مننکابو میں ریپ کیوں نہیں ہوتے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ مننکابو ہے۔ یہاں ریپ نہیں ہوتے۔ کوئی پوچھے کیوں۔ پیگی سینڈی بشریات کو سمجھتی ہیں۔ ان کا خیال ہمارے دانش گردوں سے مختلف ہے۔ ان کے نزدیک ایسے معاشرے جہاں امن ہو، صنفی احترام ہو اور مردانگی ایک نظریہ نہ ہو، وہاں ریپ کے واقعات نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔ مننکابو انڈونیشیا میں ہے۔ آبادی زیادہ تر مسلمان ہے۔ سیاسی اور مذہبی زمام بھی زیادہ تر مردوں کے ہاتھ میں ہے مگر تہذیب عورت کے گرد گھومتی ہے۔ ثقافتی اور روایتی جڑوں سے اگے درختوں پر کسی نے شرع کی بیل نہیں چڑھائی۔ جائیداد کی ملکیت عورت کے پاس ہے۔ ماں سے یہ ملکیت بیٹی کو منتقل ہوتی ہے۔ عورت آدھی نہیں ہے نہ وراثت میں نہ گواہی میں۔ عورتیں روایتی طور پر پردہ بھی نہیں کرتیں۔ عزت کا مطلب گھر کی چار دیواری کی قید نہیں ہے۔ شادی اختیاری ہے، جبر نہیں ہے۔ تعلیم بہت عام نہیں ہے، نہ مذہبی نہ غیر مذہبی۔ اب تانے بانے جوڑیے۔ علم نفسیات کو بروئے کار لائیے۔ انسان کو پڑھنے کی کوشش کیجیے اور پھر بتائیے کہ یہاں کوئی زینب کیوں نہیں ہے۔ کوئی عمران نقشبندی کیوں نہیں ہے۔ الزام کس کو دیا جائے۔ سہرا کس کے سر باندھا جائے۔

ہم وہی پرانا پہاڑا پڑھے چلے جا رہے ہیں۔ میڈیا، فلمیں، مذہب سے دوری، لباس، پردہ، پورن اور چائلڈ پورن۔ عمران کو جس دن پھانسی کی سزا ہوتی ہے اسی دن تین بچیاں اور ریپ ہو جاتی ہیں۔ کسی نے پوچھا کہ بازار میں کیا ڈھونڈ رہے ہو۔ کہا سوئی گم ہوئی ہے۔ پوچھا کس جگہ تو بتایا کہ گھر میں۔ حیران شخص نے استفسار کیا کہ گھر میں گم شدہ سوئی بازار میں کیوں ڈھونڈ رہے ہو۔ کھوجنے والے نے حیرانی کو حقارت سے دیکھا اور کہا ، یہاں روشنی زیادہ ہے۔ ہم نے بھی اپنا راستہ کسی اور نگر کھویا تھا پر ڈھونڈ وہاں رہے ہیں جہاں اوروں کی نظر فورا پڑتی ہے۔ تھوڑی واہ واہ ہوتی ہے۔ کچھ تالی بج جاتی ہے۔ قبول عام کی سند تو پہلے ہی دھری ہے۔ پر یہی بات کرتے کرتے عمر ہونے کو ہے۔ جو چال پہلے بے ڈھنگی تھی وہ اب اس سے سوا ہے۔

کچھ دن ہوئے کہ عورت کی اپنے ہی ریپ میں ذمہ داری براہ لباس، عریانیت اور پردے کی تکرار سے تنگ آ کر ایک مغربی ملک کے ساحل کی تصویر یاراں نکتہ داں کے لیے پیش کی۔ تصویر میں ایک نیم عریاں  ہجوم تھا پر سب اپنے میں مگن غسل آفتابی سے محظوظ ہو رہے تھے۔ گزری شب ایک مقبول اینکرکی چیخ و پکار ذہن میں تازہ تھی تو اسی حوالے سے ایک فقرہ تصویر کے اوپر لکھ دیا کہ حیرت ہے یہاں کوئی مرد جنسی اشتعال میں آ کر کسی بے حیا عورت کا ریپ نہیں کر رہا۔ اس کے بعد ہمارے باشعور اور ذمہ دار دوستوں نے اپنی اپنی رائے کا اظہار کیا۔ پہلے ان میں سے کچھ آراء آپ کی نذر کرتے ہیں پھر تبصرے اور تجزیے کی بات چھیڑیں گے۔ تو یہ رہے کچھ شہ پارے۔ مشتے نمونہ از خر وارے تو آپ سمجھتے ہی ہوں گے۔

 “ باہمی رضامندی سے معاملہ طے ہو جاتا ہے”

“ یہ ہے صحیح کام کا غلط طریقہ”

“ جہاں ریپ کی ضرورت ہی موجود نہ ہو وہاں سوال کیسا”

“یہاں عورت مرد کے جنسی اشتعال کو آرام دینے کے لیے تھوک کے حساب سے دستیاب ہے”

“اگر آپ کے نزدیک یہ قابل تقلید ہے تو اب تک پہل کیوں نہیں کی”

“ کھلا دودھ آسانی سے مل جاتا ہے اس لیے دوہنے کی ضرورت نہیں محسوس کرتے ہوں گے”

“ اس شخص کو کہو کہ اپنے گھر سے بسم اللہ کرے”

“انگلینڈ اور ویلز میں ہر پانچ میں سے ایک عورت جنسی ہراسانی کا شکار ہوتی ہے”

“ایسی آزادی میں جہاں مرد کو ایک کال پر دس لڑکیاں مل جاتی ہوں، کسی کا ریپ کریں گے ہی کیوں؟”

“ ان کو جو آزادی ملی ہے وہ آپ ضرور جانتے ہوں گے۔ ایک شادی شدہ مرد کسی غیر عورت جو شادی شدہ بھی ہو اس کے ساتھ آرام سے جو چاہے کر سکتا ہے اگر دونوں راضی ہیں۔ اور اس عورت کا اپنا شوہر اور اس مرد کی اپنی بیوی کچھ بھی نہیں کر سکتی”

“ جب ہر طرف ننگی عورتیں مردوں کے لیے اور ننگے مرد عورتوں کے ایک فون کال پر حاضر ہوتے ہیں۔ وہاں ریپ ہو ہی کیوں؟”

“ اس وقت میڈیا آپ لبرلوں کے پاس ہے۔ چاہے تو اس تصویر جیسا ماحول پیدا کر کے دیکھ لیں کہ نتائج میں کوئی تبدیلی آتی ہے یا نہیں”

“ join them to feel safe”

“ امریکہ میں ہر اٹھانوے سیکنڈ بعد ہونے والا ریپ آپ کی دلیل کی نفی کر رہا ہے”

“یہاں آسانی سے دستیاب ہے”

“ان سب کے سائز کی کیا گارنٹی ہے آپ کے پاس۔ ان میں سے تو کئی ایک کی سنچری بھی ہو گئی ہو گی ۔ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے اور اس سے آگے کچھ نہیں ہوتا”

“ جناب، یہاں پر تو سیٹنگ ہوتی ہے”

“کیونکہ یہاں تھوک میں مال دستیاب ہے”

“مغرب میں مال بروقت دستیاب ہوتا ہے اس لیے ہوس مٹ جاتی ہے”

“جہاں ریپ کی ضرورت ہی نہیں، وہاں سوال کیسا”

“آپ کا دماغ چل گیا ہے۔ جب ان کی عمر 13 سال ہوتی ہے تب تک ملٹی پل لڑکیوں کے ساتھ سو دفعہ سے زیادہ سیکس کر چکے ہوتے ہیں”

“ریپ کوئی کھلے عام تھوڑا ہی کرتا ہے”

“ یہاں پر ضرورت ہی نہیں پڑتی”

“سب کچھ آرام سے مل رہا ہو تو کون محنت کرے گا”

“ آپکی بھی فیملی ہو گی۔ کیا آپ اپنی خواتین کو اس حالت میں دیکھنا چاہیں گے”

“ آپ برہنگی پسند کرتے ہیں۔ ایکسٹرا میریٹل میں جبر کی کیا ضرورت ہے۔ آپ بھی ہاکس بے پر ایسا ماحول بنا دیں ۔ پھر دیکھیں”

“کیونکہ ان لوگوں کو اب ہوس عورت کی نہیں رہی۔ ان کو جانور چاہئیں۔ مرد کو مرد۔ عورت کو عورت۔ بچیوں کو تعلیم کے لیے سویٹ ڈیڈی اور آن لائن تھائی خواجہ سرا”

“ یہاں زنا، گروپ سیکس، ہم جنس پرستی اور محرمات سے مباشرت عام ہے اور اسے قانونی تحفظ بھی حاصل ہے۔ شاید ہی کوئی بچہ شادی سے پیدا ہوا ہو اور شادی کے بعد مباشرت کا کانسپٹ نہیں ہے۔ یہ سب بدترین ذلالت ہے”

“او بس کر دیں۔ کیا آپ اپنے گھر کی کسی عورت کو اس طرح پیش کر سکتے ہیں۔ باقی بات بعد میں”

“ یہاں سب کچھ مرضی سے ہوتا ہے جیسے لاہور کی ہیرا منڈی میں”

“جہاں سب مفتے میں مل رہا ہو وہاں زبردستی کرنے کی کیا ضرورت ہے”

“کیونکہ سارے اپنا اشتعال ٹھنڈا کر چکے ہیں”

“ ریپ شاید بہتر ہو جسے لوگ برا تو سمجھتے ہیں بہ نسبت اس قانونی سیکس کے جو شرافت سے معروف ہو جائے”

ابھی بہت سے ایسے اور تبصرے ہیں جنہیں  نقل کرنے کی اول تو قلم اجازت نہیں دیتا اور نقل کر بھی دئیے تو ادارتی سنسر کی نذر ہو جائیں گے ۔ دیگ کے یہ دانے بتانے کے لیے کافی ہیں کہ ہماری قوم عمومی طور پر کیا سوچ رکھتی ہے۔ میں کوئی نفسیات دان تو نہیں ہوں پر اگر مجھے ان تبصروں کے لکھاریوں میں کچھ مشترک اقدار قائم کرنی ہوں تو وہ یہ ہوں گی ۔

1۔ ان کا مطالعہ اور مشاہدہ انتہائی محدود ہے

2۔ ان میں سے شاید ہی کسی نے کسی مغربی ملک میں کوئی قابل ذکر وقت گزارا ہے۔ غالب امکان یہ ہے کہ انہوں نے کبھی ملک سے باہر کی دنیا نہیں دیکھی

3۔ مغربی اخلاقیات اور خاندانی نظام کے بارے میں ان کے نظریات سستے ناولوں، جنس زدہ لکھاریوں اور چیتھڑا رسالوں سے کشید کردہ ہیں ۔

4۔ عورت کو یہ مرد کا دست نگر سمجھتے ہیں اور یہ یقین رکھتے کہ گھر میں موجود عورت کے لباس سے لے کر شریک زندگی تک کا انتخاب گھر کے مردوں کی صوابدید پر منحصر ہے

5۔ یہ عورت کو ایک جنسی ضرورت کی تسکین کا ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ شادی ان کے نزدیک محض جنسی اختلاط کو قانون کے دائرے میں لانے کا نام ہے

6۔ یہ ریپ کا ذمہ دار ریپ ہونے والے میں ڈھونڈنے کے عادی ہیں

7۔ یہ اوریا مقبول جان، انصار عباسی اور زید حامد جیسے مبلغین کے مداحین میں سے ہیں

8۔ یہ عمومی طور پر مذہبی سوچ رکھتے ہیں اورعورت کو ازلی گناہ گار گردانتے ہیں تاہم یہ سوچ سطحی ہے اور کسی عمیق مطالعے کی مرہون منت نہیں۔

کمال کے تبصرے وہ ہیں جہاں ریپ کو “ضرورت” کہا گیا ہے۔ اور پھر یہ بتایا گیا ہے کہ یہ ضرورت کب پڑتی ہے، کب نہیں پڑتی۔ سوچتا ہوں کہ ہم کس بند گلی کے کس اندھے کنویں میں جی رہے ہیں۔ ایسی پستی ممکن بھی کیسے ہے۔ راستہ یہی رہا اور سوچنے کا طریق نہ بدلا تو یہاں مننکابو قائم ہونے والا نہیں ہے۔ ریپ یوں ہی ہوتے رہیں گے۔ بچے، بچیاں اور عورتیں اپنے کمزور ہونے کا خراج مردانگی کے خود ساختہ مظہر کو پیش کرتے رہیں گے۔ اور ہم الٹے سیدھے نظریے یونہی تراشتے رہیں گے۔ ہمیں مرد اور عورت کے بارے میں اپنے روایتی تصورات کی اصلاح کی ضرورت ہے۔ یہ نہ کیا گیا تو لاکھ پھانسیاں دے دیں، بے شک پیدا ہونے والی نو زائیدہ بچی کے لیے بھی برقعہ لازمی کر دیں، میڈیا بند کر دیجیے۔ سینما ہاوسز پر تالے لگا دیجیے۔ انٹرنیٹ پر پابندی لگا دیں ۔ کچھ بدلنے والا نہیں ہے۔

پہلی تاریخ اشاعت: Mar 8, 2018

Latest posts by حاشر ابن ارشاد (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 162 posts and counting.See all posts by hashir-irshad