آپ شرمندہ کیوں ہیں؟

\"aqdasگزشتہ روز ایک نجی جامعہ کے  طلباء و طالبات کے ایک گروہ نے ٖخواتین کے حیض سے متعلق معاشرتی تنگ نظری کو چیلنج کرنےکی غرض سے  سینیٹری نیپکن  پر  کچھ پیغامات لکھ کر یونیورسٹی کی دیواروں پر چسپاں کیے۔ان میں سے کچھ جملےدرج ذیل ہیں

مجھ میں کوئی ٖخرابی نہیں ہے نہ ہی میں ناپاک ہوں۔

مجھے شرمندہ کیوں ہونا چاہیے؟

مجھے چھپایا کیوں جا رہاہے؟

میں خاکی لفافہ کیوں استعمال کروں؟

مرد کنڈم سے شرمندہ نہیں تو میں نیپکن سے کیوں شرمندہ ہوں؟

اس کے علاوہ کچھ طالبات نے اپنی سفید قمیضوں پر سرخ نشان لگائے اور لڑکوں کے ساتھ کھڑے ہو کر باتیں کی تاکہ وہ یہ واضح کر سکیں کہ داغ تو اچھے ہوتے ہیں۔اچھی بات ہے کہ ہماری ٖنئی نسل معاشرتی مسائل پر بات کر رہی ہے ۔مگر کیا ہی اچھا ہو کہ ان مسائل کا تعلق عام لوگوں سے بھی ہو۔ یہ احتجاج تو بس ایک معمولی سی مثال ہے ، اگر آپ انگریزی اخبارات کا مطالعہ کرتے ہوں تو آپ کو آئے روز \”گرلزایٹ ڈھابا\”اور \”گرلز پلیئنگ کرکٹ \” جیسے موضوعات پر تعریفی مضامین نظر آئیں گے۔ گرلز ایٹ ڈھابا کا ہیش ٹیگ فیس بک اورٹویٹر پر دھوم مچا دیتا ہے۔کمنٹس پڑھیں تو کسی ہائی فائی پرائیویٹ کالج یا یونیورسٹی میں پڑھنے والے لڑکے اورلڑکیوں کے کمنٹس کا ڈھیر لگا ہوتاہے۔ \”تھمبس اپ\”، \”ویل ڈن\”، \”گرلز آر ری کلیمنگ سپیس\”  جیسے کمنٹس کی بھر مار لگی ہوتی ہے۔ مجھ جیسے لوگ بس یہ سب دیکھ کر ہی اپنا خون جلا رہے ہوتے ہیں۔کون سی سپیس ؟ کہاں کی سپیس؟ ڈھابے پر جا کر چائے پینے سے، اپنے مہنگے موبائل فون سے سیلفی بنا کر پوسٹ کر دینے سے کیا خواتین کے مسائل حل ہوں جائیں گے؟ کسی نے کبھی یہ سوچا ہے کہ کیا پاکستان کی خواتین کے مسائل یہ ہیں بھی یا نہیں؟ کیا مردوں کے ساتھ ڈھابے پر چائے پینے سے آپ کو تمام حقوق مل گئے؟ ان خواتین کو کون بتائے کہ اگر مردوں کے ساتھ ڈھابے پہ  چائے پینے سے مسائل سے آگہی ہوتی یا مسائل حل ہوتے تو کسی گاؤں میں جا کر دیکھیں۔دیہات  میں خواتین ڈھابے پر چائے پینا تو کیا، پورا ڈھا با خود چلا رہی ہوتی ہیں، جب گھر کے مرد کام پر جاتے ہیں تو خواتین چھوٹی چھوٹی دکانیں  یا ہٹیاں چلا رہی ہوتی ہیں۔اس کے علاوہ کھیتوں کھلیانوں میں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرتی ہیں ، مگر پھر ان کے حقوق انہیں نہیں ملتے۔ لہذا ڈھابوں پر بیٹھنے کو خواتین کی آزادی کا پیمانہ بنانے والوں کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ ان اقدامات سے کم از کم پاکستان میں کسی عام خاتون کی زندگی میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔

\"talha\"

اسی طرح سے سینیٹری نیپکن دیواروں پر چپکانے کا کیا مطلب ہے؟  کیا ہمارے مردوں کو نہیں پتا کہ حیض کیا ہے؟ کیا ہمیں کبھی کسی نے کہا ہے کہ ہم میں کوئی کمی یا خرابی ہے؟ سب جانتے ہیں کہ یہ ایک قدرتی عمل ہے۔احتجاج کرنے والی لڑکیوں کا یہ کہنا ہے کہ ہم شرمندہ کیوں ہوں؟ میں یہ کہتی ہوں کہ آپ شرمندہ کیوں ہو رہی ہیں؟ کس نے کیا آپ کو شرمندہ؟ کسی استاد نے کبھی آپ کواس وجہ سے کلاس سے نکالا؟ کبھی گھر والوں نے اس وجہ سے آپ کو حقارت سے دیکھا؟ ۔ پھر آپ کو خاکی لفافہ استعمال کرنے پر اعتراض ہے ، تو مت کریں استعمال ۔ میں نے بہت سے خواتین کو مارکیٹ میں اپنی ٹرالی میں بغیر خاکی لفافے کے نیپکن لے جاتے دیکھا ہے۔ایک اور اعتراض یہ ہے کہ ہم چھپ چھپ کر اس بارے میں بات کیوں کرتے ہیں ، سرعام کیوں نہیں کرتے؟ سرعام کرنے میں بھی کوئی حرج نہیں۔ مگر ہر معاشرے کی کچھ اقدار اور روایات ہوتی ہیں۔ ذاتی زندگی کوسب کی جاگیر نہیں بنایا جاتا۔ جو بھی باتیں ان طالبات نے لکھیں وہ سب کو معلوم ہیں ، بس زیادہ کھلے الفاظ میں ان کا ذکر اس نہیں کیا جاتا ہے کہ شرم و لحاظ کے پہلوکو ملحوظ خاطر رکھنا ہماری معاشرتی اقدار کا حصہ ہے۔یہ بالکل اسی طرح ہے جیسے ہمارے ہاں ابھی بھی بہت سے گھرانوں میں میاں بیوی ایک دوسرے کاہاتھ نہیں پکڑتے  یا آپ جناب کہ کر مخاطب ہوتے ہیں۔ یہ کوئی تنگ نظری نہیں ہے۔یہ تو ہماری روایات کی خوبصورتی ہے۔ایک طالبہ کو اس بات سے مسئلہ تھا کہ لڑکے کنڈم  کے ذکر پر نہیں شرماتے تو ہم نیپکن کے ذکر پر کیوں شرمائیں۔ ان سے بس یہ سوال ہے کہ نجانے کس قسم کے مردوں کی بات کر رہی ہیں؟ عموما مرد حضرات بھی سر عام یا گھر والوں کے سامنے کھل کر بات نہیں کرتے اور خاکی لفافہ ہی استعمال کرتے ہیں۔

میرےخیال میں ان خواتین کا مسئلہ یہ ہے کہ ان کا کوئی مسئلہ نہیں۔ یہ ایک مخصوص معاشی نظام کی پیداوار ہیں اور ان کو عام لوگوں کے مسائل سے کوئی آگہی نہیں۔ پاکستان میں خواتین کے مسائل ان مسائل سے بہت مختلف ہیں جن کو اخبارات یا سماجی رابطے کی ویب سائیٹس پر اچھالا جاتا ہے۔ مجھے اس سب سے اعتراض اس لیے ہے کہ ان لوگوں کی وجہ سے اصل مسائل پس پشت چلے جاتے ہیں ۔ مظلوم اور بے بس خواتین کی طوطی اس نقار خانے کے شور میں ہی دب جاتی ہے۔ ان کو اگر اتنا ہی درد ہے تو خواتین کے اصل مسائل کی بات کریں۔ بات کریں کہ 2015میں 143 خواتین پر تیزاب پھینکا گیا،1096 خواتین کو غیرت کے نام پر قتل کیا گیا، 939 خواتین کو جنسی تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ان کے تحفظ کے لیے آپ نے کیا کیا؟ ان ایشوز پر آگاہی کے لیے کوئی کمپین کیوں نہیں چلائی جاتی۔ تقریبا ایک ملین خواتین کے لیے صرف 671 زچہ بچہ سینٹر ہیں۔ اندرون سندھ یا پنجاب میں جب کوئی عورت حمل کی پیچیدگیوں اور ڈاکٹر میسر نہ ہونے کی صورت میں جب سسک سسک کر جان دے رہی ہوتی ہے تو اسے اس بات سے کوئی سروکار نہیں ہوتا کہ آپ نے سڑکوں پر کرکٹ کھیلی ہے یا نہیں؟ یا پھر آپ کے داغ اچھے ہیں یا برے۔ کبھی ممی پاپا سے کہہ کر کوئی چھوٹا موٹا وارڈ ہی بنوا دیں۔

 اب آپ یہ سوچ رہی ہوں گی کہ ہم یہ کیوں کریں؟ ہم تو فیمینسٹ ہیں۔ہم نے میڈیا پر اور سوشل نیٹ ورکس پر  دیکھا ہے کہ مغربی ممالک میں فیمینسٹ یہ سب تو نہیں کرتیں۔ وہ بھی پلے کارڈ اٹھا کر \”فریڈم فار وومن\” ، \”مائی باڈی مائی چوائس\” جیسے نعرےلگا رہی ہوتی ہیں، تو ہم بھی یہی کر یں گی۔ تو آپ کے گوش گزارکر دوں کہ مغرب میں بھی بہت سی خواتین نے فیمینسٹ تحریکوں میں حصہ تب لیا جب عام خواتین کے حقیقی مسائل کو اجاگر کیا گیا۔ اگر فیمی نزم کی تاریخ پڑھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ فیمی نزم کا عروج تب آیا جب خواتین کے ووٹ، جائیداد ، مساوی تنخواہ جیسے مسائل پر بات کی گئی اور ان کو حل کرنے کے کوشش کی گئی۔ فیمی نزم کا زوال تب شروع ہوا جب یہ تمام حقوق حاصل کرنے کے بعد غیر سنجیدہ مسائل کواپنا ایجنڈا بنایا۔ مغربی ممالک  کی تقلید میں آپ یہ بھی نہ بھولیں کہ ان کے اور ہمارے معاشرے اور مسائل میں بہت فرق ہے۔ وہاں خواتین اورمردوں کو یکساں تعلیم اور روزگار کے مواقع ملتے ہیں۔ وہاں طلاق کے بعد ٖخواتین کو جائیداد کا حصہ دیا جاتا ہے۔ اب اگر ایسے معاشروں میں خواتین نان ایشوز کو ایشو بنا رہی ہیں تو سمجھ بھی آتا ہے۔ ویسے اقبال نے بھی کہا تھا کہ یہ صناعی مگر جھوٹے نگوں کی ریزہ کاری ہے۔تقلید میں اندھے ہونے سے بہتر ہے کہ آپ اپنا راستہ خود تلاش کریں۔ایک حدیث بھی ہے کہ

\” حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے فرمایا: تم ضرور اپنے سے پہلے لوگوں کے طریقوں پر چلوگے ، بالشت کے برابر بالشت ، اور ہاتھ کے برابر ہاتھ ، یہاں تک کہ اگر وہ گوہ کے سوراخ میں داخل ہوئے تھے تو تم بھی ان کی اتباع کروگے ، ہم نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول ﷺ! یہود اور نصاریٰ ؟ آپﷺنے فرمایا: اور کون؟\”

 آپ کے معاشرے میں ابھی بہت سے بنیادی مسائل باقی ہیں۔ پہلے ان کو حل کرنے کا سوچیں، پھر کبھی نیپکن پر بھی بات ہو جائےگی۔

کیونکہ ہم سب اظہار کی آزادی پر یقین رکھتا ہے اس لئے محترمہ اقدس طلحہ سندھیلا کا یہ مضمون شائع کیا گیا ہے۔ ممکن ہے کہ اس نقطہ نظر کی مخالفت مین کچھ تحریریں سامنے آئین، ان پر بھی بات کی جائے گی۔ بنیادی سوال ہے \”Legitimacy of Question\” کا۔ یہ ایک فکری مسئلہ ہے، اس پر اصولی بحث سے بہت سے راستے کھلنے کا امکان ہے۔ مدیر