عمران خان کو رہا کرو

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

عمران خان کا المیہ یہ نہیں کہ وہ کرپٹ یا بد دیانت ہیں۔ ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک ہیرو ہیں۔ جب تک اس عارضے سے نجات کی کوئی صورت نہیں نکلتی ، ان کی کامیابی کا امکان بہت کم ہے۔ ہیرو کا پہلا مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ وہ عام آدمی سے دور رہتا ہے۔ سیاست دان عام آدمی سے راہ و رسم رکھتا ہے۔ دکھاوے کا سہی ، مگر اس کا عام آدمی سے ایک تعلق اور رشتہ کسی نہ کسی شکل میں بر قرار رہتا ہے۔ ہیرو مگر اس تکلف سے بے نیاز رہتا ہے۔ ہیرو لوگوں کی دسترس سے د ور ہوتا ہے۔ اس کے گھر کے طلسماتی گیٹ خلق خدا کے لیے ہمیشہ بند ہوتے ہیں۔ جب اس کا عام آدمی سے تعلق نہیں ہوتا ، جب وہ براہ راست ان کے دکھ سکھ میں شریک نہیں ہوتا تو ایک خلا پیدا ہوتا ہے۔ کچھ لوگ اس خلاء کو پر کر دیتے ہیں۔ وہ ہیرو کو گھیر لیتے ہیں۔ وہ اس کے گرد ایک حصار قائم کر لیتے ہیں۔ وہی اس کی آنکھ اور کان بن جاتے ہیں۔ وہ انہی کی آنکھ سے دیکھتا ہے اور انہی کے کان سے سنتا ہے۔ یہ اس کے حضور جس کی تعریف کر دیں وہ ہیرو کی نظر میں معتبر ہو جاتا ہے اور یہ جس کے خلاف ہو جائیں وہ ہیرو کی نظر سے بھی گر جاتا ہے۔

ہیرو کے منصب پر بیٹھا آدمی اگر مطالعے کے آزار سے بھی پاک ہو ، کان کا بھی کچا ہو اور زندگی میں کسی ایسی ریاضت سے بھی نہ گزرا ہو جو آدمی کو مردم شناسی کا فن عطا کرتی ہے تو ہیرو کا المیہ شدیدتر ہو جاتا ہے۔ کچھ ایسا ہی عمران خان کے ساتھ ہوا ہے۔ وہ اس ملک میں انقلاب لانا چاہتے ہیں مگر حقیقت یہ ہے کہ سارے ملک کے ایک چوتھائی حلقوں سے بھی کما حقہ آگہی نہیں رکھتے۔ ان کی جملہ مہارت چند حلقوں تک محدود ہے۔ وہ نہیں جانتے کس حلقے کے زمینی حقائق کیا ہیں۔ انہیں کچھ خبر نہیں کس حلقے میں کتنی برادریاں ہیں ، کن برادریوں کو ناراض نہیں کرنا چاہیے ، کن برادریوں کو کیسے راضی کیا جا سکتا ہے ، وہاں کے مسائل کیا ہیں اور تعصبات کیا ہیں۔ وہ تو شاید اپنے دیرینہ کارکنان تک سے واقف نہیں۔ ان کے دربار تک حاضری کا شرف صرف انہی کو مل سکتا ہے جن کی تجوری کا سائز خاصا بڑا ہو اور جو شوکت خانم ہسپتال کو چندے کے نام کپتان کی نظر میں سرخرو ہونے کا فن جانتے ہوں۔

ان کی خلق خدا سے بے نیازی یا بے زاری کا عالم یہ ہے کہ راولپنڈی سے وہ ایم این اے بنے اور پھر بھول کر بھی انہوں نے راولپنڈی کا رخ نہیں کیا۔ یہاں پر ان کا کوئی کیمپ آفس نہیں تھا، یہاں ان کا کوئی ایسا نمائندہ نہیں جس کے ذریعے وہ حلقے کے عوام سے اور عوام ان سے رابطے میں رہتے۔ ایک خوفناک بے گانگی نے جنم لیا۔ عمران جن لوگوں میں گھرے ہیں وہی ان کی آنکھیں اور وہی انکے کان۔ یہ آنکھیں شاید ضعف بصارت سے دوچار ہیں اور یہ کان شاید صرف کھنکتے سکوں کی آوازیں سنتے ہیں۔ قریبی حلقے میں اہل دانش تو سرے سے کوئی ہے ہی نہیں ڈھنگ کے اہل سیاست بھی کم کم ہیں۔ چنانچہ ایک تماشا سا سر بازار لگا ہے۔ جو اس حلقے کو راضی کر لے وہ مقدر کا سکندر بن جاتا ہے اور جس سے یہ حلقہ ناراض ہو جائے وہ راندہ درگاہ ہو جاتا ہے۔

یہ سطور میں سرگودھا میں بیٹھ کر لکھ رہا ہوں۔ یہاں تماشا لگا ہے۔ سچ جھوٹ کا خدا جانے، مجھے بھی یقین نہیں آیا ، مگر سینہ گزٹ شہر میں یہ ہے کہ جس نے دو کروڑ دینے سے انکار کر دیا اسے ٹکٹ نہیں ملا اور سرگودھا سے متصل ایک ضلع میں جس نے چھ کروڑ دے دیے اسے ٹکٹ دے دیا گیا۔ باوجود اس کے کہ اس کی بد ترین شکست نوشتہ دیوار ہے۔ سرگودھا میں ٹکٹ ان روایتی گھرانوں میں بانٹ دیے گئے ہیں عامر چیمہ کے علاوہ جن میں اب کوئی الیکٹیبل بھی نہیں رہا۔ دوسری طرف ممتاز کاہلوں کو ٹکٹ نہیں دیا گیا۔ ممتاز کاہلوں کی حیثیت یہ ہے کہ وہ آزاد بھی لڑیں تو امکان یہ ہے کہ جیت جائیں۔ ہر لحاظ سے وہ الیکٹیبل ہیں۔ اس قوت کا کامیاب مظاہرہ پہلے وہ کر چکے ہیں ۔ پارٹی کے دیرینہ کارکن بھی ہیں۔ اور شمالی پنجاب کے نائب صدر بھی۔ دوستوں سے میں نے پوچھا انہیں ٹکٹ کیوں نہیں ملا۔ اکثریت کا جواب تھا عامر کیانی انہیں پسند نہیں کرتے۔ سوال پھر وہی ہے، عامر کیانی کے ہوتے ہوئے کیا پارٹی کو کسی دشمن کی ضرورت ہے؟ عامر کیانی آخر چاہتے کیا ہیں؟

عامر کیانی کی اپنی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ کیانی صاحب شمالی پنجاب کے صدر ہیں مگر شمالی پنجاب میں ان کا کوئی حلقہ انتخاب نہیں۔ چنانچہ انہوں نے اسلام آباد کی نشست پر ہاتھ صاف کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس پر اسلام آباد تنظیم نے احتجاج کیا اور فیصلہ ماننے سے انکار کر دیا۔ اب انہیں پنڈی بھیجا گیا ہے اور وہاں بھی ایسا ہی احتجاج ان کا استقبال کر رہا ہے۔ جس شخص کی اپنی مقبولیت کا عالم یہ ہے کہ ڈرائنگ روم سے نکلے تو علاقہ غیر شروع ہو جائے وہ پارٹی میں فیصلہ ساز بنا پھرتا ہے۔ سرگودھا تو پھر دور ہے ۔

اسلام آباد میں عمران خا ن کے گھر سے چند قدم کے فاصلے پر الیاس مہربان جیسے مقبول آدمی کے ساتھ یہی سلوک کیا گیا۔ گذشتہ انتخابات میں الیاس مہربان نے ساٹھ ہزار ووٹ لیے۔ یہ حلقہ نصف سے زیادہ دیہی علاقوں پر مشتمل ہے۔ یہاں برادریاں ہیں جو فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہیں۔ سالوں سے یہاں الیاس مہربان نے کام کیا۔ شریف النفس انسان ہے۔ روایتی طور پر الیکٹیبل بھی ہے۔ جس بورڈ نے ٹکٹ دینے تھے اس بورڈ نے انہیں 30 میں سے 28 نمبر دیے ۔ اس کے باوجود یہاں کا ٹکٹ عامر کیانی لے اڑے۔ عمران خان کو حلقے کی تفصیل کا خود علم ہوتا تو کیا یہ ممکن تھا؟ عمران تو اس پر یقین کرتے ہیں جو انہیں بتایا جاتا ہے۔ وہ صرف ہیرو ہیں۔ لاتعلق اور بے خبر۔ حتی کہ اپنی جماعت کے معاملات سے بھی۔ نتیجہ یہ نکلا کہ اسلام آباد تنظیم نے بغاوت کر دی۔ اسد عمر کو مداخلت کرنا پڑی کہ کیانی صاحب کو ٹکٹ پر اصرار کیا گیا تو ہم ایک حلقہ ہی نہیں اسلام آباد کی تینوں نشستیں ہار سکتے ہیں کیونکہ تنظیم خفا ہوکر بکھر سکتی ہے۔ تب جا کرعامر کیانی سے ٹکٹ واپس لیا گیا۔ لیکن عمران جن لوگوں کے حصار میں ہیں انہوں نے عمران کو باور کرادیا کہ الیاس مہربان تو ہار جائے گا آپ خود یہاں سے لڑ لیں۔ چنانچہ جس نے ساٹھ ہزار ووٹ لیے اور اپنے پارلیمانی بورڈ نے جسے تیس میں سے اٹھائیس نمبر دیے اسے ٹکٹ نہیں ملا۔ کیا پارٹیاں ایسے چلتی ہیں؟ جی ہاں، رہنما اگر صرف ہیرو ہو اور عوام سے فاصلے پر رہے تو ایسے ہی ہوتا ہے۔

فیاض چوہان کے ساتھ بھی یہی ہوا۔ گذشتہ انتخابات میں اس کے خلاف اسی ٹولے نے کام دکھایا اور چودھری اصغر کو ٹکٹ دے دیا۔ اس نے ہارنا تھا ہار گیا۔ چوہان مگر پارٹی کے ساتھ کھڑا رہا۔ اس دفعہ عمران خان نے چوہان کو ٹکٹ دیاتو اسی ٹولے نے شور مچا دیا۔ عمران کے گھر جا کر احتجاج کیا اور توڑ پھوڑ بھی۔ عمران چونکہ فیاض کو جانتے ہیں اس لیے ٹکٹ واپس لینے سے انکار کر دیا۔ وہ گروپ مگر ابھی تک متحرک ہے۔ ٹکٹوں کا اب جو شور مچا ہے یہ نہ مچا ہوتا اگر عمران کو حلقوں کے بارے میں کچھ معلوم ہوتا۔ ایسا نہیں کہ انہوں نے ٹکٹوں کی تقسیم میں جان بوجھ کر بد نیتی سے کام لیا۔ ایسا بھی نہیں کہ وہ پرانے کارکنوں کو جان بوجھ کر جوتے کی نوک پر رکھے ہوئے ہیں ۔

ان کا مسئلہ یہ ہے کہ وہ ایک ہیرو ہیں۔ انہیں معلوم ہی نہیں کس حلقے میں کون کیا ہے؟ نواز شریف اور شہباز شریف کا عالم یہ ہے کہ وہ حلقوں کی سیاست کو ہاتھوں کی لکیروں کی طرح جانتے ہیں۔ عمران کے ہاں ایسا کوئی انتظام نہیں۔ کیونکہ وہ صرف ایک ہیرو ہیں۔ بے نیاز اور لاتعلق۔ ہیرو ایسا ہی ہوتا ہے۔ برسوں چاہے جانے اور ٹوٹ کر چاہے جانے کے بعد ہیرو کو نرگسیت کا عارضہ لاحق ہو جاتا ہے۔ سیاست دان گاہے لوگوں کی دلجوئی بھی کرلیتا ہے۔ ہیرو اس سے بھی بے نیاز ہوتا ہے۔ تالیف قلب کی نزاکتوں سے بے بہرہ اس کا ایک ہی مطالبہ ہوتا ہے کہ اسے چاہا جائے اوراس سے پیار کیا جائے مگر جواب میں وہ کسی کو چاہنے اور کسی کو عزت دینے کا تکلف نہیں کرتا۔ تحریک انصاف میں یہی ہو رہا ہے۔ حیرت سے آدمی سوچتا ہے تحریک انصاف ابھی تک عمران خان کی جماعت ہے یا اسے عامر کیانی کے ہاں رہن رکھ دیا گیا ہے؟ چودھری فضل الٰہی کے زمانے میں ایوان صدر کی دیوار پر کسی نے لکھ دیا تھا صدر پاکستان کو رہا کرو۔ کیا عجب کل کوئی بنی گالہ کی دیوار پر لکھ دے : عمران خان کو رہا کرو۔

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •