ووٹ ہی حالات متوازن کرے گا

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

شجاع آباد پہنچے تو ہلکی ہلکی بارش ہونے لگی۔ صحرا کی تپتی ہوئی دوپہر میں اس بارش سے جنوبی پنجاب کے اس دور افتادہ قصبے کے لوگوں کے چہرے اور دل بھی کھل اٹھے۔ جس سے کچھ پوچھا، یوں لگا ابھی کچھ گنگنا دے گا۔ کچھ بارش کا اثر اور شاید کچھ ٹی وی کیمر ے کا بھی کہ بازار میں رونق سی پھیل گئی۔ سوال تو یہ تھا کہ شجاع آباد والے آئندہ عام انتخابات میں کس کو اسمبلی بھیجنا چاہتے ہیں مگر جواب یک لفظی نہیں تھے۔

یوں معلوم ہو رہا تھا کہ ہر شخص کچھ نہ کچھ کہنا چاہتا ہے، ہر کسی کے پاس ایک کہانی ہے جو وہ سنانا چاہتا ہے۔ تھوڑی دیر میں ہی اس چھوٹے سے شہر کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک بات پھیل گئی کہ ایک ٹی وی والا لوگوں سے پوچھتا پھرتا ہے کہ آئندہ حکومت میں کسے بھیج رہے ہو۔ اس کے بعد جس کے سامنے مائیک کیا سوال پوچھنے کی نوبت نہیں آئی، ٹھک سے جواب آیا۔

ایک راجستھانی حلوائی نے تازہ بنا لڈو میرے منہ میں ٹھونس دیا اور بولا، ”نواز شریف کی جیت کی خوشی میں کھلا رہا ہوں‘‘۔ میں نے بمشکل آدھا لڈو نگلا اور پوچھا کہ ابھی تو الیکشن بھی نہیں ہوئے تم کاہے کی خوشی منا رہے ہو۔ کیمرے کی آنکھ میں آنکھیں ڈال کر بولا، ”یہ شہر نواز شریف کا ہے، ہم بھی نواز شریف کے ہیں، اگلی حکومت بھی نواز شریف کی ہو گی‘‘۔

اس حلوائی کے بازو میں بیٹھا سرائیکی گھڑی ساز تو یہ منظر دیکھ کر گویا تلملا اٹھا۔ ایک جھٹکے سے کھڑا ہوا، میرے ہاتھ میں پکڑا مائیک اپنے منہ کے قریب کر کے کہنے لگا ، ”سائیں، نواز شریف کی کہانی ختم ، ابھی تم دیکھنا عمران خان ہمارا وزیر اعظم ہو گا‘‘۔ اپنی بات مکمل کر کے اس نے فلک شگاف انداز میں کہا، ”آئی آئی‘‘۔ بازار کے کئی حصوں سے آواز آئی، ”پی ٹی آئی‘‘ ۔

اس کے بعد راہ چلتے لوگوں کے سامنے میں مائیک کرتا اور سوال کرتا کہ آئندہ کس کو حکومت کے قابل سمجھتے ہو تو ہر کوئی اپنی اپنی پسندیدہ جماعت کا نام بتا دیتا۔ کسی نے رقص کر کے نواز شریف کا نغمہ گایا تو کسی نے جھوم کر عمران خان کا نام لیا۔ کہیں کہیں کچھ دیوانے پیپلز پارٹی، بھٹو اور بلاول کا نام بھی لے رہے تھے، جن پر بے طرح پیار آیا۔

سوال پوچھتے پوچھتے میں اس تنگ سے بازار کے اندر چلا جا رہا تھا کہ اچانک کسی ذیلی گلی سے موٹر سائیکل رکشا چلاتا ہوا ایک نوجوان آ گیا۔ پچیس برس کی عمر ہو گی ، سر پر نیلے رنگ کی شیشوں والی ٹوپی جو پنجاب کے جنوبی حصے میں بسنے والوں کی شناخت ہے۔ میں نے مائیک آگے کیا اور اپنا سوال دُہرا دیا۔ ایک لحظہ اس نوجوان نے کچھ سوچا‘ پھر میرا پورا نام لے کر بولا، ”ووٹ تو میں نواز شریف کو دوں گا ، بس ڈر یہ ہے کہ الیکشن جیت کر میرا لیڈر سارے اداروں سے لڑائی نہ شروع کر دے‘‘۔

میں اس کی سوچ کی گہرائی پر حیران رہ گیا، بجائے اسے ٹوکنے کے میں خاموش رہا اور وہ بولتا رہا۔ اس وقت تک نواز شریف نے ممبئی حملوں والا بیان بھی نہیں دیا تھا، مگر اس نوجوان نے اگلے ڈیڑھ منٹ میں مجھ پر واضح کر دیا کہ اگر نواز شریف نے الیکشن تک فوج اور عدلیہ کے بارے میں محتاط رویہ اختیار نہ کیا تو پھر وہ اپنا فیصلہ بدل بھی سکتا ہے ، یعنی اس کا ووٹ عمران خان کو بھی جا سکتا ہے۔ ”سائیں ہم سارے تھوڑے تھوڑے خراب ہیں، سب کو ٹھیک ہونا چاہیے مگر لڑ کر نہیں ، پیار سے‘‘، یہ کہہ کر اس نے اپنا رکشا سٹارٹ کیا اور بازار سے باہر نکلنے کے راستے پر چل پڑا۔

اس کی بات سن کر مجھے وہ عینکیں بیچنے والا یاد آ گیا جو سانگلہ ہل کے بازار میں ملا تھا اور نواز شریف کو ووٹ دینے کا ارادہ کیے ہوئے تھا۔ جب میں نے اس سے کہا کہ عدالت نے تو نواز شریف کو نااہل کر دیا ہے تو اس نے ٹھیٹھ پنجابی میں جواب دیا ، ”دیکھو بھائی عدالت کی بات تو سب کو ماننی پڑے گی اور ووٹ کی بات بھی سب کو ماننی پڑے گی‘‘۔

میں اس عینک فروش کی بات سن کر دنگ رہ گیا تھا کہ توازن کا یہ نکتہ جو ہم جیسے کالم نگار اور تجزیہ کار دریافت نہیں کر سکے ، سانگلہ ہل کے اس بازار میں کوئی پہلے سے سوچے بیٹھا ہے۔ شجاع آباد میں موٹر سائیکل رکشہ چلانے والے اس نوجوان نے بھی یہی تو سمجھایا تھا کہ نواز شریف کے حامی ان کے ساتھ ہیں مگر ہر بات میں نہیں۔ ملک کو آگے چلانے کے لیے ”ہاں‘‘ کوئی نئی لڑائی چھیڑنے کے لیے ”نہیں‘‘!

شجاع آباد ی موٹرسائیکل رکشہ ڈرائیور اور سانگلہ ہل کے عینک فروش نے جو رائے دی ، اس کی تصدیق گیلپ پاکستان کا سروے بھی کرتا ہے جس کے مطابق پاکستانیوں کی اکثریت فوج کو بطور ادارہ، جنرل قمر جاوید باجوہ کو بطور سپہ سالار ، جسٹس ثاقب نثار کو بطور چیف جسٹس اور نواز شریف کو بطور سیاسی لیڈر بیک وقت پسند کرتی ہے۔ ان تینوں شخصیات کو ایک ہی وقت میں اپنے اعتماد کے قابل سمجھنا کوئی اچنبھے کی بات نہیں ، بلکہ پاکستانی قوم فوج ، عدلیہ اور سیاسی حکومت کے درمیان توازن چاہتی ہے۔ یعنی ایسا تال میل جو تصادم پیدا ہونے دے نہ کسی کو شترِ بے مہار بننے دے۔

اپنے بہت سے چاہنے والوں کی خواہش کے بالکل برعکس نواز شریف تصادم کے راستے پر چل نکلے ہیں اور ملتان میں اپنے پسندیدہ صحافی سے خصوصی انٹرویو اس راستے پر آگے بڑھتے چلے جانے کا اعلان تھا۔ اس متنازعہ بیان کے مضمرات عیاں ہونے سے پہلے ہی شہباز شریف نے سمجھ لیا اور میرپور خاص میں کہہ دیا کہ ایسا بیان نواز شریف نہیں دے سکتے۔

اگلے ہی دن نواز شریف نے اسلام آباد میں احتساب عدالت کے باہر کھڑے ہو کر اخبار میں چھپا اپنا بیان پڑھ کر بتا دیا کہ یہ زبان کی لغزش ہے نہ غلط رپورٹنگ بلکہ انہوں نے خوب سوچ سمجھ کر پردے فاش کرنے کی ٹھان لی ہے اور یہ بیان اس سلسلے کی پہلی قسط ہے۔ اس کے بعد میڈیا پر جو شور مچا وہ اپنی جگہ اصل سوال یہ ہے کہ ووٹر اس بیان پر کیا سوچ رہا ہے۔

یہ جاننے کے لیے گوجرانوالہ کے دو قصبوں کامونکی اور واہنڈو کا قصد کیا ۔ یاد رہے کہ اس علاقے سے دو ہزار تیرہ میں نواز شریف کے دیرینہ ساتھی رانا نذیر احمد خان کے بیٹے عمر نذیر ن لیگ کے ٹکٹ پر جیتے تھے مگر چند دن پہلے وہ تحریک انصاف کا دو رنگا رومال گلے میں ڈال چکے ہیں۔ یہاں پر بھی لوگ پنجاب کے باقی شہروں کی طرح ن لیگ اور تحریک انصاف میں بٹے ہوئے ملے۔

ن لیگ کے حامیوں سے نواز شریف کے بیان کے بارے میں پوچھا تو کوئی بھی اس کا دفاع نہ کر سکا۔ تحریک انصاف کے چاہنے والے تو پوچھے بغیر ہی بڑھ چڑھ کر اس بارے میں بات کرتے رہے۔ یہاں محسوس ہوا کہ سابق وزیر اعظم نے اگر ایک آدھ بیان اور اس طرح کا داغا تو حالات کوئی دوسرا رخ بھی اختیار کر سکتے ہیں۔ ان کے ارد گرد موجود سول ملٹری تعلقات پر کتابی باتیں کرنے والے دانشوروں کو شاید یہ اندازہ نہیں کہ گلی محلے کا عام آدمی جمہوریت پسند ہونے کے ساتھ ساتھ پاک فوج کی قربانیوں کا بھی معترف ہے۔

اسے یہ بھی اچھی طرح علم ہے کہ مضبوط فوج ملک کے تحفظ اور سالمیت کی ضمانت ہے۔ وہ جمہوریت کو بہترین طرز حکومت سمجھتا ہے مگر اس کا یہ قطعی مطلب نہیں کہ جمہوریت کے نام پر وہ پاک فوج کے خلاف پروپیگنڈا کو نظریاتی جہتیں دینے والوں کے چکر میں آ جائے گا۔ اس ملک کے مالکوں یعنی عوام نے کبھی فوج سے لڑنے والوں کی حمایت نہیں کی اور کبھی فوج کو سیاست میں خوش آمدید بھی نہیں کہا۔

لوگ غدّاری کے فتوے مانتے ہیں نہ حب الوطنی کی سند کے طلب گار ہوتے ہیں۔

یہی وہ توازن ہے جو شجاع آباد ، سانگلہ ہل ، کامونگی اور واہنڈو کے لوگوں کی سمجھ میں تو آ گیا ہے مگر نواز شریف کی نظروں سے اوجھل ہوتا چلا جا رہا ہے۔ ایک نواز شریف ہی کیا، بہت سے اور بھی تو ہیں جو یہ نکتہ فراموش کیے ہوئے ہیں۔

بشکریہ دنیا

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •