اسمبلی کے اسپیکر کو توہین عدالت کا نوٹس بدقسمتی ہے؛ رضا ربانی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے سینیٹ اجلاس کے دوران پارلیمانی کارروائی کے حوالے سے چیف جسٹس کے فیصلوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ماتحت عدالتوں کو بھی پارلیمنٹ کے متعلق ایسے ہی تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ ’حالیہ دنوں میں پیدا ہونے والی صورت حال نے میرے ضمیر کو کہا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کی توجہ ایک تفصیلی فیصلے کی جانب مبذول کرواؤں‘۔

انھوں نے سپریم کورٹ کے ایک مقدمے ذوالفقار احمد بھٹہ بمقابلہ ریاست پاکستان کے فیصلے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ جس میں پارلیمنٹ کی اندرونی کارروائی میں مداخلت سے اجتناب کیا گیا تھا اور اس فیصلے کو خود چیف جسٹس آف پاکستان نے تحریر کیا تھا۔

انھوں نے دوسری ہائی کورٹس، عدالتوں، عدالتی ٹریبیونلز کو مشورہ دیا کہ اسی طرح تحمل کا مظاہرہ کرنا چاہیے۔

چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ عدالت اور پارلیمنٹ کے علیحدہ مقاصد نہیں بلکہ عدلیہ اور پارلیمنٹ دونوں کا مقصد آئین کا دفاع اور تحفظ ہے۔

انھوں نے خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ’یہ افسوس ناک ہے کہ اسمبلی کے ایک اسپیکر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا گیا‘۔

خیال رہے کہ 2 مارچ کو پشاور ہائی کورٹ نے منتخب وزیر صوبائی اسمبلی بلدیو کمار کے معاملے پر خیبر پختونخوا اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر کو توہین عدالت کا نوٹس جاری کیا تھا جس کے بعد اسپیکر اسمبلی عدالت میں پیش بھی ہوئے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ کی جانب سے پارلیمنٹ کی اندرونی کاروائی کی معلومات منگوانا، پارلیمنٹ کی اندورنی کاروائی کے تصور کی خلاف ورزی ہے۔

انھوں نے بتایا کہ وہ بین الادارتی اور بین العدالتی معاملات پر چیف جسٹس سے ملاقات کرنا چاہتے تھے لیکن وقت کی کمی کے باعث ایسا نہیں کر سکے۔

چیئرمین سینیٹ کا کہنا تھا کہ ان کا دفتر ایسے عدالتی معاملات کو ادارتی عزت کی روشنی میں حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے اور ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے یقین ہے کہ میرے بعد آنے والے چئیرمین سینیٹ اس معاملے پر چیف جسٹس سے بات بھی کریں گے‘۔

مجھے چیف جسٹس کے قسم کھانے پر تشویش ہے، فرحت اللہ بابر

اجلاس کے دوران سبکدوش ہونے والے پیپلز پارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے سپریم کورٹ کے فیصلوں اور بیانات سمیت موجودہ حالات پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’چیف جسٹس آف پاکستان قسم کھا کر کہتے ہیں کہ میرا سیاسی ایجنڈا نہیں، مجھے ان کے قسم کھانے پر تشویش ہو رہی ہے‘۔

پیپلز پارٹی کے ترجمان کا کہنا تھا کہ مجھے تشویش ہے کہ جج صاحبان اپنے وقار کے لیے توہین عدالت نوٹس کا سہارا لیتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ ’میرے گاؤں کے رحمت بابا کہتے ہیں کہ آئین بالاتر ہے لیکن وہ یہ بھی کہتے ہیں کہ آئین وہ ہے جو میں کہوں گا‘۔

سبکدوش سنیٹر نے عدالتی فیصلوں میں آئین اور قانون کا حوالا دینے کی بجائے شعر لکھنے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ انتخابات کا سال 2018 کہیں عدالت کے خلاف ریفرنڈم کا سال ثابت نہ ہو۔

فرحت اللہ بابر نے ججوں سے درخواست کہ خدا کے لیے ایسے راستے پر نہ چلیں کہ عدلیہ پر ریفرنڈم کا دن آئے۔

انھوں نے خبر دار کیا کہ اگر اگر کسی نے اٹھارویں ترمیم کو رول بیک کرنے کی کوشش کی تو حالات کو کوئی سنبھال نہیں سکے گا۔

قبل ازیں اسلام آباد ہائی کورٹ نے الیکشن ایکٹ 2017 کے حوالے سے پارلیمنٹ اور سینیٹ کی کارروائیوں کی رپورٹ طلب کرلی تھی اور ڈپٹی اٹارنی جنرل نے سینیٹ کارروائی کی سربہمر رپورٹ عدالت میں پیش کی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •