’فلسطینی صدر کا بیان یہودیوں کے خلاف ہے‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سنہ 1945 میں سوویت افواج کی آمد پر دیتھ کیمپ میں موجود بچے

United States Holocaust Memorial Museum
سنہ 1945 میں سوویت افواج کی آمد پر دیتھ کیمپ میں موجود بچے

اسرائیلی سیاستدانوں اور دائیں بازو کے حلقوں نے فلسطینی صدر محمود عباس کے ہولوکاسٹ کے بارے میں دیے گئے بیان کو یہودی مخالف قرار دیتے ہوئے اس کی مذمت کی ہے۔

محمود عباس نے غربِ اردن میں اجلاس کے دوران کہا تھا کہ یورپ میں ’یہودیوں کی اقتصادی سرگرمیوں کی وجہ سے نازیوں نے اُن کا قتلِ عام کیا اور یہ قتلِ عام یہودی مخالف نہیں تھا‘۔

انھوں نے یورپ کے یہودیوں کی ‘سماجی سرگرمیوں’ کو بیان کرتے ہوئے ‘سود خوری اور بینکاری نظام’ کا ذکر کیا۔

اسرائیل کے وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے ترجمان نے اس بیان کو ‘یہودی مخالف اور دل سوز’ قرار دیا ہے۔

یہ بھی پڑھیے

پولینڈ میں ہولوکاسٹ سے متعلق بل پیش، اسرائیل کی تنقید

اعلامیہ جس نے عرب اسرائیل تنازعے کو جنم دیا

اسرائیل کے عربوں سے بڑھتے تعلقات

نیویارک میں یہودیوں کی دائیں بازوں کی تنظیم انٹی ڈیفیمیشن لیگ نے بھی محمود عباس کے بیان کی مذمت کرتے ہوئے اسے ‘یہودیوں کے مخالف’ قرار دیا ہے۔

یاد رہے کہ دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں نے یورپ میں یہودیوں کی نسل کشی کرنے کے لیے 60 لاکھ یہودیوں کو قتل کیا اور انھیں بڑی تعداد میں ہلاک کرنے کے لیے ’دیتھ کیمپ‘ بنائے گئے۔

https://twitter.com/ADL_National/status/991332469218693120

محمود عباس نے کیا کہا تھا؟

محمود عباس غربِ اردن کے علاقے رملہ میں فلسطین لیبریشن آرگنائیزیشن کی اجلاس سے خطاب کر رہے تھے۔

فلسطینی ٹی وی پر براہ راست نشر ہونے والے ڈیڑھ گھنٹے کے خطاب میں یورپی یہودیوں کی تاریخ بھی شامل تھی، جو اُن کے مطابق ‘یہودی زائنسٹ مورخین’ کی کتابوں میں دی گئی معلومات پر مبنی تھی۔

انھوں نے کہا کہ’کئی دہائیوں سے مغربی اور مشرقی یورپ میں یہودیوں کے وقتا فوقتاً ہونے والے قتلِ عام کے بعد ہولوکاسٹ ہوا‘۔

محمود عباس نے کہا کہ ‘لیکن ایسا کیوں ہوا؟ وہ کہتے ہیں کہ یہ اس لیے ہوا کہ وہ یہودی ہیں۔ میں یہاں تین یہودیوں کی تین کتابوں کا ذکر کروں گا جو کہتے ہیں کہ یہودیوں سے دشمنی کی وجہ اُن کی مذہبی شناخت نہیں تھی بلکہ اُن کی سماجی سرگرمیاں تھیں۔‘

انھوں نے کہا کہ ‘یہ مختلف مسئلہ ہے۔ پس یورپ بھر میں لوگ اُن کے مذہب کی وجہ سے اُن کے مخالف نہیں تھے بلکہ اس کی وجہ اُن کی سماجی سرگرمیاں جو کہ سود، بے ایمانی پر مبنی ادھار دینا اور بینکاری نظام وغیرہ تھیں‘۔

Mahmoud Abbas (C) addresses The Palestinian National Council 23rd opening session in the West Bank town of Ramallah, 30 April

EPA
محمود عباس نے یہودی مخالف بیان فلسطین لیبریشن آرگنائیزیشن کے اجلاس کے دوران دیا

محمود عباس نے کہا کہ جرمنی اور شمال مشرقی یورپ کے اشکنازی یہودی سامی نسل کے نہیں تھے اور ’ان کا شامی نسل کے لوگوں سے کوئی تعلق نہیں تھا‘۔

یاد رہے کہ اسرائیل کی سب سے بڑی کیمونٹی اشکنازی یہودیوں کی ہے اور اسرائیل کے وزیراعظم کا تعلق بھی اسی کیمونٹی سے ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم نے فلسطینی صدر کے بیان کی مذمت کی ہے۔

وزیراعظم کے ترجمان نے ٹویٹ کیا کہ ’ایک شخص جو یہودیوں کا اسرائیل کی زمین سے ہزاروں برس کے تعلق کو مسترد کرتا ہو، وہ ہولو کاسٹ کا الزام یہودیوں پر لگا رہا ہے اور یہ دعویٰ کر رہا ہے کہ ہٹلر نے یہودیوں کی مدد کی، وہ حقیقت کو مسترد کر رہا ہے اور امن نہیں چاہتا۔‘

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 17846 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp