالی میں شراب دی تھی۔

شکر ہے کہ اس وقت ہم نے زہر کی طرح تلخ شراب چکھنے کا فیصلہ کیا اور ہمیں مزا آیا۔ میں کار کی چھت پر بیٹھی تھی اور سرد ہوا کے جھونکے میرے جسم کے ساتھ میری روح کو چھو رہے تھے۔

30 سال کی عمر میں ایک متوسط طبقے کی شادی شدہ عورت کے لیے یہ سب کچھ تقریبا ناممکن سا تھا۔ انجان راہوں پر، اجنبی لوگوں کے درمیان اپنے شوہر اور گھر کی فکروں سے دور۔

لیکن میں نے ایسا صرف اس لیے نہیں کیا کیونکہ مجھے اس میں لطف آیا۔ ہر سال دو سال کی مدت میں گھر سے دور کسی ایسی جگہ جانا جہاں موبائل نیٹ ورک نہ ہو اس کے لیے میری اپنی وجوہات ہیں۔

میں اور میرے شوہر دونوں فنکار ہیں اور سیر و سیاحت ہم دونوں کا شوق ہے۔ لیکن جب بھی ہم ایک ساتھ کہیں جاتے ہیں تو وہ مجھے اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

تمام فیصلے وہی کرتے ہیں۔ مثلا کس گاڑی میں جانا ہے، کب جانا ہے، کہاں ٹھہرنا ہے، کونسا ہوٹل، سیکورٹی یعنی سب کچھ۔ وہ میری رائے بھی لیتے لیکن وہ صرف اپنا فیصلہ سنانے کے لیے ہوتے ہیں۔

ہوٹل کے کمرے میں مجھ سے پہلے وہ خود جاتے ہیں اور کمرے کی جانچ پڑتال

۔۔
Read more

شوہر کو بتائے بغیر نس بندی کرا لی

This entry is part 10 of 10 in the series HerChoice

ہر چوائساپنے شوہر سے پہلے بھی جھوٹ بول چکی تھی اور اس کا نفع نقصان سمجھتی تھی لیکن اس بار یوں لگا جیسے میں اندھے کنویں میں چھلانگ لگا رہی ہوں۔ پہلے بات کچھ اور تھی۔ میں نے اپنے شوہر کو اپنی تنخواہ اصل سے کم بتائی تھی تاکہ میں کچھ پیسہ جمع کر سکوں اور انھیں شراب میں پیسے اڑانے سے باز رکھوں۔

مجھے پتہ تھا کہ پکڑے جانے پر مار پڑے گی۔ آنکھوں پر ورم آئے گا، آنتوں میں درد ہوگا، کمر پر کچھ نشان آئیں گے۔ لیکن یہ اطمینان تھا کہ بینک کے فکسڈ ڈپازٹ سے وہ رقم نہیں نکال سکیں گے۔ میری میڈم (مالکن) نے یہ بات مجھے بتائی تھی ورنہ بینک میں اکاؤنٹ کھولنا اور پیسہ جمع کرنا مجھے جیسی ایک گاؤں کی لڑکی کے بس کی بات کہاں تھی؟

آج بھی جو کرنے جا رہی تھی اس کے بارے میں میڈم نے ہی بتایا تھا۔ لیکن دل منہ کو آ رہا تھا۔ اس بار میرا جسم داؤ پر تھا اور سنا تھا کہ اس آپریشن میں موت بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن اب تو زندگی بھی موت جیسی لگنے لگی تھی۔ میری عمر 22 سال تھی لیکن میں 40 سال کی نظر آنے لگی تھی۔

جسم ہڈیوں کا ڈھانچا رہ گیا تھا۔ آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بن گئے تھے اور چہرے پر معصومیت کی جگہ تھکان تھی۔ جسم جوان نہیں رہا تھا۔ چلنے پر محسوس ہوتا تھا کہ کمر بھی قدرے جھک گئی ہے۔ اور یہ ہر کسی کو نظر آتا تھا لیکن جو کچھ میرے اندر بکھرا تھا اس کی گونج صرف میرے کانوں میں تھی۔ ابتدا میں کچھ غلط نہیں لگتا تھا۔ 15 سال کی عمر میں شادی ہوئی اور شہر آ گئی۔ شوہر کام سے گھر لوٹتے تو کھانے کے بعد

۔۔
Read more