کہیں آپ بزاخفش تو نہیں؟

\"ziauddin-feat\"میرا ایک دوست گل خان یونی ورسٹی سے تعلیم یافتہ ہے۔ اسکول اور کالج کے زمانے میں اس کی اپنی ایک انفرادیت اور شناخت تھی۔ تعلیم سے فارغ ہونے کے بعد اتفاقاً اسے ایک مہربان اور متمول شخصیت سمندر خان نے ملازمت دی۔ میرا دوست عام طور پر مخصوص قسم کے لوگوں سے جلد متاثر ہوجاتا تھا لیکن سمندر خان کی سایۂ عاطفت نے اس کی پوری شخصیت ہی بدل ڈالی۔ اب میں جب گل خان سے ملتا ہوں تو وہ خود معدوم ہوچکا ہے۔ اس کی اُٹھک بیٹھک، چال ڈھال اور سننے اور بولنے کے ہر انداز میں سمندر خان ہی سمندر خان جھلکتا ہے۔ اب جب اس سے ملاقات ہوتی ہے تو میں گل خان سے کم اور سمندر خان کی شبیہ یا ہمزاد سے زیادہ ملتا ہوں۔ ایک عرصہ ہوا کہ گل خان نے اپنے دماغ سے سوچنا چھوڑ دیا ہے اور وہ سمندر خان کا یو ایس بی بن چکا ہے۔ وہ سمندر خان سے جو کچھ سنتا ہے، من و عن پورے گرافکس کے ساتھ ڈِس پلے کرتا ہے۔ میں نے کئی بار یہ منظر بھی دیکھا ہے کہ جب سمندر خان اپنے پورے علمی رعب اور شاہانہ انداز سے بولتا ہے تو گل خان مریدانہ اور درباری اطاعت کے ساتھ سر تسلیم خم کرکے ا س کے ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔ ایسے لمحوں میں مجھے وہ گل خان کم اور ’بز اخفش ‘زیادہ لگتا ہے۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے میں ’’بزاخفش‘‘ کی وضاحت کرنا چاہوں گا۔ پرانے زمانے میں اخفش نامی ایک شخص تھا جس نے ایک بز یعنی بکری پال رکھی تھی۔ وہ اپنی بکری کو باندھ کر اس کے سامنے بلند آواز سے کتاب پڑھتا تھا۔ بکری اپنی فطرت کے مطابق سر ہلاتی تھی تو وہ سمجھتا کہ بکری اس کا کہا درست سمجھ کر سر ہلاتی ہے۔ وہ یہ دیکھتا تو خوش ہو جاتا۔

 

لیکن یہ رویہ صرف ایک گل خان تک محدود نہیں ہے۔ سچ پوچھو تو ہمارے ہاں اب ایسے گل خانوں کے لشکر موجود ہیں۔ میں 2012ء میں اپنے گاؤں کے قریب دوسرے گاؤں اپنی بہن کے گھر چلا گیا تھا۔ نمازِ جمعہ کا وقت ہوا تو اسی گاؤں کی مسجد میں گیا۔ اب کیا دیکھتا ہوں کہ ایک کم عمر لڑکا سفید پگڑھی باندھے ہوئے خوب تیل لگا کر چمکتا دمکتا ہوا مسجد کے منبر پر براجمان ہے۔ مسجد نمازیوں سے کھچاکھچ بھری ہے اور سب بوڑھے، جوان، چھوٹے مولانا صاحب کو بڑی توجہ سے ثواب دارین حاصل کرنے کی غرض سے سن رہے ہیں اور بعض تو مولانا کی توجہ اور خدا کی رحمت کے حصول کے لیے مولانا کی ہر بات پر اثبات میں سر بھی ہلا رہے تھے۔ میں جس لمحے مسجد میں داخل ہوا تو مولانا صاحب حجرِاسود پر گفت گو فرما رہے تھے۔ نمازیوں کو متوجہ کرکے کہنے لگے کہ کیا آپ کو معلوم ہے کہ حجرِ اسود کا رنگ سیاہ کیوں ہے؟ چوں کہ سوال و جواب دونوں کا حق صرف مولانا ہی کو حاصل ہوتا ہے، اس لیے نمازیوں کا تجسس پیدا کرکے خود ہی جواب دینے لگے۔ فرمایا کہ دراصل حجرِاسود پہلے سفید رنگ کا پتھر تھا لیکن صدیوں سے اربوں حاجیوں کے چومنے کی وجہ سے ان کے سارے گناہ اور کالے کرتوت اس پتھر کے ساتھ چمٹ گئے اور یہ سفید پتھر کالا ہوگیا۔ کہانی یہاں ختم نہیں ہوئی۔ مولانا صاحب مزید کہنے لگے کہ حضرت عمر فاروقؓ کے زمانے میں قادیانی حجرِ اسود کو چرا کر لے گئے تھے اور حجرِ اسود کو جب خلیفہ نے سپاہیوں کو بھیج کر بازیاب کرایا تو وہ ٹوٹا ہوا تھا۔ خلیفہ نے اسے ریشمی تار سے سلوا کر دوبارہ نصب کرادیا۔ مولانا کی تاریخ اسلام پر اس قسم کی موشگافیوں کو سن کر میرا خون کھولنے لگا۔ دل نے بہت چاہا کہ اٹھ کر مولانا کو چیلنج کروں لیکن یہ پشتون روایت آڑے آئی کہ مہذب مہمان پرائے گاؤں میں فساد برپا نہیں کرتے۔ لہٰذا واہیات سننے کے باوجود میں ان تمام بزاخفشوں سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو صرف ہاں میں سر ہلاتے تھے۔ اس وقت مجھے اپنے سوات کے عظیم شاعر احمد فواد کا یہ شعر یاد آ رہاہے۔

مخ کے چرتہ یو نیم لیونے بہ وو

اوس خو زمونگ زان لہ دلتہ کلی دی

(پہلے یہاں کوئی ایک آدھ پاگل موجود ہوتا تھا لیکن اب تو یہاں ان کے پورے کے پورے گاؤں آباد ہیں)

 

چلیں آپ خود کو بھی آزما لیجئے کیوں کہ یہ صرف ایک مسجد کی کہانی نہیں ہے۔ اگر آپ کو کسی مذہبی اجتماع کے جم غفیر میں جانے کا اتفاق ہوا ہو اور آپ کسی ’امیرِ کبیر‘ کے حورو غلماں سے متعلق میٹھی کہانیاں سنتے رہے ہو اور یا کوئی مرشد اپنے پیر کامل کی کرامات کے حوالے سے دیومالائی قصے سناتا رہا ہو اور آپ کے دل میں اس سے سوال کرنے کی جرأت پیدا ہوئی ہو اور نہ جسم میں اٹھ کھڑے ہونے کی صلاحیت اور آپ بھی اس کی ہر بات کو بلا سوچے سمجھے قبول کرتے رہے ہو تو آپ کو یقین کے ساتھ شک ہونا چاہئے کہ کہیں آپ بزاخفش تو نہیں۔

 

چلیں اب ذرا اس سے بھی سخت امتحان سے گزرتے ہیں۔ اگر آپ کسی ٹی وی اینکر کے فین یا دیوانے ہیں اور وہ اینکر علم کلام میں ماہر ہونے کے ساتھ فن کار بھی ہے اور یہ آزمائش آپ کے لیے دو وجوہات کی بنا پر زیادہ مشکل ہے کیوں کہ ٹیلی وژن کا یہ علامہ اپنے بودو باش میں الٹرا ماڈرن ہے لیکن فکر و نظر کے لحاظ سے الٹر فرسودہ ہے۔ لہٰذا یہاں دھوکا کھانے کا زیادہ امکان ہے۔ اور دوسرا یہ کہ ٹی وی پر جس طرح ہر شے کی تصویر دس فی صد بڑی لگتی ہے، اس طرح اس چھوٹے سکرین پر کہی جانے والی ہر بات پر لوگوں کو دس گنا زیادہ اعتبار ہوتا ہے۔ اب اگر اس چھوٹے طاقت ور سکرین پر آپ کسی نام نہاد عاشقِ رسولؐ اور علامہ سے یہ بات سنتے ہیں جس میں وہ اپنے معتقدین سے براہِ راست دریافت کرتا ہے کہ ’’کیا آپ کو معلوم ہے کہ دنیا کے پھولوں میں خوش بو کہاں سے آئی ہے اور پھر وہ کسی خاص جذبہ کے تحت مستغرق ہوکر آنکھیں بند کرتا ہے اور خودہی جواب دیتا ہے کہ ’’اُمہات المؤمنین میں سے ہماری ایک ماں حضورؐ کا پسینہ مبارک ایک بوتل میں اکھٹا کرتی تھیں اور پھولوں پر چھڑکتی تھیں تو آج دنیا بھر کے پھولوں میں جو خوش بو ہے، یہ اس پسینے کی برکت سے ہے۔‘‘ اب اگر اس قسم کی گفت گو سن کر آپ سوال کرنے کی بجائے فرطِ جذبات سے رونے لگتے ہیں تو آپ کو اپنی حالت پر رونا چاہئے۔ کیوں کہ آپ کو یقین کے ساتھ شک ہونا چاہئے کہ کہیں آپ بزاخفش تو نہیں۔

 

بات لمبی ہوتی جا رہی ہے، سمیٹنا چاہتا ہوں۔ بزاخفش کئی طرح کے ہوسکتے ہیں۔ مثلاً قدامت پسند، لبرل، قوم پرست، مسلک پرست اور نسل پرست۔ لیکن ہمارے ہاں صرف قدامت پرستوں اور رجعت پسندوں کا پلڑا بھاری ہے۔ اب آپ سے میرا آخری سوال ان چند شخصیات کے بارے میں ہے جن کی کچھ باتیں مجھے بھی اچھی لگتی ہیں لیکن میں کبھی بھی اپنے دل و دماغ کی کنجی دوسروں کے حوالے نہیں کروں گا۔ میں موجود ہوں اور موت سے پہلے معدوم نہیں ہونا چاہتا۔ اب آپ دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کہیں آپ کے دل و دماغ پر مولانا طارق جمیل صاحب، عامر لیاقت حسین، ڈاکٹر شاہد مسعود صاحب، جناب جنید جمشید یا کسی دوسری طلسماتی یا کرشماتی شخصیت کا پورا قبضہ تو نہیں۔ کیا آپ کے وجود کے اندر ڈاکٹر ذاکر نائیک صاحب تو سانس نہیں لے رہے ہیں؟ اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو آپ کو یقین کے ساتھ اپنے اوپر شک ہونا چاہئے کہ کہیں آپ بز اخفش تو نہیں۔

 

اس مضمون کا مقصد یہ شیخی بگھارنا نہیں کہ میں کوئی بڑا سقراط ہوں کیوں کہ عمر کے ایک حصہ میں ، مَیں بھی بزاخفش رہا ہوں۔ یہ میرے زمانۂ طالب علمی کا وہ دور تھا جب میں ضیاء الدین کے ساتھ پنج پیری لکھا کرتا تھا اور پی ٹی وی پر مولانا طاہر القادری اور مرحوم طالب جوہری کی تقاریر سننے کے لیے پاگل رہتا تھا او ر ن کی ہر بات کو نیوٹن کے قوانین کی طرح سچ مانتا تھا۔ لیکن یہ صرف دو تین برس کی بات تھی۔ مجھے خصوصاً ان مذہبی سیاسی شخصیات پر ترس آتا ہے جن کی سوچ کے ارتقا پر کئی دہائیوں سے جمود طاری ہے۔ میں اسّی کی دہائی میں سولہ سال کی عمر میں جو سوچتا تھا، وہ ساٹھ ستر سال کی عمر میں اب بھی وہیں اٹکے ہوئے ہیں۔ مجھے ’ہم سب‘ میں 5 اپریل کے مجاہد حسین خٹک کے مضمون ’’اسلامی انقلاب یا سراب‘‘ میں یہ بات دل کو بہت اچھی لگی کہ ہر فرد کو یہ حق اور آزادی ہونی چاہئے کہ وہ خود سچائی کی تلاش کریں۔ برسبیل تذکرہ اگر کل قیامت کے دن جزا و سزا کے دوسرے حساب کتاب کے علاوہ اللہ تعالیٰ ہم سے دریافت کرے کہ ’’میں نے آپ کو دو آنکھوں، دو کانوں، ایک زبان اور ہمہ وقت سوچنے والے دماغ کے ساتھ ایک مکمل وجود دے کر ’اصل‘ پیدا کیا تھا۔ اس توقع کے ساتھ کہ آپ اپنی تمام تخلیقی صلاحیتوں کو بروئے کار لاکر اپنے وجود کا ثبوت دیں گے لیکن آپ نے کسی اور کی کاربن کاپی بن کر کیوں اپنی اصلیت اور انسانی عظمت گنوا دی، آپ اشرف المخلوقات بننے کی بجائے بزاخفش کیوں بنے؟ تو اس وقت ہمارا جواب کیا ہوگا؟