بریکنگ نیوز یا بریکنگ سماج

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

پاکستانی سماج کی گزشتہ کئی برسوں سے ایک شکل میڈیا پرجاری بریکنگ نیوز کلچر ہے۔ ہو یہ رہا ہے کہ ہر نئی خبر بریکنگ ہے۔ ٹی وی پر لال رنگ کی یلغار اور شور، شور اور شور! خبر کیا آئی۔ آسمان زمین پر گر گیا۔ دنیا ختم ہونے کو آگئی مگر یہ سب کچھ اگلی بریکنگ نیوز تک۔ نئی بریکنگ نیوز کا مطلب ہے پرانا آسمان زمین سے واپس اور ایک نیا آسمان گر گیا۔ جس سے پاکستان یا ہماری دینا کسی بھی وقت ایک بار پھرختم ہو سکتی ہے۔

میڈیا کے پیداکردہ اس رویے، کلچر، اور طرزصحافت کو پاکستان کی اجتماعی فکر اور طرز زندگی سے آسانی سے الگ نہیں کیا جا سکتا۔ یہ طرز صحافت قوم کو کس نفسیات اور فکر کی طرف لے کر جارہی ہے؟ ہم زندگی، مسائل، ترقی، خوشحالی، جمہوریت، انتخابات، سیاست، معاشرت کو کتنا سنجیدہ لے رہے ہیں؟ اورکیا میڈیا معلومات اور تجزیہ نگاری جمہوری سوچ اور معاشرتی ترقی کے لیے کر رہا ہے؟ یا یہ سب اشتہارت کے لیے لگی دوڑ ہے؟ اور کیا ہمارا ریاستی و سیاسی نظام بھی اس کا عادی بن گیا ہے؟ ان سوالوں کے جواب ہمیں تلاش کرنے ہیں۔

بریکنگ نیو ز کے اس کلچر سے کیا ہورہا ہے۔ نئے سال 2018 کا آغاز امریکی صدر ٹرمپ کی پاکستان دشمن ٹویٹ سے ہوا۔ میڈیا شروع ہو گیا کہ امریکہ پاکستان کے خلاف ہو گیا ہے۔ پاکستان پر حملہ ہو سکتا ہے۔ پاکستان کے لیے نہایت سنگین حالات پیدا ہوگئے ہیں۔ امریکہ بھارت اسرائیل نے پاکستا ن کے خلاف گٹھ جو ڑ کر لیا ہے۔ یہاں تک کہ کچھ ٹاک شوز میں پاکستان افواج اور امریکی افواج کی جنگی صلاحیتوں کا موازنہ بھی شروع ہو گیا۔ پوری قوم پاک امریکہ تعلقات کی فکر میں تھی کہ عمران خان کی پنکی پیرنی سے خفیہ شادی کی بڑی خبر سامنے آگئی۔ یہ اتنا بڑا مسئلہ بن گیا کہ پورا پاکستان امریکی صدر کی دھمکیوں کو بھول گیا اور ایسا لگا جیسے اس شادی سے پاک امریکہ تعلقات مکمل طور پر بحال ہو چکے ہیں۔ یو ں عمران خان کی شادی نے امریکی دھمکی خود بخود مکمل طور پر ختم کر دی۔

بعد میں عمران خان نے شادی کا خود ہی اعلان کر دیا ہے لیکن اس کے بعد ایک نیا سوال پیدا ہو گیا کہ عمران خان کی شادی ذاتی مسئلہ ہے یا عوامی؟ پھر بحث شروع ہو گئی کہ کیا عدت کی دوران شادی ہوسکتی ہے؟ اور پھر نیوز تھی کہ عد ت میں نکاح کر نا حلال یا حرام۔ عمران خان کی خفیہ شادی کی اس بریکنگ میں قصور میں معصوم زینب سے زیادتی اور قتل کا واقعہ سامنے آگیا۔ ساری قوم اس غم میں ڈوب گئی اورعمران کی جان چھوڑ گئی۔ یہا ں یہ امر قابل ذکر ہے کہ یہ پہلا ایسا واقعہ نہیں ہے گزشتہ تین برسوں میں صرف قصور میں 700 بچوں سے زیادتی کے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ 2015 سب سے برا سال تھا جس میں 451 بچوں سے زیادتی کے واقعات ریکارڈ ہوئے اس حوالے سے نہ تو کوئی بریکنگ سامنے آئی جبکہ مقدمات بھی بہت کم درج ہوئے۔

قصور میں بدنام زمانہ عریاں فلموں کے کیس کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔ کیس کے چارملزمان کو شک کا فائدہ ملنے پر ضما نت مل چکی ہے۔ زینب کیس بڑی خبر بن گیا لہذا ساری ریاست سامنے آگئی۔ حکمران، سیاست دان، آرمی چیف اور چیف جسٹس سپریم کورٹ تک کے بیا نا ت آگئے اور سب نے واقعہ کو شرمناک اور تکلیف دہ قرار دیا۔ زینب واقعہ نے ملک بھر کو غم کی نذر کر دیا کمال کی بات یہ ہے کہ ایک ایس ایچ او کا کام تما م ریاستی اداروں نے مل کر کیا اور بڑی محنت سے مجرم عمران گرفتار ہوا۔ اس کو سزائے موت دی گئی جس کے خلاف مجرم نے اپیل کر رکھی ہے۔

زینب کے سانحہ کے دوران اپوزیشن نے ملک میں انقلاب لانے کے لیے لاہور میں جلسہ کا اعلان کر دیا۔ ملکی تاریخ میں پہلی دفعہ عمران خان اور آصف علی زرداری نے ایک سٹیج پر خطاب کیا۔ کہا گیا تھا کہ یہ جلسہ تاریخی ہو گا اور پاکستان میں حکومت کے لیے سیاہ رات بنے گا۔ جلسہ ہو گیا۔ ہو ا کچھ نہیں مگر مولانا طاہر القادری ایک مرتبہ پاکستان چھوڑ کراپنے گھرکینیڈا چلے گئے۔ میڈیاپر شور تھا کہ جلسہ آخری دھکا ہو گا مگر اگلے روز عمران خان اور شیخ رشید کی جانب سے پارلیمنٹ پر لعنت بھیجنے کی ”نئی خبر“ بن گئی جس نے پورے پاکستان کو زینب کے واقعہ سے دور کر دیا۔ زینب کی خبر اورمو ضوع ختم ہو گیا ہے اسی لئے کسی حکومتی فرد، سیاست دان یا ریاستی ادارے نے ایسا اقدام نہیں اٹھایا جس سے اس طرح کے واقعات کے اسبا ب کا پتہ چلایاجاسکے تاکہ ان کی موثر روک تھا م کی جاسکے۔

اسی دوران کر اچی کے علاقے شاہ لطیف ٹاؤن میں جعلی پولیس مقابلے میں وزیرستان کے رہائشی نقیب اللہ کا قتل ہو گیا اس قتل کا الزام پولیس آفیسر راؤ انوار پر عائد ہو ا اور تفتیش میں وہ مجر م بھی ثابت ہوگیا۔ پورے ملک میں ایک نئی بریکنگ آگئی۔ پاکستان زینب کے بعد اپوزیشن بھی بھول گیا۔

پتہ چلا راؤ انور جعلی پولیس مقابلوں کا ماہر بھی ہے۔ 400 سے زائد افرا د کو پولیس مقابلوں میں مار چکا ہے۔ پورا پاکستان راؤ انور کی خبر کی زد میں رہا۔ حل یہ ہو ا30کے قریب خفیہ ایجنسیوں کی ریاست پاکستان اس مفرور کی تلا ش میں رہے، مگر سب ناکام اور ایک دن وہ وٹس ایپ کے سہارے سپریم کو رٹ پہنچ گیا جہاں سے جہاز کے ذریعے کر اچی جیل روانہ ہو گیا۔ اس بریکنگ کا انجام کیا ہوا؟ کسی کے پاس اس کا جواب نہیں۔

اس واقعہ کے بعد ایک ماہ کے قلیل عرصے میں پنجاب یونیورسٹی میں طلبہ کے درمیان لڑائی فساد، کنٹرول لائن پربھارت کی بلا اشتعال گولہ باری، سینٹ کے انتخابات میں سودے بازی، ہارس ٹریڈنگ، طلال، نہال، دانیال، مریم نواز اور نواز شریف کی طرف سے توہین عدالت کے بیانات اور مقامات، ٹی وی اینکر شاہد مسعود کے الزامات، عدت کے دوران عمران خان کا نکاح، خیبر پختونخواہ کے 17 پی ٹی آئی ایم پی ایز نے سینٹ ووٹ فروخت کیے، چیئرمین سینٹ پیپلزپارٹی بنوانے کا ٹاسک زرداری نے خود سنبھال لیا، چیئرمین سینٹ کے انتخابات کا جوڑ توڑ عروج پر، احد چیمہ کار ریمانڈ، کون بنے گا چیئرمین سینٹ جیسی بریکنگ نیوز نے پاکستانی سماج کو اپنی قید میں رکھا۔

مارچ کے شروع میں پٹرولیم قیمتوں سے مہنگائی بڑھ گئی، اقوام کے نو مولود بچوں کی شرح اموات کے حوالے سے دنیا کا سب سے خطرناک ملک قرار، یہا ں پر ہر 22 میں سے ایک بچہ اپنی زندگی کا پہلا مہینہ مکمل نہیں کرتا۔ بیرون ممالک میں پاکستانی افراد ی قوت کی برآمد میں 40 فی صد کمی، بجٹ خسارہ کی وجہ سے 200 ارب روپے کے ترقیاتی اخراجا ت ختم کر نے کا فیصلہ، پنجاب میں آئندہ مالی سال کے لیے کم سے کم منصوبے رکھنے کا فیصلہ، اور بینک کے ذریعے بجلی کے صارفین سے 30ارب ورپے وصولی کا انکشا ف، نو اب شاہ میں تین بچے خسرے کے حفاظتی ٹیکے سے جان بحق، 20کلو گرام آٹے کی قیمت میں 20روپے اضافہ کا اعلان اور لاہور میں 41غیر قانونی واٹر پلانٹس کی نشاندہی جیسی سینکڑوں عوام دشمن چیزیں شامل ہیں۔ ان میں سے کسی بھی خبر کو میڈیا نے بڑی بریکنگ نیو زنہیں بنایا اورعوام، حکومت، ریاست اور سرکاری اداروں کے لیے اہمیت حاصل نہیں کر سکی۔

31 مئی کو حکومت کے خاتمہ کے بریکنگ نیو ز آگئی۔ یکم جو ن سے 25 جولائی نگران حکومت ہے اور اس میں انتخابات کی تیاری ہے۔ ابھی تک منصفانہ انتخابات، پارٹی پروگرام، ماضی کی کار کر دگی پاکستان کے داخلی، خارجی، معاشی سماجی مسائل اور ان کے حل کے حوالے سے میڈیا اورمعاشرہ خاموش ہے۔ یکم جون سے نگران وزیر اعلیٰ پنجاب آصف کھوسہ کی نامزدگی اور فاروق بندیال کا پی ٹی آئی میں آنے اور واپسی کا یو ٹرن، ریحام خان کی کتاب، نواز شریف، مریم نواز کی لندن جانے کی اجازت، بیگم نواز شریف کی صحت، اور عمران خان کے نجی طیارے میں ننگے پاؤں عمرہ تک محدود کرلیا ہے۔ عید گزر گئی ہے۔ الیکشن میں مشکل سے ایک ماہ باقی ہے۔ عوام کے لیے، پاکستان کے لیے آئندہ الیکشن میں کیا ہونا چاہیے، ہر جگہ خاموشی ہے۔

پاکستان کا شماربریکنگ نیوز کی بارش والے ممالک میں کیا جاسکتا ہے یہاں عوام کے مستقل مسائل ان کے اسباب اور حل کے لیے کسی کے پاس پالیسی، پلان یا وقت نہیں ہے۔ معاشرہ ہر وقت کسی نہ کسی بڑی خبر کا شکار رہتا ہے۔

پاکستانی ریاستی ڈھانچہ کے زوال نے معاشرے کو بریکنگ نیوز سماج بنا دیا ہے۔ معاشرے، ریاست، حکومت کی کوئی سمت دکھائی نہیں دیتی۔ بڑی خبر آتی ہے، چاروں اطراف شور ہی شور اور یہ شور اگلی آنے والی بڑی خبر تک رہتا ہے۔ حکومت، ریاستی ادارے اور عوام اس بریکنگ نیوز کلچر کے عادی ہوتے جارہے ہیں۔ ایک مسئلہ پورے ملک پر راج کرتاہے۔ بیانات، شکائتیں، الزامات، تردید، اچھی حکمرانی کے دعوے اور وعدے شروع ہوجاتے ہیں مگر جونہی دوسری بریکنگ نیوز آتی ہے، پہلے والی خودبخود ختم ہوجاتی ہے۔ ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ایک بڑی تازہ خبر کے دوسری تازہ خبر کے درمیان ہم سفر کررہے ہیں۔ وہیں کے وہیں کھڑے ہیں، جا کہیں نہیں رہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •