کیا عائشہ گلالئی ایک اچھی عورت ہے؟

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بچپن سے لوگوں سے سنتے آئے ہیں کہ فلاں اچھی عورت نہیں ہے اور ہمیشہ ذہن میں سوال آتا تھا کہ اچھی عورت کون سی ہے؟ جس سے بھی پوچھا !نھوں نے کہاکہ ابھی تمھاری عمر نہیں ہے جب تمھیں سمجھ آ جائے گی تو تم خود بخود سمجھ جاؤ گی۔ تو ذہین کے گوشوں میں پنپنے والا یہ سوال ہمیشہ کسی نہ کسی واقعہ کے بعد ا ژدھا بن کر کھڑا ہوجاتا کہ  اچھی عورت کونسی ہوتی ہے؟ وقت گزرتا گیا اور جب شعور کی منزل کو پہنچی توعقل نے اچھایا اچھی ہونے کے جو دلائل دئیے وہ معاشرہ نے تسلیم کرنے سے انکار کر دیا۔ ان کے نزدیک اچھا پر اتنا زور نہیں تھا، جتنا اچھی پر زور تھا اور ان کی اچھی پرجو منطق یا دلائل تھے وہ سمجھ سے بالاتر تھے کیونکہ اﷲ تعالیٰ نے قرآنِ پاک میں ہمیشہ جمع متکلم کا صیغہ استعمال کیا اور جہاں کہیں جنس کو مخاطب کیا تو دونوں کیلئے احکام ، جزا و سزا کا ایک جیسا حکم دیا تو پھر ہمارے معاشرے میں لفظ (اچھی) کی توجیہ مجھے سمجھ نہیں آئی۔

 چند دنوں پہلے ہم سب سن رہے تھے کہ جس طرح پرنٹ، الیکٹرانک، سوشل میڈیا اور نجی محفلوں میں عائشہ گلالئی کا تذکرہ ہوتا رہا تو اسے اچھی عورت نہیں کہا جاتا۔ تو میرے دماغ میں پھر اچھی عورت کا معیار نا گ بن کر ڈسنے لگا۔ میں نے اب اپنے دماغ کو تکلیف دینے کے بجائے لوگوں سے پوچھنا بہتر سمجھا کہ ہو سکتا ہے اب مجھے اچھی عورت کا بہتر جواب مل سکے۔

اس سلسلہ میں، میں نے اپنے علاقہ کے رہنے والے لوگوں کو ترجیح دی کہ جس سے عائشہ گلالئی کا تعلق ہے یعنی ساؤتھ وزیرستان، کہ ہو سکتا ہے وہ زیادہ اچھے طریقے سے مجھے اچھی عورت کی تشریح بتا سکیں اور اس کی روشنی میں عائشہ گلالئی کو اچھی عورت ہونے یا نہ ہونے کا سرٹیفیکیٹ مل سکے چاہے کو ئی اسے مانے یا نہ مانے۔

نوٹ ۔عوام کی رائے ان کے نام ظاہر کئے بغیر اس طرح لکھ رہی ہوں جیسے انھوں نے اپنی رائے دی،ان معززین علاقہ میں سیاسی ،مذہبی اور عام شہریوں میں مرد و زن دونوں شامل ہیں۔

1۔ عام شہری مرد

 اچھی عورت کو باپردہ ہونا چاہیے،اور اپنے گھر والوں کے ساتھ اچھا رویہ ہونا چاہیے۔ ان کی ہر بات ماننی چاہیے، معمولی معمولی باتوں پر ناراض نہیں ہونا چاہیے۔

اور عائشہ گلالئی کے حوالے سے کہا کہ اچھی عورت تھی اور ہے لیکن اس نے جو خان صاحب کے ساتھ کیا اس کے بعد اس کا امیج کچھ ٹھیک نہیں رہا۔

2۔ عام شہری مرد

 اچھی عورت وہ ہے جس کا اخلاق اچھا ہوا۔

اور عائشہ گلالئی کے حوالے سے کہا کہ وہ گھٹیا عورت ہے۔

۳۔ مفتی/عالمِ دین

 اچھی عورت وہ ہے جو با پردہ رہے اور اپنے حق کے لئے ڈسٹرکٹ اسمبلی، صوبائی اسمبلی اور قومی اسمبلی میں آوا ز اٹھائے۔

اور عائشہ گلالئی کے حوالے سے کہا کہ وہ خان صاحب پر الزام لگاتی ہے حالانکہ وہ ایک اچھا آدمی ہے ۔اور میں عائشہ گلالئی کے حوالے سے کوئی کمنٹ نہیں کر نا چاہتا۔

4۔ عام شہری خاتون

 اچھی عورت کی پہچان اس کی سیرت ہوتی ہے، ایک اچھی بہن جو اپنے بھائیوں کا خیال رکھے۔ ان کی ضرورتوں کو پورا کرے۔ ان کے دکھ درد کو سمجھے اور مسائل حل کرنے میں ان کا ساتھ دے۔ ایک اچھی بیوی کے روپ میں شوہر کا ساتھ دے اور اس کی پریشانیوں کو سمجھے اور اس کی ضرورتوں کا خیال رکھے۔ ایک اچھی بیٹی کی صورت میں اپنے والدین کی خدمت کرے، ان کی فرمان بردار رہے اور بڑھاپے میں ان کا سہارا بنے۔

اور عائشہ گلالئی کے حوالے سے کہا کہ چار سال تک ساتھ رہنے والی عورت کو ایک دم سے خان صاحب میں برائی نظر آنے لگ گئی۔  عائشہ گلالئی جو کہ یہ کہتی ہے کہ میں نے عورتوں کے حقوق کے لیے آاواز اٹھائی ہے وہ جھوٹ بولتی ہے اس کے اپنے مفادات ہیں اور دراصل وہ خود اچھی عورت نہیں ہے۔

5۔ عام شہری خاتون

اچھی عورت وہ ہے جو با پردہ ہو۔

اور عائشہ گلالئی کے حوالے سے کہاوہ خود اچھی عورت نہیں ہے۔

6۔ عام شہری خاتون

اچھی عورت وہ ہے جو اپنے بچوں کی تربیت اچھے طریقے سے کرے گھر کو سنبھالے اور تعلیم یافتہ ہو۔

اور عائشہ گلالئی کے حوالے سے کہا کہ وہ سیاسی عورت ہے۔

7۔ سیاست دان

اچھی عورت وہ ہے جو باحیا ہو۔

اور عائشہ گلالئی کے حوالے سے کہا کہ بہ حثییت سیاسی ورکر جس پارٹی میں بھی جانا چاہتی تھیں یہ ان کا حق ہے لیکن غصہ اِس بات کا ہے کہ انھیں حیا کا دامن نہیں چھوڑنا چاہیے تھا انھوں نے حیا اتار کے پھینک دی۔

مندرجہ بالا جتنی بھی آرا میں نے بیان کی ہیں وہ من وعن وہی ہیں جو ساؤتھ ڈسٹرکٹ کے رہایشیوں نے بتائی ہیں ۔

اِن آرا کی روشنی میں جو کہ ایک اچھی عورت کی بیان کی گئی ہیں اگر اِن کا بہ نظرِغور معائنہ کیا جائے اور ایک جملہ میں سمویا جائے  کہ ایک اچھی عورت باپردہ، باحیا، والدین بھائیوں کی ہمدرد، اچھے اخلاق والی اور اسمبلی میں آ واز اٹھانے والی ہوتی ہے۔

اگر ہم بغیر کسی سیاسی عینک کے بہ نظرِغور دیکھیں تو یہ تمام کی تمام خوبیاں عائشہ گلالئی میں بدرجہ اتم موجود ہیں۔ لیکن وہ پھر بھی اچھی عورت نہیں ہے۔۔۔۔۔۔ حیرت ہے ہم نے تمام معیارات خود سیٹ کئے اور ان پر پورا اترنے والی پھر بھی معتوب ٹھہری۔

پھر اچھی عورت کون سی ہے؟ اِس واقعہ کے بعد ا ژدھا بن کر میرے سامنے کھڑا ہو گیا اور شعور کی اِس منزل پر بھی یہ سوال جوں کا توں مو جود ہے کہ وہ اچھی عورت نہیں ہے۔۔۔۔ میں تو آج بھی اسی بچپن کے سوال میں پھنسی ہوئی ہوں!

تمام آرا کو سامنے رکھ کر بغیرکسی سیاسی تعصب کے دیکھیں اور خود فیصلہ کریں کہ اچھی عورت کون سی ہے اور کیا عائشہ گلالئی ایک اچھی عورت ہے؟

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
ابر صبا بخاری کی دیگر تحریریں
ابر صبا بخاری کی دیگر تحریریں