عورت اور نظریہ وجودیت

لوئیس التھوزر ایک مارکسس فلاسفر ہیں جو معاشرے کی ساخت کی بنیاد (خصوصاً معاشیاتی اعتبار سے) تین قوتوں پر منحصر دیکھتے ہیں۔
1۔ معاشرے میں ایسے افراد جو ورکر ہیں اور ان کے پاس تکنیکی علم اور مہارت موجود ہو۔
2۔ انسانی ضرورتوں کو پوراکرنے کی پیداواری صلاحیت اور ذرائع۔
3۔ پیداواری صلاحیتوں کو بڑھانے میں ورکرز کا کردار اور ان کے آپسی تعلوقات اور ان تعلقات کا معاشرے کی پیداواری صلاحیتوں پر اثر انداز ہونا

اب عمرانیات میں یہ تعلقات معاشرتی افراد کے تفاعل پر مبنی ہیں مزید براں صنفی علوم کے ماہرین اس کو مرد اور عورت کے باہمی تفاعل کے تناظر میں دیکھتے ہیں۔ ہمارے ہاں معاشرہ جہاں ساختی اعتبار سے دو حصوں میں تقسیم ہے وہاں عورت کے حصے میں گھریلو یا اندرونی پوزیشن اور مرد کے حصے میں بیرونی، معاشرتی پوزیشن کی تقسیم سے ہم باخوبی واقف ہیں۔

مرد اور عورت کے تفاعل میں فنکشنلزم تھیوری کے ماننے والے اس اصول پر بضد نظر آتے ہیں اور یہ اندرونی اور بیرونی تقسیم دراصل معاشرے میں معاشی پیداوار کے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ عورتوں کو گھروں میں اس لئے رہنا چاہیے کہ بیرونی ذمہ داریوں سے تھکا ہارا مرد جب گھر آئے تو وہ محبت، احساس اور توجہ جیسے جذبات کو اپنے لئے سر گرم پائے اپنا تنقیہ نفس کرے اور اگلے دن پھر سے تازہ دم ہو کر معاشرے میں پیداواری صلاحیتوں پر بھرپور توجہ دے پائے۔ اب اگر عورت بھی گھر سے نکلی اور معاشرے کی بیرونی پوزیشن میں مرد کی حصہ دار بنی تو تنقیہ نفس کہاں سے ہوگا۔ اور دو تھکے ہوئے جنس معاشرے کے لئے ”کارآمد“ ورکرز ثابت نہ ہو پائیں گے۔

دنیا میں اصل معنوں میں کوء بھی معاشرہ صنفی برابری پر مشتمل نہیں ہے، تاریخی اعتبار سے دیکھا جائے تو Hunter and gatherers کے زمانے میں مرد اور عورت کا انحصار ایک دوسرے پر لازم وملزوم کی حثیت رکھتا تھا کہ جہاں مرد اگر کسی روز شکار کر کے نہ لاسکے تو عورت کے جمع کردہ پھلوں اور نباتات پر گروپ زندگی کو دوام حاصل رہے۔ مگر وقت گزرنے کے سات ساتھ ”آلات“ کی ایجادات نے مردوں کو عورتوں پر انحصار کرنے کے عمل سے دور کیا۔ پھر زرعی دور میں تو ”جتنے بچے اتنے ہی کمانے والے ہاتھ“ کے تصور نے عورتوں کو بچے پیدا کرنے کا ذریعہ بناتے ہوئے اندرونی پوزیشن پر مضبوط کر دیا۔ صنتی دور اور خصوصاً ایسی صنت جس میں اور ٹائم اور کام کے دورانیے کی طوالت تھی نے عورتوں کو بیرونی پوزیشن سے اور دور کر دیا۔

سچ تو یہ ہے کہ سرمایہ درانہ نظام کو اپنے سرمایہ سے مطلب تھا اب اس سرمائے کی پیداوار عورتیں کریں یا مرد ”نظام“ کو اس سے کوئی مطلب نہ تھا۔ مگر یہ بات صرف معیشت تک محدود نہ تھی۔ اس معشیتی پیداوار کے ساتھ یہ نظریہ معاشرتی اور ثقافتی نظریے سے جڑا ہوا تھا جس نے مردوں کو یہ کہ
”میں بنانے پر قدرت رکھتا ہوں“
کی خود ساختہ برتری میں مبتلا کر دیا۔

4۔ سیمون ڈی بیور ماہر صنفی علوم اس برتری کی وجہ ”نظریہ وجودیت“ کو بتاتی ہیں۔ جس میں ایک انسان کو کس حد تک یہ آزادی حاصل ہے کہ وہ مکمل طور پر آزادانہ حثیت میں اپنی اور اپنے اردگرد کے معاشرے کی تشکیل کر سکے۔

اب پاکستان جیسے معاشرے میں بدقسمتی سے عورتوں کو وہ آزادانہ حثیت نصیب نہ ہو سکی جس سے وہ اپنے ”نظریہ وجود“ کو تشکیل دے سکتیں۔ پدرشاہی کے معاشرے میں ہر طاقتور حثیت کے شخص اور ادارے نے عورت کے ”نظری وجود“ کو اپنے انداز میں ڈھالنے کی کوشش کی۔

پیدا ہونے سے پہلے نام سے لے کر اس کی شادی رشتہ داروں میں ہو گی تک کے فیصلے، پھر تعلیم عورت کے لئے ثانوی خصوصیت ہو گی، شادی ہی منزل مقصود ہوگی جس کے لئے شہزادے کا انتظار کیا جائے گا، پھر اگر وہ عورت اگر آزادی اظہار کے ذرائع مانگے گی تو اس پر ہر ممکن قدغن لگائی جائے گی۔

5۔ ”عورت اور محبت“ یہ تو بے حیائی تصور ہو گی۔ خاندان کی عزتوں کلا بھاری بوجھ اس کے ناتواں کندھوں پر ہوگا۔ خاندانوں پر آنے والی مصیبتوں کی ذمہ داری عورت کے آزادانہ طرز زندگی پر ڈالی جائے گی۔ بہت ہوا تو اس کو اپنی پسند کی زندگی گزارنے کے لئے مشروط لائحہ عمل پر تیار کیا جائے گا اور اس لائحہ عمل کو عورت کو دی گئی ”رعایت“ تصور سے بدلا جائے گا۔

عورت اپنی آزادانہ نظریہ وجود کو ”رعایت“ پر کمپرومائز اس لئے کر دیتی ہے کہ چلو ابھی اتنی ہی لڑائی لڑی جائے، یہ رعایت بھی نہ ملی تو باقی عمر کی جدوجہد بھی غارت ہو گی۔ بہت ڈھیٹ عورت ہوئی تو اس کی چوائس کو اس کی بھاری ذمہ داری بنا دیا جائے گا۔ ”ہم نے تو پہلے ہی منع کیا تھا اب بھگتو“ یہ حرکتیں اپنے تک رکھو ہماری عورتوں کو خراب نہ کرو۔ عورت کو سکھایا گیا کہ اس کا نظریہ وجود اس سے منسلک طاقتور افراد ہی طے کریں گے۔

6۔ اس کے نظریہ وجود کی بنیاد میں ڈالا جائے گا کہ تم شرم و حیاء کا پیکر عزتوں کی محافظ اور آئندہ نسلوں کی آمین رہوگی۔
ایسے نظریہ وجود میں عورت نے جب اپنی تشکیل کی تو وہ بھی مرد کی نظروں سے ہی کی۔

میں ایسا کیا کروں کہ میرے باپ بھائی کو مجھ پر فخر ہو؟ شوہر کی رضا کیسے حاصل ہو کہ مجازی خدا کی خوشی سے حقیقی خدا کی خوشنودی حاصل ہو گی۔ اپنی خواہشات کو کہاں کہاں دفن کرنا ہے؟ کہ معاشرہ اچھی عورت کا خطاب دے سکے۔ عورت کے لئے خوشی کا پیمانہ اس کے ارد گرد کے لوگوں کا اس سے خوش ہونا بنایا گیا۔ بہت ہوا تو دیکھو تم اپنے اندر خوشی تلاش کرو، خوشی کا محور کسی دوسرے کی ذات کو بنایا تو ہماری عزتیں داؤ پر آجائیں گی اور چھوڑو دنیاوی محبتوں کا کیا کرو گی اپنی ذمہ داریاں ادا کرو خدا کی ذات سے محبت کرو، تمہاری ذات کا کیا ہے آخرت تو سنور گئی نا۔

7۔ لٹریچر میں ایک لفظ استعمال ہوتا ہے ”سبجیکٹ“ اور اس کے لفظی معنی ہیں ایسا انسان یا چیز یا مضمون جو اپنے حالات کو اپنی مرضی سے بدلنے کی صلاحیت رکھتا ہو۔ اب ہمارے ہاں عورت سبجیکٹ تو ہے مگر ”سبکجٹیڈ“ ہے وہ اپنے نظریہ وجود کو اپنے ارد گرد کے طاقتور حالات اور اشخاص سے منسلک کر کے خود کی تشکیل کرنے پر مجبور کر دی گئی ہے۔ اپنی تشکیل طاقتور کی رائے سے کرتی ہے۔

”آج میرے والد نے، میرے بھائی نے، میرے شوہر نے، میری تعریف کی، لوگ کہتے ہیں میں نے کیا عمدہ تربیت کی ہے اپنی اولاد کی۔ میرا گھر اس محلے کا سب سے صاف ستھرا منظم گھر ہے۔
اؤ ہو آج اگر کوئی مجھ سے ناراض ہوا تو میرا ہے قصور ہو گا، میری ہی غلطی“
اور یوں وجود کی تشکیل کرتے ہوئے عورت یہ بھول گئی کہ اس کی اپنی صلاحتیں کیا تھیں کہاں کہاں بروئے کار لائی جا سکتی تھیں وغیرہ

حل کی طرف آتے ہیں
1۔ سب سے بڑھ کر یہ کہ جس طاقتور شخص کی غلامی عورت کے وجود کی تشکیل کر رہی تھی اس طاقتور شخص کی اپنی طاقت کی بنیاد عورت کی غلامی ہے۔ طاقتور اس وقت طاقتور نہیں رہتا جب غلام غلامی چھوڑنے پر آمادہ ہو جائے۔

2۔ پھر یہ کہ لڑائی ہے کس سے اگر کہیں کہ مردوں سے تو یہ بھی ناتعشفی بات ہوگی، لڑائی مرد سے نہیں اس کے طاقت کی ناجائز بنیادوں سے ہونی چاہیے۔
3۔ شعوری طور پر جب یہ سکھادیا گیا ہے کہ اپنی آرا، پسند اور زندگی گزارنے کے طریقوں کے اظہار پر قابو رکھنا ہے تو لا شعور میں بیٹھے امکانات کی تلاش عورت کو خود کرنا ہوگی اور پھر ان امکانات کے اظہار کے ذرائع، گناہ تصور نہ کرتے ہوئے اپنے وجود کی مکمل تعشفی تشکیل بنانے ہوں گے۔
4۔ ”نظریہ برتری“ کو نظریہ مبادلہ سے بدلنا ہو گا۔ معاشرتی ذمہ داریوں کو ادل بدل کر کہ انجام دینا ہوگا۔

مردوں کو بھی اس احساس کو جنم دینا ہوگا کہ وہ بہت سے عمل جو مردوں کی زندگی روٹین کی حثیت رکھتے ہیں عورتوں کو ان کے حصول کے لیے لڑائی لڑنی پڑتی ہے۔
ایک دوسرے کی جگہ آکر، احساس و احترام کے جذبی کی فضاء قائم کرنا ہوگا تب ہی معاشرے کی صحت مندانہ ترقی ہوگی۔ صنفی رویوں کے اظہارکی گنجائش مثبت انداز میں پیدا کرنی ہوگی۔ یاد رکھیے حدود کے نام پر خود کو محدود کرنے سے کچھ نہ ہوگا۔

مارکس کہتا ہے
ہم کچھ نہیں
ہمیں سب کچھ بننا ہے

فرح احمد