ریپ اور برقع

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ابھی کتنے دن گزرے ہیں کہ ہر ایک کی زبان پر زینب کا نام تھا۔ میڈیا کو تو موضوع چاہیے تو ہم سب نے لکھ لکھ کر صفحے کالے کر ڈالے۔ کسی نے نوحہ لکھا۔ کسی نے مرثیہ لکھا۔ کسی نے قانون کے رکھوالوں پر پتھر برسائے تو کوئی اخلاقی اقدار کی گرتی دیوار کی تصویر کشی کرتا رہا۔ پھر ملزم پکڑا گیا۔ داد ایسے سمیٹی گئی کہ گویا یہ تاریخ میں ہونے والا پہلا ایسا جرم تھا اور ملزم کا پکڑے جانا گویا اس امر کا اعلان تھا کہ اب ایسا سانحہ نہیں گزرنا۔ پر ہوا یوں کہ ابھی عمران نقشبندی پر مقدمہ ختم نہیں ہوا تھا کہ کتنے ہی اور کیس سامنے آ گئے۔ سزا کا اعلان ہوا پر پھر بھی کسی نے عبرت نہ پکڑی۔ ابھی تو کتنے ہی قصے ایسے ہیں جو میڈیا کی نگاہ سے دور دفن ہو گئے۔ لیکن اس کے باوجود روز کی ایک دلخراش کہانی ہے۔ بچیاں، بچے، لڑکیاں، عورتیں کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ مبشرہ کا قصہ ادھر کا ہے تو سرحد کے پار آصفہ کی نچی ہوئی لاش یہ بتا رہی ہے کہ انسانی حیوانیت نہ کسی قوم سے خاص ہے نہ کسی مذہب سے عبارت ہے۔ یہ جنون، وحشت اور درندگی وہ میراث ہے جس کا بوجھ اٹھائے انسانیت صدیوں سے پھر رہی ہے۔ اور ہم ہیں کہ آج کے دن کوئی اچھوتی وجہ ڈھونڈتے پھرتے ہیں کہ کہیں مل جائے تو اس کا گلہ گھونٹ دیں۔

ہم سب نے اس پر لکھا۔ اپنی اپنی سوچ کے گھوڑے سب دوڑاتے رہے ہیں۔ کچھ بیانیے بہت پرانے ہو گئے ہیں۔ گھس گئے ہیں۔ کوئی تحقیق ان کی پشت پناہی نہی کرتی پر ہر اس معاشرے میں جہاں تعلیم کی کمی ہے اور شعور کا جال ہے وہ بہت معروف ہیں۔ ریپ کے موضوع پر لکھا گیا ہر وہ لفظ جو ان مقبول عام بیانیوں سے مختلف ہو، ہمارے کچھ دوستوں پر بہت گراں گزرتا ہے۔ یہ وہی دوست ہیں جو اپنے مفروضے لیے بیماری کی دوا تشخیص کیے جا رہے ہیں۔ نہ دوا اثر کرتی ہے نہ بیماری گھٹتی ہے پر واہ واہ بہت ملتی ہے۔ کچھ گذارشات ایک سابقہ مضمون میں اس حوالے سے کیں تو تنقید کا ایک بازار کھل گیا۔ لوگ مختلف بات سننے سے گھبراتے ہیں۔ ان کے لیے ان کے آزمودہ مفروضے ہی حقیقت ہیں۔ آپ کی رائے آپ کی ملکیت ہے پر ضروری نہیں درست ہو۔ کوئی ہرج نہیں کہ کبھی کشتہ قدیم کو ترک کر کے بھی دیکھ لیا جائے۔ کوئی مضائقہ نہیں اگر مقبول عام مفروضوں اور بیانیوں کو حقائق اور منطق کی کسوٹی پر پرکھ لیا جائے۔

ان مفروضوں میں ہمارے معاشرے کا سب سے پسندیدہ مفروضہ یہ ہے کہ ریپ کی ذمہ داری صرف ریپسٹ پر عائد نہیں ہوتی بلکہ اس عورت پر بھی عائد ہوتی ہے جو کہ ریپسٹ کو اپنے لباس، اداوں اور جلووں سے اشتعال میں مبتلا کرتی ہے۔

اس مفروضے کی بنیاد میں وہ اساطیری نظریہ کارفرما ہے جس کے مطابق عورت ہی آدم کو خلد سے نکلوانے کا سبب بنی تھی۔ ٹیڑھی پسلی سے بنی ہوئی عورت کی فطرت میں ایک کجی ہے اور مرد اس وقت تک معصوم رہتا ہے جب تک کہ عورت کی ذات اسے گناہ پر نہ اکسائے۔ تاریخی طور پر معاشرے پدرسری رہے ہیں اور اس میں آج بھی کوئی خاص تبدیلی نہیں آئی ہے۔ ایسےمعاشروں میں عورت کو گناہ کی جڑ بتا کر مرد گویا ہر غلطی سے بری الذمہ قرار پائے۔ یہ صنفی امتیاز انتہائی کریہہ، ظالمانہ اور بودا ہے اورایک جدید دنیا میں اس کی کوئی جگہ نہیں بنتی پر کیا کیجے کہ ہماری دنیا ابھی تک جدید نہیں ہوئی۔ اس استدلال کا سہارا مذہبی اور غیر مذہبی دونوں طبقوں میں اب بھی معروف ہے۔

کم سن بچیوں، بچوں اور نوجوان لڑکوں کا ریپ ایک حقیقت ہے اور اس میں کمی کے بجائے اضافہ دیکھنے کو ملا ہے۔ ظاہر کہ ان میں سے کسی بھی صورت میں عورت کے وجود کی ایک قدرتی اشتعال انگیزی کو مورد الزام کہلانے کا جواز خود اپنی موت مر جاتا ہے۔ ایک پچھلے مضمون میں بلجیئم میں ہونے والی ایک نمائش کا حوالہ موجود تھا جس میں ریپ کا شکار ہونے والی خواتین کے ملبوسات رکھے گئے تھے۔ ان ملبوسات میں منی اسکرٹ سے لے کر بند گلے کے ملبوسات، عبایا اور برقع تک شامل تھے۔ یہ محض ایک خیال خام ہے کہ کسی بھی عورت کا لباس ایک عام مرد کو ریپسٹ بنا سکتا ہے۔ ظلم کا جواز مظلوم کے سر پر ڈالنا نفسیاتی تشدد کی بدترین قسم ہے۔ ایسی بیہودگی روا رکھنے والے وہی لوگ ہیں جو تنگ جینز کو زلزلے کی وجہ ٹھہراتے ہیں، سیلاب اور آندھیوں کا الزام بل بورڈز کے اشتہارات کے سر ڈالتے ہیں اور خشک سالی کا سرا میڈیا کی رنگینی سے برآمد کرتے ہیں۔

اس مفروضے کی تہہ میں یہ بالواسطہ اعتراف بھی موجود ہے کہ ہر مرد کے اندر ایک جانور موجود ہے جو صرف اس بات کا منتظر ہے کہ کہاں اسے موقعہ ملے اور وہ باہر آ جائے۔ یہ مفروضہ صرف عورت ہی کی نہیں، مرد کی بھی تذلیل ہے پر کوئی یہ بات سمجھنا چاہے تو۔ انگریزی میں اسے وکٹم بلیمنگ کہا جاتا ہے اور اس کا مقصد مجرم کے سر سے جرم کا بوجھ اتار کر جرم کا نشانہ بنے فرد یا افراد پر منتقل کرنا ہوتا ہے۔ ریپ کے ضمن میں یہ جواز دینے والے وہ لوگ ہوتے ہیں جو شعوری یا لاشعوری طور پر ریپ کو جرم ہی سمجھنے کے روادار نہیں ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ دوسرا مفروضہ الزام میڈیا کے سر دھرتا ہے۔ اس کے مطابق یہ میڈیا پر پھیلی بے حیائی ہے جس سے ریپ کلچر کو فروغ ملتا ہے۔ امید ہے کہ میڈیا پر ہی بیٹھے اس مفروضے کے علمبردار بزرجمہروں کو یہ معلوم ہو گا کہ ریپ کی تاریخ اتنی ہی قدیم ہے جتنی کہ انسانی تاریخ۔ اس تاریخ میں ریپ ماچوازم کے مظہر کے طور پر روا رکھا گیا ہے۔ قدیم قبائلی جنگوں اور جدید عالمی جنگوں میں بھی مفتوحین کی عورتوں کو تاراج کرنا ایک فاتح لشکر کا شعار رہا ہے۔ مفتوحین کی عزت اور عفت سمجھے جانے والی اقدار کو ایک کمزور عورت کے جسم کے ذریعے روند کر ان کے اندر موجود مزاحمت کو مکمل طور پر کچلنا مقصود ہوتا تھا اور ہے۔ اس سارے قضیے میں میڈیا کہیں موجود نہیں تھا۔ ریپ ایک نفسیاتی حربہ ہے جو صدیوں سے ایک قوم بحیثیت مجموعی دوسری قوم کے خلاف استعمال کرتی آئی ہے۔

جنگوں سے ہٹ کر عمومی حالات میں بھی ریپ ہمیشہ سے موجود رہا ہے۔ یہ میڈیا کی پیدائش سے صدیوں قبل بھی ایسا ہی تھا۔ ان عام حالات میں یہ مردانگی کا ایک ظالمانہ مظہر تھا۔ اس کی بنیاد اسی نظریے سے اٹھتی ہے جہاں مرد عورتوں پر حاکم ہیں اور عورتیں برابر کی انسان ہونے کے بجائے ایک ملک سے زیادہ کچھ نہیں ہیں۔ جس طرح ملکیت میں آئی باقی اشیاء برتی جاتی ہیں۔ عورت کو بھی اسی طرح برتنا مقصود تھا۔ اب ہم نے تہذیب کا چولا اوڑھ لیا ہے اس لیے کھل کر ایسی بات نہیں کرتے پر اندر سے آج کا مرد اب بھی اتنا ہی وحشی اور اتنا ہی سفاک ہے۔ جسے وہ عورت کی عزت کرنا کہتا ہے وہ آج بھی صرف اس کے حق ملکیت کا اعلان ہے۔ عورت اس کی چاردیواری میں بند ہو کر عزت مند ہے، نہیں تو بازار کا مال ہے۔

کیا میڈیا کوئی کردار ادا کرتا ہے؟ یقینا کرتا ہو گا۔ ہمارے اردگرد پھیلا ہوا تمام ماحول ہماری شخصیت کی تعمیر یا تخریب میں معاون ہوتا ہے اور آج کے دور میں میڈیا اس ماحول کا جزو لاینفک ہے پریہ تخریب یا تعمیر کس حد تک ہے اور کیا یہ ایک عام آدمی کو ایک مجرم میں بدل دیتی ہے، یہ ایک قابل بحث امر ہے۔ کیا اس میڈیا کو دیکھنے والا ہر مرد موقع ملنے پر ریپ کا مرتکب ہو گا۔ اگر اس کا جواب ہاں میں ہے تو اور بات ہے لیکن ہم جانتے ہیں کہ ایسا نہیں ہے۔ میڈیا کچھ مخصوص حالات میں ایک کمزور عمل انگیز تو ہو سکتا ہے پر یہ کسی بھی طرح ایک بنیادی محرک نہیں ہے۔ ہمارے بہت سے تجزیہ کاروں کے لیے میڈیا کا لفظ ایک پنچنگ بیگ کی طرح ہے جس پر وہ اخلاقی مکے بازی کا شوق پورا کرتے ہیں۔

یہ الگ بات ہے کہ وہ یہ فریضہ اسی میڈیا پر بیٹھ کر سرانجام دیتے ہیں اور تو اور اسی جہنمی میڈیا کے اشتعال انگیز اشتہارات ہی سے ان کے آن ایر ہونے والے پروگرامز کا خرچہ نکلتا ہے پر وہ کمال بے اعتنائی سے اس تضاد کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔ آج کی اس دنیا میں میڈیا پر بے وجہ کی قدغن کسی کام کی نہیں۔ ہمارا اخلاقی معیار کسی اور ملک اور قوم کے اخلاقی معیار سے مختلف ہو سکتا ہے۔ عورت کی طرح ہم اپنے میڈیا کو برقع پہنانا چاہتے ہیں اور یہ اتنا ہی بے کار علاج ہے۔ ہم میڈیا کو پردے میں لپیٹ بھی دیں تو ایک پراکسی کے پیچھے موجود باقی میڈیا کا کیا کریں گے۔ اصل بات ایک ذمہ دارانہ اور صحت مندانہ رویے کی تشکیل کی ہے پر اس میں لگتی ہے محنت کچھ زیادہ اس لیے ہم آسان راستہ ڈھونڈتے ہیں اور کسی تحقیق کا سہارا لیے بغیر سارا الزام میڈیا کے سر ڈال کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔(جاری ہے)

پورنو گرافی ، مذہب اور اخلاقی جرائم

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 163 posts and counting.See all posts by hashir-irshad

Comments are closed.