ابوالکلام آزاد‘ قائد اعظم اور پاکستان (2)

\"Syedشکیل چودھری صاحب نے جس طرح بنگلہ دیش کا ذکر کیا میرا حسن ظن ہے کہ وہ اس بارے میں ضرورجانتے ہوں گے کہ آزاد کا تعلق بھی بنگال سے تھا۔ اے کے فضل حق بنگالی مسلمانوں کا لیڈر تھا ۔ اس نے مسلمانوں کے دباﺅ پر کانگریس کی بجائے مسلم لیگ سے اتحاد کیا جو ابوالکلام آزادکی بہت بڑی ناکامی تھی۔ وہاں کے مسلمانوں نے کلکتہ میں ابولکلام آزاد کی امامت میں عید کی نماز ادا کرنے سے کیوں انکار کر دیا تھا؟ مولانا آزادکی سب سے زیادہ تضحیک ان کے اپنے شہر کلکتہ میں کیوں ہوئی؟

موصوف جیسے کتابوں کے حوالے دے کر اپنی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اس حوالے سے میرا حسن ظن ہے کہ وہ کتابوں کا مطالعہ صرف اپنے مطلب کی باتیں تلاش کرنے کے لیے نہیں کرتے ہوں گے ۔ زاہد چوہدری کی کتاب ”بنگالی مسلمان اور تحریک ِ پاکستان“ شاید ان کی نگاہوں سے گزری ہو۔ زاہد چوہدری کہتے ہیں۔ قائداعظم بنگال اور پنجاب کی تقسیم کے خلاف تھے لیکن گاندھی اور نہرو تیار نہ تھے لہٰذا بنگالی مسلمانوں نے آخری آپشن کے طور پر پاکستان کا حصہ بننا پسند کیا۔ 23مارچ 1940 کی قرارداد کے مطابق مسلمانوں کی ایک سے زائد مملکتیں وجود میں آ سکتی تھیں لیکن کانگریس نے لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے ساتھ مل کر ایک طرف متحدہ بنگال کا راستہ روکا دوسری طرف کشمیر کی آزادی کا راستہ روکا۔ “یہ درست ہے کہ پاکستان ٹوٹ گیا اور ابوالکلام آزاد کااندازہ بھی درست ہو گیا لیکن 23 مارچ 1940 کی قرارداد کی سچائی بدستور قائم ہے۔ 16دسمبر 1971 کو بنگالی پاکستان سے علیحدہ ہو گئے لیکن اس سب کے باوجود کئی بنگالی دانشور آج بھی کیوں کہتے ہیں کہ دوقومی نظریہ ختم نہیں ہوا؟ وہ کیوں کہتے ہیں کہ بنگالیوں نے بنگلہ دیش بنا لیا۔ ہندوستان میں واپس نہیں گئے اور آج بھی کچھ بنگالی دانشوروں کو کیوں یقین ہے کہ ایک دن مغربی بنگال بھی بنگلہ دیش کا حصہ بن جائے گا؟

چودھری صاحب نے محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خاں کا ذکر کر کے آزاد کی کی گئی پیش گوئیوں کا ذکر کیا ۔ آزاد نے نے پیش گوئیوں سے اٹااٹ اپنے اس انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا تھا کہ پارسی اور یہودی مذاہب کی طرح ہندو بھی موروثی مذہب ہے۔ آزاد نے پیش گوئی کی تھی کہ پاکستان غیر ملکی قرضوں کے بوجھ تلے دبا رہے گا۔ 2012-13ء تک پاکستان کے غیر ملکی قرضے ساٹھ بلین ڈالر تھے جب کہ بھارت کے 390 بلین ڈالر تھے۔ اس کے بارے میں شکیل صاحب کا کیا خیال ہے؟ اگر آپ نے وہ پیش گوئیاں پڑھی ہیں تو آزاد کی یہ پیش گوئی بھی آپ کو یاد ہو گی کہ پاکستان میں اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑے رہیں گے۔ آپ کا کیا خیال ہے کہ بھارت اپنے اندرونی خلفشار اور صوبائی جھگڑوں کا خوفناک حد تک شکار نہیں ہے؟ آزاد کے خوابوں کا مرکز شاید بھارت نہیں مریخ تھا کیونکہ ہندستان کے 14 صوبوں میں تو علیحدگی کی تحریکیں چل رہی ہیں۔ پاکستان کے بارے میں مولانا آزاد کی ہر پیش گوئی کا جواب منیر احمد منیر کی تصنیف ”مولانا ابوالکلام آزاد اور پاکستان…. ہر پیش گوئی حرف بہ حرف غلط“ میں بھی دیا ہے ۔ کیا وہ کتاب چوہدری صاحب کی نگاہوں سے گزری؟

شکیل صاحب نے جناب سید سردار احمد پیرزادہ صاحب کی تحریر سے ایک حوالہ دیا ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے پیرزادہ صاحب موصوف کے پسندیدہ کالم نگار ہیں۔ جناب پیرزادہ صاحب میرے مہربانوں میں سے ہیں۔ پیرزادہ صاحب اپنے 25 جون 2015 کے کالم ”بیان دے کر مکر جانے والا نیا سیاسی فیشن“ میں لکھتے ہیں۔ ” الطاف حسین کے بعد اس فیشن کا چلن بھارتی وزیراعظم مودی کے رویئے میں بھی دیکھا گیا جب اس ”موذی“ نے پاکستانی سیکورٹی اداروں کو شکست دینے کا احسان بنگلہ دیشی عوام پر جتلایا مگر جونہی اس ”موذی“ نے جنرل راحیل شریف کے جوابی بیان کو ڈی کوڈ کر کے بھارت کی عملی تباہی کا نقشہ دیکھا تو فوراً ہی معاملات کو ٹھنڈا کرنے کیلئے پاکستانی وزیراعظم کو رمضان کی مبارک باد کا فون کردیا۔ ”پہلے بیان دیکر ذلیل کردو، پھر نیچے نیچے ہو کر بھاگ لو“۔ کیا تنقید نگار پیرزادہ صاحب کے ان الفاظ سے بھی اتفاق کرتے ہوئے سیکولر مودی کو موذی سمجھتے ہیں؟

\"IMG_20150805_135202\"سید سردار احمد پیرزادہ 10 ستمبر 2015 کے کالم”شرمیلی دلہن اچھی لگتی ہے مگر شرمیلی خارجہ پالیسی نہیں“ میں لکھتے ہیں۔ دسمبر 1971ء میں پاکستان کے مجرم انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے 2015ءمیں پوری دنیا کے سامنے اپنے جرم کا اعتراف کیا لیکن پاکستان نے اس ظلم پر اتنا شور بھی نہیں مچایا جتنا کہ کوا چڑیا کے بچے اور انڈے اٹھائے تو چڑیاں مچاتی ہیں۔ “ کیا پیرزادہ صاحب کے قول کے مطابق اور مودی کے اعتراف جرم کے بعد موصوف مشرقی پاکستان کو توڑنے میں بھارت کو مجرم سمجھتے ہیں؟

کبھی موقع ملے تو مولانا ابوالکلام آزاد کی کتاب ”انڈیا وِنز فریڈم“ کے ان 30 صفحات پر بھی کچھ لکھیں جو ان کی وفات کے 30 سال بعد شائع ہوئے اور جس میں انہوں نے کانگریسی لیڈر شپ کی منافقت اور مسلم دشمنی کا پردہ چاک کیا ہے۔ کہیں سے ملے تو  10 اکتوبر 1992 کو ٹائمز آف انڈیا میں سکینہ یوسف خا ن کے انکشافات پر مبنی تحریر بھی پڑھیے گا جس میں وہ کہتی ہیں کہ آزادکی ایک کتاب ”جشن آزادی یا تقسیم ہند“ کو شائع نہیں ہونے دیا گیا ۔ آخر کیوں؟ کیونکہ اس کتاب میں مولانا آزاد نے نہرو اور پٹیل کے علاوہ گاندھی پر بھی تنقید کی۔ میرا حسن ظن ہے کہ موصوف صرف دکھانے کی حد تک تحقیق اور تلاش کے متلاشی نہیں رہتے ہوں گے اس لیے کبھی موقع ملے توآزاد کی لکھی وہ تحریریں بھی تلاش کیجئے گا جو آزاد کی وصیت کے باوجود بھارتی حکومت نے چھپا لی تھیں۔

میری دونوں تحریروں میں سے کہیں بھی موصوف کے لیے لبرل فاشسٹ کا لفظ استعمال نہیں کیاگیا اس کے باوجود وہ لکھتے ہیں کہ” بخاری صاحب کی نظر میں ان کا ناقد لبرل فاشسٹ ہے ۔ “میرے منہ میں اپنی بات ڈالنے کے کیا معنی؟ اگر وہ خود ہی یہ سمجھتے ہیں کہ تو میں کیسے انکار کر سکتا ہوں ۔ وہ لبرل فاشسٹ کو جمع اضداد تصور کرتے ہیں۔ بہت سارے پاکستانی‘ لبرل فاشسٹ کو ضدِ اجداد بھی سمجھتے ہیں۔ سوال پوچھا ہے کہ ایک لبرل شخص فاشسٹ کیسے ہو سکتا ہے؟ اس اصلاح کو سمجھنے کے لیے پاکستان میں پائے جانے والے لبرلز کی انتہا پسندانہ سوچ کے بارے میں تحقیق فرما لیں تو خود اس اصطلاح کے معانی سمجھ لیں گے۔ اگر پھر بھی سمجھ نہ آئے تو معروف کالم نگار جناب حامد میر صاحب سے استدعا کر لیں مجھے یقین ہے کہ جواب ضرور مل جائے گا ۔ جناب حامد میر صاحب سے استدعا کرنے سے قبل خیال رہے کہ میر صاحب رائے ٹھونسنے‘ تاریخ کی غلط تشریح کرنے، بے معنی پروپیگنڈا کرنے، دانستہ یا نادانستہ قائد، اسلام، پاکستان اور اقبال کے خلاف بے بنیاد باتیں پھیلانے والے اور جھوٹ کی تجارت کرنے والے نام نہاد لبرل لوگوں کے لیے لبرل فاشسٹ کے ساتھ لبرل ظالمان کا استعمارہ بھی استعمال کرتے ہیں ۔ ہو سکے تو لگے ہاتھوں لبرل ظالمان کے معنی بھی دریافت کر لیجیے گا۔

جناب سید سردار احمد پیرزادہ نے جو 26 فروری 2015 کے اپنے کالم میں جماعت اسلامی کے حوالے سے کچھ سوالات اٹھائے تھے ۔ اگر شکیل صاحب واقعی اس تشنہ پن کو دور کرنا چاہتے ہیں تو جماعت اسلامی کے کسی ترجمان سے رابطہ کریں۔ موصوف نے پوچھا کہ” اگر ”واقعی“ قادیانی غیر مسلم ہیں تو ایک قادیانی پاکستان کا پہلا وزیر خارجہ کیسے بن گیا؟ “عرض خدمت ہے کہ کسی کو مسلمان قرار دینا یا غیر مسلم کا فیصلہ سنا دینا میرا کام نہیں ۔ اگر موصوف کو واقعی قادیانی مسلمان لگتے ہیں تو اسمبلی اور عدالت کے ذریعے ان کے آئینی حق کے لیے جدو جہد کیوں نہیں کرتے؟

رہا میرے ہندستان کے دورے کا سوال تو فی الحال میرا اس پر سفرنامہ لکھنے کا کوئی ارادہ نہیں۔ شکیل صاحب پڑھتے وقت اگر الفاظ پر غور فرما لیتے تو بے بنیاد طولانی و طوفانی تمہید باندھنے اور اس پر مفروضات کی عمارت تعمیر کرنے کی ضرورت پیش نہ آتی۔ اگر وہ چالیس سے زائد مقامات، شہروں یا ریاستوں میں فرق نہیں کر سکتے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔ موصوف نے آزاد اور ہندستان کے بارے میں میری معلومات کے بارے میں لکھا ہے کہ ”بخاری صاحب کی معلومات سنی سنائی بلکہ خیالی باتوں پرمشتمل ہیں۔ “ مدیر” ہم سب “کی خدمت میں کچھ تصاویر بھیج رہا ہوں تاکہ بہت سے شک میں مبتلا لوگوں کی غلط فہمی رفع ہو جائے۔

\"IMG_20150805_135333\" سید مودودی کے ایک قول کا ایک حوالہ لکھنے پر موصوف نے پرجوش انداز میں انکشاف کیا تھا کہ میں نے بڑے ذوق و شوق سے یہ حوالہ دیا ہے۔ میں نے اس کے لیے خود ساختہ الہام کا لفظ استعمال کیا تھا۔ موصوف نے الفاظ واپس لے کر نیا خود ساختہ الہام یہ فرمایا کہ میں نے انتہائی بد دلی سے ایسا کیا تھا۔ جہاں تک سید مودودی کی رائے کے بارے میں جاننے کی بات تو اگر اس میں انہیں کوئی ابہام ہے تو کچھ محنت اور تحقیق کر لیں تو جواب ملنا مشکل نہیں ہو گا۔ میری آخری اطلاعات کے مطابق سید مودودی کی کتابیں پاکستان میں بغیر کسی پابندی کے مل جاتی ہیں۔ اگر کوئی خود ساختہ پابندی لگا رکھی ہے تو اس میں میرا کوئی قصور نہیں۔

 شکیل صاحب نے آزاد مرحوم کے حوالے سے میری تحریر کو ناپسندیدہ کہتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح کے ایک قول کو ناشائستہ ترین پھبتی قرار دیتے ہیں۔ مقرر عرض کروں کہ میں قائد کے قول کو پھبتی نہیں حقیقت سمجھتا ہوں۔ آج کا بیانیہ آزاد کے منظرنامے کو سمجھنے اور قائد کے وژن کے حوالے سے کیا بیان کرتا ہے وہ سب اظہر من الشمس ہے۔ جہاں تک میری ناپسندیدہ تحریرکا تعلق ہے تو آپ قائد کے قول کو جس نظر سے دیکھتے ہیں وہاں میری رائے کی کیا وقعت ہو گی اس کا مجھے اندازہ ہے۔

 قاضی عبدالحنان کی کتاب میرِ کاررواں کے صفحہ239 پر وہ لکھتے ہیں” قائدِا عظم نے ابوالکلام آزاد سے کہا ”میں آپ سے خط و کتابت یا کسی اور ذریعے سے گفتگو کے لیے تیار نہیں ہوں کیونکہ آپ نے مسلمانوں کا اعتماد بالکل کھو دیا ہے۔ کیا آپ محسوس نہیں کرتے کہ آپ کو ایک ”شو بوائے“ صدر بنا کر رکھا گیا ہے؟ آپ نہ ہندوﺅں کی نمائندگی کرتے ہیں اور نہ مسلمانوں کی۔ اگر آپ کے اندر عزتِ نفس کی ایک رمق بھی باقی ہے، تو آپ کانگریس کی صدارت مستعفی ہو جاتے“۔ آزاد نے قائد کو کوئی جواب کیوں نہیں دیا۔ کیا وہ اس سے اتفاق کرتے تھے؟

تنقید نگار نے پوچھا ہے کہ ”ناشائستہ پھبتی انہیں قابل اعتراض نہیں لگتی تو پھر انہوں نے یہ کیوں لکھا کہ ‘ابوالکلام آزاد کے بارے میں جو اندازِ بیان ہمارے ہاں پایا جاتا ہے وہ قابل تحسین اور لائق ستائش نہیں۔ “ میں نے یہ جملہ ان” لکیر کے فقیر“ لوگوں کے لیے لکھا تھا جو سانپ گزر جانے کے بعد بھی لکیر پیٹتے رہتے ہیں۔ پاکستان بن جانے کے بعد بھی اس کو تسلیم کرنا ان پر گراں گزرتا ہے اور جو کسی جواز کے بغیر نہرو، گاندھی اور ابوالکلام آزاد جیسوں کو درست قرار دے کر قائد اور پاکستان کو غلط ثابت کرنے کے حوالے سے رطب اللسان رہتے ہیں۔ یہیں پر شکیل صاحب نے قائد اعظم کو بالواسطہ کج فہم قرار دیا۔ اس کی ایک مثال تو قارئین کے سامنے ہے کہ دلیل کی زبان سے بھی اگر کوئی آزاد کی منظر نامہ سمجھنے کی غلطی کو سمجھنے سے قاصر ہے اور قائد جیسے عظیم انسان کو کج فہم اور پھبتیاں کسنے والا انسان سمجھتا رہے تو ایسے انداز بیان کو قابل تحسین اور لائق ستائش کہنا کہاں کا انصاف ہے؟

جناب شکیل صاحب پوچھتے ہیں کہ” قائداعظم نے اپنی کابینہ میں سر ظفراللہ اور جوگندر ناتھ منڈل جیسے غیر مسلموں کو کیوں شامل کیا؟ منڈل صاحب 1950 میں پاکستان چھوڑ کر ہندوستان کیوں چلے گئے تھے؟ “تنقید نگار کیا ان کی شمولیت کو اچھا نہیں سمجھتے؟ کیا یہ سمجھتے ہیں کہ اقلیتوں کو ایوان میں شامل نہیں کرنا چاہیے تھا؟ کیا وہ اسے قائد اعظم کی سیاسی غلطی سمجھتے ہیں؟

تنقید نگار نے یہی سوالات جناب ارشاد احمد عارف صاحب سے بھی پوچھے تھے ۔ تحقیق کے لیے محنت کی ضرورت ہوتی ہے جو کہ موصوف کے بقول ہمارے ہاں مفقود ہے۔ جناب ارشاد احمد عارف صاحب نے بہت پہلے قائداعظم، نظریہ اور ریاست کے عنوان سے اپنے ایک کالم کے ذریعے ان الفاظ میں اس موضوع پر قلم اٹھایا تھا۔ ”قائداعظم نے اپنی کابینہ میں سر ظفراللہ اور جوگندر ناتھ منڈل کو شامل کیا۔ یہ اسلامی ریاست میں اقلیتوں کو تحفظ کا احساس دلانے اور انہیں امور سلطنت میں شامل کرنے کی عمدہ تدبیر تھی۔ میثاق مدینہ کی روح کے عین مطابق۔ اس اقدام سے کانگریس اور انگریز کے اس پروپیگنڈے کی نفی ہوئی کہ حقیقی اسلامی ریاست میں اقلیتوں سے امتیازی سلوک روا رکھے جانے کا احتمال ہے۔ انہیں اہلیت و صلاحیت کے مطابق آگے بڑھنے کا موقع نہیں ملے گا اور ان کی وفاداری پر شک کیا جائے گا مگر قائداعظم کی اس رواداری، اعلیٰ ظرفی اور اسلامی تعلیمات کے مطابق اقلیت نوازی کا صلہ دونوں نے خوب چکایا۔ ایک نے اپنے اور قوم کے قائد کی نماز جنازہ پڑھنے سے انکار کر دیا اور دوسرا پاکستان سے وفاداری کا حلف اٹھانے کے بعد بھارت بھاگ گیا کیونکہ اسے ایک ہندو ریاست ہی راس تھی۔ “

 متحدہ ہندستان بہت سوں کا سپنا تھا لیکن شاید گاندھی اور آزادکا تو سب سے بڑا خواب تھا۔ ان دونوں نے متحدہ ہندستان کی ایک عقیدے کی طرح پرورش کی تھی۔ تاریخ ہمیں بتاتی ہے اور جغرافیہ بھی کہ ہندستان تقسیم ہو گیا۔ انجام کار انھوں نے اپنے خواب کو چکنا چور ہوتے دیکھا اور اس کی کرچیاں چنتے ہوئے اس جہاں سے گزر گئے۔ قائد کا بھی ایک سپنا تھا ۔ انہوں نے جو خواب دیکھا اس کو حقیقت کی شکل دینے میں کامیاب ہوئے ۔ متحدہ ہندوستان کے لیے دل کے درد کا اب کوئی فائدہ نہیں۔ جہاں تک رہی قائد پر بے معنی تنقید ‘ تو اس سے قائد کا قد چھوٹا نہیں ہو جائے گا۔ آزاد نے قائد پر بے سروپا باتیں تھوپنے والے ایک منشی جی کو کہا تھا کہ ”ناروا الفاظ بولنے سے آدمی بڑا نہیں ہوجاتا۔ اس قسم کے الفاظ حلق سے نیچے نہیں اترتے“۔ پاکستان ایک دیوانے کا خواب نہیں ہے بلکہ حقیقت ہے اس لیے اس کو تسلیم کر لینے سے کسی کی توہین نہیں ہو گی۔ ابوالکلام آزاد کہا کرتے تھے کہ \”پاکستان وجود میں آ گیا ہے تو اب اسے باقی رکھنا چاہیے، اس کا بگڑ جانا سارے عالم اسلام کے لیے شکست کے برابر ہوگا\”۔ (بحث ونظر‘ نوائے وقت۔ 23 مارچ 1973)

ہم ایک ایسے دور ِ ستم سے گزر رہے ہیں جب اپنے بانیاںِ پاکستان کے دامن پر سیاہی کے چھینٹے ”چھڑک“ کر، قائد اعظم کی قیادت اور ویژن پر اپنی کم فہمی اور مایوسی کے تیر برسا کر، قیام پاکستان کی مخالفت اور قائد اعظم سے دشمنی کر کے یہ سمجھ رہے ہیں کہ قومی خدمت سر انجام دی جا رہی ہے۔ مغربی اور بھارتی مصنفین کی تعصب اور بددیانتی پر مبنی تحریروں کو پیش کر کے یہ رونا روتے رہنا کہ ان کو حقائق چھپانے کے لیے نظروں سے پوشیدہ رکھا جاتا ہے درست نہیں۔ لفظوں سے کھیلنا کوئی بڑا کام نہیں ہوتا ۔ ایسے نغمہ بے نوا کی نے نوائی کسی کام نہیں آتی ۔

 چودھری صاحب کے ملکی تعلیمی اداروں کی بہتری کے لئے تخلیقی مرحلے سے گزرنے والے حل سے اتفاق کرتا ہوں کہ طلبہ کو برین واشنگ سے بچا کر ان کی تنقیدی انداز میں سوچنے کی صلاحیت میں اضافہ کیا جانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ کیا وہ یہ نہیں سمجھتے کہ نوجوان نسل جس نے نہ ہند ذہنیت کے چرکے کھائے، نہ پاکستان بنتے دیکھا اور نہ ہی قائد اعظم کی عظمت کو جگمگاتے دیکھا، اس نسل کو پاکستان سے بدظن کرنے والوں، عظیم قائد کی بصیرت اور ویژن کو مشکوک کر نے والوں اور تنقید اور تنقیص کے معنی سے ناآشنا نوم چومسکی اور اورن دھتی رائے بننے والے دانشوروں کی برین واشنگ سے بچانے کی کوئی ضرورت نہیں ہے؟

یہ تو آدھا بھی نہیں جس پہ تڑپ اٹھے ہو

تونے دیکھا ہی نہیں ہجر مکمل جاناں

محترم شکیل چودھری صاحب میری گفتگو کو ناشائستہ بھی کہتے ہیں، قائد کے قول کو ناشائستہ ترین پھبتی بھی قرار دیتے ہیں اورساتھ یہ بھی لکھتے ہیں کہ” بخاری صاحب dissent  کے تصور سے ناآشنا معلوم ہوتے ہیں۔“ یہ میں قارئین پر چھوڑتا ہوں کہ وہ اس طرح کی زبان کے کیا معنی لیتے ہیں؟

 سنگ ہیں، ناوکِ دشنام ہیں، رسوائی ہے

 یہ ترے شہر کا اندازِ پذیرائی ہے