لڑکیوں کو زندہ درگور کر دینے والی قبائلی رسم

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

آپ کسی سے بھی پوچھ لیں، ہر کوئی یہی کہے گا کہ ناز (اصل شناخت ظاہر نہیں کی گئی) خیبرپختونخوا کے ضلع چارسدہ کی سب سے خوبصورت خاتون ہے۔ گزرے سالوں میں کچھ بہت زیادہ تو تبدیل نہیں ہوا، لیکن اس کے چہرے پر وہ رونق اور چمک نہیں ہے، جو کبھی ہوا کرتی تھی۔

32 سالہ ناز اب اپنے ماضی کو زیادہ یاد نہیں کرتی، وہ اپنی قسمت کو قبول کرچکی ہے، اس کی تمام بہنیں شادی شدہ ہیں اور وہ اپنے بڑے بھائیوں اور ان کے اہلخانہ کے ساتھ رہتی ہے۔

10 سال قبل، ایک مقامی لڑکے کو ناز سے محبت ہوئی اور اس نے اسے شادی کا پیغام بھیجا، جسے ناز نے مسترد کردیا۔ لڑکے نے دوبارہ کوشش کی لیکن اسے ناکامی ہوئی۔ آخرکار ایک دن وہ اس کے گھر کے باہر آیا، کچھ ہوائی فائر کیے اور وہاں جمع ہوجانے والے لوگوں کے سامنے اعلان کیا کہ ناز صرف اس کی ہے اور اگر کسی اور نے اس سے شادی کی خواہش کی تو وہ اسے اپنا دشمن تصور کرے گا۔

ناز اب ’غگ‘ کے تحت زندگی گزارنے پر مجبور ہے، یہ ایک ایسی قدیم قبائلی رسم ہے، جس میں کوئی بھی شخص کھلے عام یہ دعویٰ کرتا ہے کہ وہ فلاں لڑکی کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے، اس لیے کوئی اور اس لڑکی کے لیے پیغام نہیں بھجوائے گا۔

اب کوئی بھی ناز سے شادی کا خواہش مند نہیں، کسی میں اتنی ہمت ہی نہیں کہ وہ ایسا کرے۔ ناز کے والدین نے اسے مصروف رکھنے کے لیے ایک چھوٹا سا مدرسہ کھول کر دے رکھا ہے، جہاں وہ مقامی بچوں کو قرآن پاک کی تعلیم دیتی ہے۔ اب وہ نوجوان بھی شادی شدہ اور بچوں کا باپ ہے، لیکن اس نے ناز کو اپنے دعوے سے آزاد نہیں کیا۔

ناز نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے بتایا، ’میں خود کو اکیلا محسوس کرتی ہوں، میرے علاوہ ہر کوئی اپنی زندگی میں مگن ہے۔ میں اپنے والدین کے سامنے خود کو خوش ظاہر کرتی ہوں، کیوں کہ مجھے معلوم ہے کہ وہ میری وجہ سے پریشان رہتے ہیں، بس یہی میری زندگی ہے‘۔

ناز کی اپنی کوئی مرضی نہیں ہے اور وہ ایسی واحد لڑکی نہیں ہے، قبائلی علاقوں میں ایسی بہت سی لڑکیاں ہیں، جو بغیر کسی غلطی کے ’غگ‘ جیسی رسم کا شکار ہیں۔
2012 میں خیبرپختونخوا حکومت نے غگ کے خاتمے کے لیے ایک بل پاس کیا تھا، جس کے تحت 7 سال کی سزا ہوسکتی ہے، تاہم ابھی تک کوئی خاص تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔

گذشتہ ماہ میڈیکل کی ایک طالبہ عاصمہ رانی کو کوہاٹ میں رشتے سے انکار کرنے کی بنا پر گولی مار کر قتل کردیا گیا۔ اپنی وفات سے قبل ایک ویڈیو میں عاصمہ نے مجاہد آفریدی نامی شخص کا نام اپنے قاتل کے طور پر بتایا، جو شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہے۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہے کہ اس کیس میں غگ کا کتنا عمل دخل تھا، لیکن صورتحال کم و بیش ایک جیسی ہے۔

مجاہد آفریدی نے زبردستی عاصمہ سے شادی کی خواہش کا اظہار کیا، جسے مقتولہ نے مسترد کردیا، جس پر مشتعل ہوکر اس نے عاصمہ کو فائرنگ کرکے موت کے گھاٹ اتار دیا۔

مقتولہ کی بہن صفیہ رانی، جو لندن میں رہائش پذیر ہیں، اس واقعے کے بعد سے دو ویڈیو پیغامات جاری کرچکی ہیں۔ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے بتایا کہ ان کے اہلخانہ نے کئی مرتبہ مجاہد کی بیوی، والد، بھائیوں اور دیگر رشتے داروں سے رابطہ کرکے انہیں کہا کہ وہ عاصمہ کو پریشان کرنا بند کردے، لیکن کوئی فائدہ نہیں ہوا، وہ ہر صورت عاصمہ سے شادی کرنا چاہتا تھا۔

ٹھکرائے ہوئے مرد، اکثر اوقات اس طرح سے اپنی من پسند لڑکی کو اپنی قمست بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور ایک مرتبہ جب غگ کا اعلان ہوجائے تو اس دعوے سے رہائی کے باوجود بھی کوئی شخص کسی ناخوشگوار صورتحال سے بچنے کے لیے اُس لڑکی سے شادی نہیں کرنا چاہتا۔ لیکن مردوں کے لیے اس طرح کی کوئی پابندی نہیں، وہ شادی کرنے کے لیے آزاد ہوتے ہیں اور وہ اپنا گھر بساتے بھی ہیں۔

2014 میں ایک رپورٹ بعنوان ’پاکستان میں غیرت کے نام پر قتل—حقیقت اور تصورات کا انکشاف‘ میں بتایا گیا کہ ’غگ کی رسم زیادہ تر پختون علاقوں میں رائج ہے۔ اس رسم کے تحت مردوں (خصوصاً چچا یا تایا کے بیٹوں) کو یہ پیدائشی حق حاصل ہے کہ وہ اپنی کزنز سے شادی کریں، چاہے ان کا کوئی جوڑ ہو یا نہ ہو‘۔

رپورٹ کے مطابق ’ایسے بہت سے کیسز ہیں جہاں لڑکیوں کو ان کے خاندان کے ایسے مردوں سے شادی کے لیے مجبور کیا گیا جو مجرمانہ پس منظر رکھتے تھے یا ذہنی یا جسمانی طور پر کسی معذوری کا شکار تھے‘۔

غیرسرکاری اعدادوشمار کے مطابق 2016 میں غگ کی شکار تقریباً 20 لڑکیوں نے خودکشی کی، یہ تعداد اس سے زیادہ بھی ہوسکتی ہے کیونکہ بہت سے کیسزرپورٹ نہیں کیے جاتے۔
ایسے ہی ایک واقعے میں، جب ایک خاتون کو ان کے شوہر نے طلاق دی تو بدلہ لینے کے لیے خاتون کے بھتیجے نے ان کے سابق شوہر کی بھتیجیوں پر غگ کا دعویٰ کردیا۔

اگرچہ اس حوالے سے قانون موجود ہے لیکن اس کے تحت کسی کو سزا دیے جانے کے کوئی شواہد نہیں ملتے۔
ڈی آئی جی کوہاٹ اول خان، عاصمہ رانی کیس میں غگ کی طرح کے دعووں سے متعلق باخبر تھے، لیکن انہوں نے اصرار کیا کہ واقعے کی ایف آئی آر میں اس کا تذکرہ کرنا ضروری نہیں تھا۔

انہوں نے جیو نیوز سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’قتل کا مقدمہ درج کیا جاچکا ہے، جو تمام قانونی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے‘۔
صوبے کے ایک سینئر پولیس افسر محمد علی بابا خیل کے مطابق وہ خواتین جو غگ کا شکار ہوتی ہیں، آگاہی نہ ہونے کی وجہ سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد بھی نہیں لیتیں۔

ان کا کہنا تھا، ’میڈیا بھی اس سلسلے میں ناکام ہوچکا ہے کہ وہ خواتین کو قانون کے حوالے سے آگاہی فراہم کرے، دیہی علاقوں میں خواتین کی اکثریت اپنے حقوق سے آگاہ نہیں ہے اور انہیں نہیں معلوم کہ پولیس سے کس طرح مدد لینی ہے‘۔

تاہم فاٹا کے ایک سابق قانون ساز منیر اورکزئی کا ماننا ہے کہ یہ قدیم رسم اب متروک ہوچکی ہے اور قبائلی علاقوں میں رائج نہیں ہے، ان کا کہنا تھا، ’مجھے نہیں معلوم کہ اس رسم پر کہاں عمل کیا جارہا ہے‘۔

ساتھ ہی ان کا کہنا تھا کہ ’یہ بات یاد رکھنا ضروری ہے کہ 1973 کا آئین کسی کو فاٹا میں قانون سازی کی اجازت نہیں دیتا، یہ اختیار صرف صدر مملکت کو حاصل ہے‘۔
اس سب سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ناز اور عاصمہ رانی جیسی لڑکیوں کے پاس ایسی کوئی جگہ نہیں، جہاں وہ انصاف کی تلاش میں جاسکیں۔
بشکریہ جیو نیوز

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •