بعض اوقات تو وہ آپ کے جسم کو دباتی بھی ہیں، گویا کہہ رہی ہوں ’یہاں کچھ چھپایا ہوا ہے؟ اداکارہ اشنا شاہ کا سیکیورٹی چیک پر احتجاج‘

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی ٹی وی ڈراموں کی معروف اداکارہ اُشنا شاہ کے ساتھ پاکستانی ائیرپورٹ پر شرمناک واقعہ کا شکار ہو گئیں۔ تفصیلات کے مطابق پاکستانی ٹی وی ڈراموں کی معروف اداکارہ اُشنا شاہ کسی تعارف کی محتاج نہیں ۔ حال ہی میں ائیرپورٹ پر ان کیساتھ ایسا شرمناک واقعہ پیش آیا ہے کہ وہ اس کا تذکرہ سوشل میڈیا پر کرنے پر مجبور ہوگئیں۔ ایک سوشل میڈیا سائٹ کیرپورٹ کے مطابق اُشنا شاہ غیر ملکی دورے پرکینیڈا، دبئی اور اٹلی کےلئے جارہی تھیںجب ان کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا۔ سوشل میڈیا سائٹ فیس بک پر واقعہ بیان کرتےہوئے اُشنا شاہ نےپاکستانی ائیرپورٹ سکیورٹی کی زنانہ اہلکاروں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”پاکستان ائیرپورٹ کی زنانہ سکیورٹی، غلط شوق رکھنے والی ہم جنس پرستو! ’بیک آف دی ہینڈ‘ جامہ تلاشی کے بارے میں کچھ سیکھ لو۔“ ان کا اشارہ جامہ تلاشی کے اس مخصوص طریقے کی جانب ہے جس کے مطابق سکیورٹی اہلکار کو چاہئیے کہ جسمانی چیکنگ کے لئے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کی بجائے اس کی پشت کو استعمال کرے۔اُشنا شاہ نے اپنی پوسٹ کے کمنٹس میں مزید کہا ”یہ مذاق کی بات نہیں ہے۔ ہر پرواز کے لئے سکیورٹی چیک کے دوران میں اپنے دانت کرچتی ہوں، اپنی سانس روک لیتی ہوں اور اپنی آنکھیں بند کرلیتی ہوں۔ یہ ایک صدمہ خیز اور خوفناک تجربہ ہوتا ہے جس سے میں تنگ آچکی ہوں اور یہ صرف پاکستان میں ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو وہ آپ کے جسم کو دباتی بھی ہیں، گویا کہہ رہی ہوں ’یہاں کچھ چھپایا ہوا ہے؟‘ ۔جامہ تلاشی کے بارے میں کچھ سیکھ لو۔“ ان کا اشارہ جامہ تلاشی کے اس مخصوص طریقے کی جانب ہے جس کے مطابق سکیورٹی اہلکار کو چاہئیے کہ جسمانی چیکنگ کے لئے اپنے ہاتھ کی ہتھیلی کی بجائے اس کی پشت کو استعمال کرے۔اُشنا شاہ نے اپنی پوسٹ کے کمنٹس میں مزید کہا”یہ مذاق کی بات نہیں ہے۔ ہر پرواز کے لئے سکیورٹی چیک کے دوران میں اپنے دانت کرچتی ہوں، اپنی سانس روک لیتی ہوں اور اپنی آنکھیں بند کرلیتی ہوں۔ یہ ایک صدمہ خیز اور خوفناک تجربہ ہوتا ہے جس سے میں تنگ آچکی ہوں اور یہ صرف پاکستان میں ہوتا ہے۔ بعض اوقات تو وہ آپ کے جسم کو دباتی بھی ہیں، گویا کہہ رہی ہوں ’یہاں کچھ چھپایا ہوا ہے؟‘

http://javedch.com/showbiz/2018/04/17/438220

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •