سٹیفن ہاکنگ کی تین ہاری ہوئی شرطیں اور سازشی تھیوریاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1990 میں انسانی جینیاتی پراجیکٹ کا آغاز ہوا۔ پراجیکٹ کا مقصد انسانی ڈی این اے میں موجود تیس ہزار جینز کی مکمل نقشہ گری تھی۔ پراجیکٹ کو مکمل ہونے میں تیرہ سال لگے۔ اس کے بعد جینز کے حوالے سے ایک نئے دور کا آغاز ہوا۔ موروثی تبدل یا جینیٹک میوٹیشن پر کی گئی تحقیق سے ہم نے یہ جانا کہ لوگوں کے رویے، ان کی طبعیت اور ان کی ذہانت بھی موروثی تبدل پر منحصر ہے۔ پچھلے کچھ سالوں سے سائنسدان اس امر پر تحقیق کر رہے ہیں کہ ذہانت اور حماقت کو بھی انسانی جینز کے حوالے سے پرکھ سکیں۔ ذہانت کے بارے میں تو کچھ کہنا مشکل ہے تاہم حماقت کا جین ڈھونڈنے میں کامیابی کا امکان انتہائی روشن ہے خاص طور پر اگر تجربات کے لیے وہ جغرافیہ چنا جائے جس میں مملکت ضیاءداد واقع ہے۔

حماقت کے یہ مظاہر جب احساس کمتری کی آنچ میں پکتے ہیں تو پھر ہمیں وہ رویے اور وہ تبصرے دیکھنے کو ملتے ہیں جو ہر عبقری کا قد چھوٹا کرنے کے لیے ہم استعمال کرنے کے عادی ہو گئے ہیں۔ اس سے انہیں تو شاید کوئی فرق نہیں پڑتا پر ہم اپنا مذاق بنوانے میں کماحقہ کامیاب ہو جاتے ہیں۔ سازشی نظریوں سے آگے نہ دیکھ پانے والی ہماری نظر بس اوہام اور اندیشوں میں الجھ کر رہ جاتی ہے۔ کوئی تو وجہ ہے کہ یہ زمین شاید صدیوں سے قحط الرجال کا شکار ہے۔ بڑا کھینچ تان کر ہم کوئی دو چار مشاہیر کو عظمت کے لبادے اوڑھاتے ہیں پر ان میں جگہ جگہ لگے پیوند دنیا کو صاف نظر آ جاتے ہیں۔

سٹیفن ہاکنگ کیا مرا کہ ہمیں یہ نادر موقع پھر ہاتھ آ گیا۔ کسی کو عقیدے کی بحث یاد آگئی۔ کوئی جنت دوزخ کے پلاٹ کی الاٹمنٹ میں لگ گیا۔ کسی کو ہاکنگ کے سائنسی نظریات کا پوسٹ مارٹم کرنے کی سوجھی تو کچھ یہ کوڑی بھی نکال لائے کہ اسٹیفن ہاکنگ کا سارا وجود ہی ایک دھوکہ تھا جس سے اصل میں دنیا میں الحاد پھیلانا مقصود تھا۔ کچھ نے ہاکنگ کے سائنسی نظریات کو فلسفے اور مذہب کی کسوٹیوں پر پرکھنا شروع کر دیا تو کچھ نے ہمارا سب سے پسندیدہ راگ الاپنا شروع کردیا کہ یہ سب کچھ تو الہامی کتب میں ہزاروں سال پہلے ہی بتا دیا گیا ہے۔ ہاکنگ نے کون سا کارنامہ کیا ہے۔

ان تمام ناقدین میں احساس کمتری، تعصب اور حماقت کے علاوہ جو بات مجھے مشترک نظر آئی وہ ان کی علم طبعیات کی مبادیات سے مکمل لاعلمی تھی۔ ان میں سے کوئی نہیں جانتا کہ سائنس کی دنیا میں تھیوری کس چڑیا کا نام ہے اور یہ خلیل خان کی فاختہ سے کس قدر مختلف ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جو ہر تیسرے دن لٹھ لے کر ڈارون پر چڑھ دوڑتے ہیں مگر حرام ہے جو ان میں سے کسی نے کبھی ” اوریجن آف سپیشیز“ کا سرورق بھی دیکھا ہو۔ ان سے بحث ممکن نہیں ہے۔ ہاں ان کے حال پر رحم کھایا جا سکتا ہے۔

آٹھویں جماعت میں ہمارے ایک استاد نے ایٹم بم اور جوہری توانائی کے حوالے سے ایک سبق کی تشریح کرتے ہوئے جماعت کو باور کرایا کہ مغربی سائنسدان بشمول آئن سٹائن کیا بیچتے ہیں کہ جوہری انشقاق تو اصل میں علامہ اقبال کی دریافت تھی۔ اس کے بعد ثبوت کے طور پر انہوں نے علامہ کا یہ شعر بھی سنایا کہ
حقیقت ایک ہے ہر شے کی خاکی ہو کہ نوری ہو
لہو خورشید کا ٹپکے اگر ذرے کا دل چیریں

ہم اس کے بعد برسوں تاسف میں مبتلا رہے کہ اس شعر کے ہوتے ہوئے بھی ہم ایٹم بم نہ بنا سکے اور امریکا نے بنا کر چلا بھی لیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر اٹامک انرجی کمیشن کی چئیرمینی ماہر اقبالیات خلیفہ عبدالحکیم کے ہاتھ ہوتی۔ ویسے ڈاکٹر عبدالقدیر کے کالم پڑھ کر لگتا ہے کہ انہوں نے بھی شاید اسی شعر کے سہارے اسلامی بم بنایا ہو گا۔

اسی سوچ کے حامل لوگوں کا ایک عظیم گروہ ہے جو ہر کچھ دن بعد ہمیں یاد کراتا ہے کہ الہامی کتب میں ہر ایجاد، ہر دریافت پہلے ہی سے موجود ہے۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے حادثے سے متعلق آیات بھی ڈھونڈ نکالی تھیں۔ اگر انہیں بتایا جائے کہ الہامی کتب کا موضوع ذات انسانی اور اس کی تطہیر اور اخلاقی تعمیر ہے نہ کہ سائنس تو یہ باقاعدہ خفا ہو جاتے ہیں۔ اور اگر انہیں یہ حقیقت بتانے کی کوشش کی جائے کہ انہی الہامی کتب سے صدیوں تک کیا یہودی، کیا مسلمان اور کیا عیسائی اپنے اس وقت کے علم اور فہم کے مطابق یہ اخذ کرتے رہے کہ زمین چپٹی ہے، مرکز کائنات ہے، سورج اس کے گرد گھومتا ہے، اوزون سے رگڑ کھا کر جلنے والے شہاب ثاقب شیاطین پر برستے ہیں، چاند کی اپنی روشنی ہے، آسمان سات ہیں، سورج حقیقتاً ایک چشمے میں غروب ہوتا ہے اور پھر صبح وہیں سے نکل آتا ہے، بادلوں میں پانی آسمان سے اکٹھا ہوتا ہے، زمین گردش نہیں کرتی، وغیرہ وغیرہ، تو یہ لڑنے پر بھی اتر آتے ہیں۔

یہ حضرات ہمہ وقت اس کوشش میں رہتے ہیں کہ کم بخت سائنس کو یا تو غلط ثابت کر دیں یا پھر کم ازکم یہ تو طے کر ہی دیا جائے کہ سائنس نے سب کچھ مقدس کتب سے چرایا ہے۔ ان کا خیال ہے کہ سائنس کو جب تک عقیدے کے زیر اثر نہ لایا جائے تب تک یہ شیطان کا کارخانہ ہے۔ امام احمد رضا خان کے بقول
”سائنس کو مسلمان کرنے کا طریقہ یہ ہے کہ وہ تمام سائنسی مسائل جنہیں اسلامی مسائل سے اختلاف ہے۔ سب میں مسئلہ اسلامی کو روشن کیا جائے، دلائل سائنس کو مردود و پامال کردیا جائے، جابجا سائنس ہی کے اقوال سے مسئلہ اسلامی کا اثبات ہو اور سائنس کا ابطال و اسکات ہو تو یوں قابو میں آئے گی“

دلائل سائنس کو ایک دن اسی طرح مردود اور پامال کرنے کی مہم یہودی فیس بک پر جاری تھی کہ میرے صبر کا پیمانہ تھوڑا سا چھلک گیا۔ چونکہ سر عزیز تھا اس لیے انتہائی ادب اور عاجزی سے میں نے اپنی دیوار پر لکھا کہ میں ایسے تمام اصحاب کا زندگی بھر مشکور رہوں گا جو کسی ایک سائنسی دریافت یا ایجاد کا حوالہ مجھے دے سکیں جس کو متعلقہ سائنس دان نے کسی مقدس کتاب میں سے دریافت کیا ہو یا مقدس آیات کی بنیاد پر ایجاد کیا ہو۔ آج یہ اسٹیٹس لگائے پانچ سال ہونے کو آئے ہیں پر ایک بھی حوالہ نہیں مل سکا۔ پر اس دوران ہونے والی ہر نئی دریافت پر یہ گروہ عاشقاں فوراً وارد ہوتا ہے اور ”دیکھا، یہ تو ہماری کتاب میں پہلے ہی سے ہے“ کی گردان شروع ہو جاتی ہے۔ اب ہاکنگ کا بگ بینگ ہو، بلیک ہول ہوں یا ہاکنگ تابکاری۔ یہ سب ہمارے مفسرین کو پہلے ہی سے معلوم ہوتا ہے۔ ہم بس یہ عقدہ نہیں سلجھا سکے کہ یہ ہزار ڈیڑھ ہزار سال تک یہ راز عیاں کیوں نہیں کرتے۔ پھر اچانک کوئی کافر اعلان کر دیتا ہے اور ان کے حق پر ڈاکہ پڑ جاتا ہے۔ صبر اچھی چیز ہے پر اتنا صبر بھی کیا کہ کسی ایک دریافت پر بھی ہم عقیدے کی مہر نہیں لگا سکے۔

ہاکنگ کے نظریات کے حوالے سے جہاں ہمارا پسندیدہ گروہ یہ کہتا پایا گیا کہ یہ سب نظریات تو پہلے ہی سے موجود تھے۔ وہیں ایک ایک اور گروہ نے ایک نیا راستہ ایجاد کر لیا۔ ان کے خیال میں یہ نظریات انتہائی نکمے اور بودے تھے۔ اب آپ پوچھیں گے کہ انہوں نے یقینا کوئی مساوات غلط ثابت کی ہوگی۔ ڈیٹا کے اندر سے کوئی کمی برآمد کر لی ہو گی۔ نہیں تو کسی طبعیاتی اصول پر نظریات کو پرکھا ہو گا تو جناب ایسا ہر گز نہیں ہے۔ ہاکنگ کے نظریات کا ابطال کرنے کے لیے کچھ اور ہی سہارے ڈھونڈے گئے۔

ایک صاحب نے فرمایا ” یہ شخص بہت بڑا ڈرامے باز اور بائبل کا سائنسی شارح تھا۔ تخلیق کائنات کے مذہبی نظریے کو اس نے بڑی چالاکی سے سائنس کا لبادہ اوڑھا دیا ہے تاکہ خدا کا وجود ثابت کیا جاسکے“

ایک اور صاحب نے کہا ” ہاکنگ کے نظریات محض الحاد کے پرچار کے لیے تھے۔ کسی نظریے میں کوئی جان نہیں ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ خدا کا انکار کیا جا سکے“
تو ملحد ہو کہ ملا دونوں نے اپنا اپنا منجن بیچا۔ لیکن کسی نے اپنے اعتراض کا کوئی سائنسی جواز دینے کی زحمت نہیں کی۔

ایک اور حضرت کے بقول ہاکنگ اوسط درجے کے سائنس دان تھے جو تین وجوہات کی بنا پر معروف ہوئے۔ ایک تو یہ کہ وہ معذور تھے اس لیے لوگوں کی ہمدردی سمیٹنے میں کامیاب رہے۔ دوسرا یہ کہ وہ مذہب اور خدا کے معاملے میں جو رائے رکھتے تھے وہ مغربی میڈیا کے ایجنڈے کے مطابق تھی اور تیسرا یہ کہ انہیں سائنسی بڑھکیں مارنے کا شوق تھا جس کی وجہ سے ان کی شہرت ٹرمپ کی طرح کی ہو گئی۔ لیکن شہرت تو تھی۔
اب ہے کوئی مائی کا لال جو اس گہرے تجزیے میں غلطی نکالے۔ ہماری تو مجال نہیں۔ جب ٹرمپ اور ہاکنگ ایک ہو گئے تو پھر بندہ ہو کہ بندہ نواز، سب کو چپ کر جانا چاہیے۔

ہاکنگ کے سائنسی نظریات کا پوسٹ مارٹم الہامی کتابوں سے تھیوریاں نکالنے سے آگے نکل کر فیس بکی مجاہدین کے اپنے متبادل نظریات تک جا پہنچا۔ وہ الگ بات ہے کہ ہاکنگ کے نظریات کے پیچھے برسوں کی محنت، پیچیدہ ترین ریاضیاتی مساواتیں اور ہزاروں گیگا بائٹس کا طبعیاتی ڈیٹا ہے۔ ادھر ہمارے دانش گرد اسے ان فلسفوں سے ماپ رہے ہیں جو صبح غسل خانے میں گزارے گئے نصف گھنٹے میں ان پر وارد ہوتے ہیں۔

یار لوگوں نے ہاکنگ کی تین شرطوں کا بھی خوب پراپیگنڈا کیا۔ ہمارے پسندیدہ کالمسٹ جناب ہارون الرشید نے بھی فیس بک کے بحر علم سے استفادہ کرتے ہوئے ان شرائط کا ذکر کر کے ہاکنگ کا قد چھوٹا کرنے کی اپنی سی سعی کی۔ بہرحال پھر بھی ان کا شکر گزار ہونا چاہیے ورنہ تو وہ یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ ہاکنگ عارف عصر کے آگے طفل مکتب تھا یا سپہ سالار کے دو سگریٹوں کی مار تھا۔ پر انہوں نے شرطوں کے ذکر پر اکتفا کیا۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر وہ اس بارے میں تھوڑا مطالعہ کر لیتے۔ لیکن مطالعہ تو بیکار لوگوں کا کام ہے۔ ہمارے پسندیدہ کالمسٹ مطالعے میں لگ گئے تو روز کا کالم کون لکھے گا۔

شرائط کی مختصر کہانی یہ ہے کہ ہاکنگ نے مختلف سالوں میں دو شرطیں سائنسدانوں کے ساتھ لگائی تھیں۔ اور یہ ایک مکمل طور پر مذاق کا معاملہ تھا۔ تیسری شرط کبھی لگائی نہیں گئی تھی لیکن ایک انٹرویو میں انہوں نے ازراہ تفنن اس کا ذکر کیا تھا۔ چونکہ یہ تاثر عام ہے کہ ہاکنگ یہ تینوں شرطیں ہار گئے تھے اس لیے ہمارے فیس بکی سائنسدانون نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ وہ بیچارے ایک کم علم آدمی تھے۔

اس میں سے پہلی شرط ہاکنگ نے 1975 میں اپنے دوست کپ تھورن سے لگائی۔ یہ شرط اس بارے میں تھی کہ ان کے زیر مشاہدہ ایک ستارہ سگنس ایکس ون بلیک ہول بنے گا یا نہیں۔ ہاکنگ کا سارا کام اس ضمن میں یہ کہتا تھا کہ یہ ستارہ بلیک ہول میں بدل جائے گا لیکن انہوں نے شرط بالکل الٹی لگائی۔ یعنی یہ کہ ایسا نہیں ہو گا۔ ہاکنگ نے یہ شرط ایک مذاق کے طور پر لگائی اور ان کے نزدیک یہ ایک انشورنس تھی۔ وہ شرط جیتتے تو ان کا پی ایچ ڈی کا تھیسس غلط ثابت ہوتا پر انہیں شرط سے آمدنی ہو جاتی اور شرط ہارتے تو مالی نقصان ہوتا پر پی ایچ ڈی کا تھیسس درست ثابت ہو جاتا۔ شرط تھی بھی کیا کہ ہاکنگ ہارنے کی صورت میں بدنام زمانہ پینٹ ہاوس رسالے کی ایک سال کی فیس کپ تھورن کے لیے دیں گے اور جیتنے کی صورت میں ایک اور چیتھڑا رسالے پرائیوٹ آئی کی چار سال کی فیس کپ تھورن کو دینی پڑے گی۔ اس کے بعد بھی اگر کسی کو اس شرط کی سنجیدگی میں یقین ہے تو اس کی دماغی صحت کے لیے دعا ہی کی جا سکتی ہے۔ ساتھ ساتھ یہ بات بھی سمجھ لیجیے کہ ستارے کا بلیک ہول میں بدلنا کروڑوں سال کا وقت لیتا ہے اور ایسا کوئی مشاہدہ پندرہ سال میں ممکن نہیں تھا لیکن پندرہ سال بعد ہاکنگ نے بلیک ہول کے بارے میں اپنے نظریات کے دفاع میں یہ اعلان کیا کہ وہ یہ شرط ہار گئے ہیں۔

دوسری شرط ہاکنگ اور تھرون نے مل کر ایک تیسرے سائنسدان پرسکل سے 1997 میں لگائی۔ یہ وہ وقت تھا جب ہاکنگ نے اپنے مشہور زمانہ انفرمیشن پیراڈوکس پر کام شروع کیا تھا۔ یہ شرط بھی اسی ضمن میں تھی۔ شرط کا مقصد دو مختلف مفروضوں پر بحث چھیڑنا تھا۔ وہ یہ کہ بلیک ہول سے تابکاری کے اخراج میں معلومات ضائع ہوں گی یا نہیں۔ 2004 میں ہاکنگ نے پرسکل کو عندیہ دیا کہ ان کے ابتدائی مفروضے کے برعکس معلومات ضائع نہیں ہوں گی اس لیے وہ شرط کے مطابق پرسکل کو بیس بال انسائیکلو پیڈیا دیں گے لیکن چونکہ معلومات تابکاری کی وجہ سے راکھ ہو جاتی ہیں اس لیے وہ انسائیکلو پیڈیا کی بھی راکھ ہی انہیں دیں گے۔ کپ تھورن نے اعلان کیا کہ وہ ہاکنگ سے اتفاق نہیں کرتے اس لیے وہ ابھی بھی شرط نہیں ہارے اس لیے پرسکل سے جو ہو سکتا ہے وہ کر لے وہ کچھ نہیں دینے والے۔ یاد رہے کہ جس تابکاری کا یہاں ذکر ہے۔ ہاکنگ سات سال مسلسل اس پر کام کرتے رہے۔ یہ کام اتنا قابل قدر تھا کہ ان تابکاری شعاعوں کا نام ہی ہاکنگ ریڈی ایشن رکھ دیا گیا۔ اس شرط کا مقصد ایک صحت مندانہ سائنسی بحث کو ہلکے پھلکے انداز میں عوام کے سامنے لانا تھا۔

تیسری شرط درحقیقت کبھی لگی ہی نہیں تھی۔ 2012 میں ہگز بوسن یا خدائی ذرے کی دریافت ایک بہت بڑا سائنسی سنگ میل تھا۔ پروفیسر پیٹر ہگز نے اس ذرے کے بارے میں اپنا تحقیقاتی مقالہ 1960 میں شائع کیا تھا پر اس کی دریافت میں باون سال لگ گئے۔ ہاکنگ نے اس دریافت کے بعد انٹرویو دیتے ہوئے ایک دفعہ پھر اپنے پر چوٹ کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے مشی گن کے گورڈن کین سے کہا تھا کہ یہ دریافت شاید ہاکنگ کی زندگی میں نہ ہو مگر اب جب ایسا ہو گیا ہے تو انہیں سو ڈالر تو پروفیسر کین کو دینے پڑیں گے تاکہ ان کے اندازے کی غلطی کا ایک ”خطیر“ خمیازہ انہیں بھگتنا پڑے۔

تو یہ تھیں وہ تین شرائط جن کو لے کر یہ پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے کہ ہاکنگ بیچارہ تو زندگی بھر غلطیاں کرتا رہا۔ سائنسی شرطیں ہارتا رہا اور ہم اسے بڑا سائنسدان سمجھتے ہیں۔ اب اس پر ناطقہ سر بگریبان نہیں ہو گا تو کیا ہو گا۔

اس سے بھی دلچسپ سازشی نظریہ وہ ہے جس میں سوشل میڈیا پر یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ ہاکنگ تو برسوں پہلے مر چکا تھا۔ یہ ایک ڈپلیکیٹ اداکار تھا جو دنیا کے سامنے آتا تھا تاکہ ایک مخصوص نظریے کو فروغ دینے کے لیے ہاکنگ کی شخصیت کو استعمال کیا جاسکے۔ نیز یہ کہ ایسا ممکن نہیں ہے کہ ایسا کوئی سوفٹ ویئر ہو جو عضلات کی جنبش کو تحریر اور تقریر میں بدل سکے۔ اس لیے یہ سب ایک عظیم فراڈ ہے۔

کم افراد کو یہ علم ہے کہ یہ کہانی 12 جنوری 2018 کو ڈیلی میل میں جیکی ڈیوائی کے ایک مضمون سے شروع ہوئی تھی۔ اس مضمون میں ڈیوائی نے ان تمام سازشی نظریات کا ذکر کیا تھا جو ہاکنگ کے بارے میں برسوں میں قائم کیے گئے تھے۔ ان میں سے اکثر نظریے انتہائی مضحکہ خیز تھے اور انہیں اسی طرح مضمون میں پیش کیا گیا تھا۔ ہم چونکہ ملالہ کے بارے میں لکھے گئے ندیم فاروق پراچہ کے طنزیہ مضمون کو بھی صحیفہ آسمانی سمجھنے والی قوم ہیں اس لیے یہ مضمون ہمارے لیے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹا ثابت ہوا۔ ہم نے دھڑادھڑ ان سازشی نظریات کو حقیقت جان کر تبرک کی طرح سوشل میڈیا پر بانٹنا شروع کردیا۔

ہاکنگ کے ڈپلیکیٹ والی بات پر تو صرف دل کھول کر قہقہہ لگایا جا سکتا ہے۔ رہی بات تحریر وتقریر کی تو عرض یہ ہے کہ یہ تحریر وتقریر جس کمپیوٹر پروگرام کی بدولت تھی اس کا نام اسسٹو کونٹیکسٹ۔ اوئیر ٹول کٹ ہے اور اسے 1997 میں انٹیل نے بنایا تھا جب ہاکنگ کے زیر استعمال دوسرا نظام ایس جی ڈی ان کی بیماری کی سرعت پذیری کی وجہ سے ناکام ہو رہا تھا۔ اے سی ٹی نامی یہ نظام ہر دو سال بعد پہلے سے بہتر بنایا جاتا ہے۔ یہ کس طرح کام کرتا ہے اس کے لیے آپ گوگل استعمال کر سکتے ہیں۔ کبھی کبھی گوگل کسی عقل والے کام کے لیے بھی استعمال کرنے میں کوئی ہرج نہیں۔ باقی اگر کوئی شک رہ گیا ہے تو بتاتے چلیں کہ یہ نظام انٹرنیٹ پر اوپن سورس ہے یعنی مفت میں دستیاب ہے۔ دنیا میں کئی لوگ جو ہاکنگ جیسی عصبیاتی بیماری یعنی اے ایل ایس کا شکار ہیں وہ اسے استعمال کر رہے ہیں۔ آپ چاہیں تو آپ بھی استعمال کر سکتے ہیں۔

اب رہ گیا وہ طبقہ جس کے نزدیک کسی انسان کو عقیدے کی کسوٹی پر پرکھے بغیر اس کے مقام کا تعین ہو ہی نہیں سکتا۔ ان میں سے بہت سے اس بات پر غمزدہ تھے کہ ہاکنگ کلمہ پڑھے بغیر دنیا سے چلا گیا۔ کچھ کا خیال تھا کہ کاش کوئی ہاکنگ کو قرآن کا نسخہ دے دیتا تو اس پر ہدایت کا نزول ہو جاتا۔ کچھ کا خیال تھا کہ ایسی عقل کس کام کی جس سے ہاکنگ خدا کو نہیں پہچان سکا۔ ان کے نزدیک دنیا کے عظیم ترین دماغ میں عقل کی کمی تھی۔ کچھ ڈنڈا لیے سوشل میڈیا پر گھومتے پائے گئے کہ کہیں کسی نے RIP یا اناللہ وانا الیہ راجعون تو نہیں لکھا کہ اس کی اصلاح کی جا سکے۔ کچھ ناصحین یہ بتاتے رہے کہ ہاکنگ جیسے ملحد کے لیے جہنم کے علاوہ کوئی اور ٹھکانہ نہیں۔ ان بھانت بھانت کے تبصروں میں سے ایک تبصرہ ایسا ہے کہ اسے صالحین کے ماتھے کا جھومر ہونا چاہیے۔ آپ بھی پڑھیے۔ اور یہ ایک دفعہ نہیں۔ سینکڑوں دفعہ سوشل میڈیا پر شئیر ہوا ہے اور لاکھوں نے اس کی تحسین کی ہے

”میں اسٹیفن ہاکنگ کو زینب کے قاتل عمران قادری کے قدموں کی دھول کے برابر بھی نہیں سمجھتا۔ عمران قادری جیسا بھی ہے وہ ایک اللہ، ایک رسول اور ایک کتاب کا ماننے والا ہے“
ایمان تازہ ہوا کہ نہیں۔ اس کے بعد شاید کچھ کہنے سننے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اپنا ذہنی، اخلاقی اور معاشرتی قد اس تبصرے کی روشنی میں بآسانی ماپ سکتے ہیں۔ رہا سوال ہاکنگ کا تو آئیے دیکھتے ہیں کہ ہاکنگ کا دوسری دنیا کے بارے میں کیا خیال تھا۔ ہاکنگ کہتا ہے۔

”دماغ ایک کمپیوٹر کی طرح ہے۔ جب اس کے کل پرزے کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں تو یہ بھی فنا ہو جاتا ہے۔ فنا شدہ دماغوں کے لیے کوئی جنت، کوئی دوزخ، کوئی حیات بعد الممات نہیں ہے۔ یہ کہانیاں ان لوگوں کے لیے گھڑی گئی ہیں جو اندھیرے سے خوفزدہ رہتے ہیں“

تو بھائی۔ ہاکنگ کو اس سارے قصے سے کوئی غرض نہیں تھی۔ اس نے ہمارے آپ کے کسی جنت کے پلاٹ پر قبضہ نہیں جمانا۔ مطمئن رہیے۔ اس کو صرف اس دنیا کے اندھیرے دور کرنے سے غرض تھی۔ کائنات کی روشنیاں کھوجنے سے واسطہ تھا۔ وہ آپ کی اور میری ان عدالتوں سے ماورا کا معاملہ ہے۔ پھر یہ لٹھ برداری کیوں۔ اس سے کیا ملے گا۔ میں تو صرف یہ سمجھ پایا ہوں کہ بونوں کے دیس کا ہر باسی ہر دیوقامت سے خوفزدہ رہتا ہے۔ جب جہاں اس کا بس چلتا ہے وہ کوشش کرتا ہے کہ کسی طرح اس کا قد کم کر سکے۔ کوشش اپنی جگہ پر سب کرنے کے بعد بھی بونے بہرحال پست قامت ہی رہتے ہیں۔ یہ یاد رکھنا چاہیے۔

Latest posts by حاشر ابن ارشاد (see all)
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 162 posts and counting.See all posts by hashir-irshad