کپتان کا سفر بنی گالہ سے گوجر خان تک

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رفاہِ عامہ سے عمران خان نے اقتدار کی سیاست میں قدم رکھا۔ یہ مر حلہ، ان کے داخلی اضطراب میں کمی کے بجائے اضافے کا سبب بنا۔عمران خان جب شوکت خانم ہسپتال کے لیے وسائل جمع کر رہے تھے تو ان کی ایک ٹیم وجود میں آئی۔ اس میں بعض لوگ وہ بھی تھے جو اسلامی جمعیت طلبہ اور پاسبان کا فکری پس منظر رکھتے تھے۔ ان کے خیال میں بھی تبدیلی کے لیے صالح قیادت کا کردار بنیادی ہے اور اصلاح کا راستہ اقتدار کے ایوانوں سے نکلتا ہے۔

عمران خان کی غیر معمولی پزیرائی سے اُن میں بھی یہ سوچ پیدا ہوئی کہ عمران خان کی مقبولیت سیاسی تبدیلی کا سبب بن سکتی ہے۔ عمران کے عم زاد اور اوّلین سیاسی رفیق حفیظ اللہ نیازی کا اسلامی جمعیت طلبہ سے گہرا تعلق رہا۔ عمران خان پر اُن کا اثر تھا۔

عمران جب سیاست میں سنجیدہ ہوئے تو ایک فطری عمل کے تحت وہ لوگ ان کے قریب آنے لگے جو سیاست میں کسی جوہری تبدیلی کے متمنی تھے اور اخلاص سے یہ سمجھتے تھے کہ عمران خان کی قیادت میں ایک مثبت تبدیلی آ سکتی ہے۔ دوسری طرف عمران خان نے بھی سیاست اور مذہب کو سنجیدگی کے ساتھ سمجھنا چاہا۔ سیاست سے دلچسپی نے انہیں جنرل حمید گل مرحوم اور مذہب کے بارے میں جاننے کی خواہش نے انہیں جاوید احمد غامدی صاحب کے قریب کیا۔

گے ایٹن کے مطالعے نے غالباً انہیں یہاں تک پہنچایا۔ دونوں نے اپنے اپنے دائروں میں، ان کے لیے پوری خیر خواہی کے ساتھ دستِ تعاون دراز کیا۔ تحریکِ انصاف کے پہلے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فاروق خان شہید، عمران خان کے لیے غامدی صاحب ہی کا تحفہ تھے۔ ابتدائی مرحلے میں انہیں مجیب الرحمٰن شامی صاحب جیسے اہلِ دانش کی سرپرستی بھی میسر رہی۔

بہت جلد جنرل حمیدگل صاحب کے ساتھ عمران خان کا تعلق سرد مہری کا شکار ہو گیا۔ میں اس کے اسباب جانتا ہوں مگر ان کے بیان کا یہ محل نہیں۔ ایک وقت گزرا اور ڈاکٹر فاروق خان بھی الگ ہوئے۔ یہی نہیں، اور بہت سے لوگ بھی قدم چھوڑنے لگے اور اس دوران میں ایک دوسرا حلقہ ان کی جگہ لینے لگا۔

ان میں موقع پرست زیادہ تھے اور مخلصین کم۔ اسی طرح نظریاتی یکسوئی بھی باقی نہ رہی۔ 2011ء میں یہ دور اپنے اختتام کو پہنچا‘ جب وہ مثالی سیاست کے علم بردار تھے۔ اس کے بعد وہ ریاستی اداروں اور موقع پرستوں کی گرفت میں چلے گئے۔

2002ء کے انتخابات ہوئے تو تحریکِ انصاف کے سیکرٹری جنرل معراج محمد خان تھے۔ عمران خان نے میاں والی سے انتخابات میں حصہ لیا اور کامیاب رہے۔ مجھے ایک ہفتہ ان کے ساتھ ان کے حلقے میں گزارنے کا موقع ملا۔ معراج محمد خان، حفیظ اللہ نیازی، منصور صدیقی اور میں ان کے ہم سفر ہوتے۔

سفر کے دوران میں حفیظ اللہ اور معراج محمد خان کے مابین نظریاتی نوک جھوک جاری رہتی۔ معراج محمد خان تا دمِ مرگ سرخ انقلاب کا خواب دیکھتے رہے اور حفیظ اللہ تادمِ ایں اسلامی انقلاب کا خواب دیکھتے ہیں۔ تحریک انصاف کا یہ فکری ملغوبہ میرے لیے نا قابلِ فہم تھا۔ یہ سیاست تو تھی مگر کسی واضح منزل کے بغیر۔

اس سارے عرصے میں، میرا احساس ہے کہ عمران خان کی زندگی دو خانوں میں بٹی رہی۔ ایک وہ جو ان کے ماضی کا تسلسل تھا۔ دوسرا سیاسی خواب اور ان کی تعبیر کا خانہ۔ انہوں نے شادی کی لیکن اس کے باوجود ان کی زندگی اسی طرح منقسم رہی۔

جمائمہ بھی زیادہ دیر اس تقسیم کی متحمل نہ ہو سکیں اور وقار کے ساتھ الگ ہو گئیں۔ اس سارے عرصے میں ان کی زندگی کا ایک حصہ وہ تھا جو سیاسی رفقا کے ساتھ بسر ہوتا۔ دوسرا وہ جس میں صرف راشد خان اور یوسف صلاح الدین جیسے دوستوں کا گزر تھا۔ اس فہرست میں عون چوہدری اور زلفی بخاری کو بھی شامل کر لیں۔ معلوم ہوتا ہے کہ عمران کا داخلی اضطراب نہ صرف برقرار تھا بلکہ روز افزوں تھا۔ اس کا اظہار ان کے سیاسی رویے سے ہو رہا تھا جو سر تا پا ہیجان اور جنون سے عبارت تھا۔

نفسیاتی بے کلی کی اس کیفیت میں، عام طور پر انسان چار میں سے ایک راستہ اختیار کرتا ہے۔ ایک دنیا سے مکمل لا تعلقی جیسے رہبانیت۔ دوسرا نشہ‘ جس کے لوازم میں بعض دیگر نفسانی مطالبات شامل ہیں، جو اسے کچھ دیر ہی کے لیے سہی، بے خود رکھتے ہیں۔ تیسرا یہ کہ وہ نفسیاتی مریض بن جائے۔ چوتھا یہ کہ وہ کوئی متبادل سرگرمی تلاش کر لے جیسے کسی تبلیغی جماعت میں شمولیت، حلیے میں تبدیلی یا پھر فلاہی کام۔ مجھے چاروں راستوں پر عمران خان کے نقوشِ پا دکھائی دیتے ہیں۔

آج عمران خان کی پہلی ترجیح سیاست ہے۔ اقتدار کی سیاست کے اپنے مطالبات ہیں۔ میرا تاثر ہے کہ اقتدار اس کا حاصل ہو نہ ہو، اخلاق کی بربادی بہرحال یقینی ہے۔ اگر کوئی آدمی داخلی کشمکش سے نکلنے میں سنجیدہ ہے اور وہ اقتدار کی سیاست کا رخ کر لیتا ہے تو میرے نزدیک وہ اصلاح کے باقی ماندہ امکانات کو بھی برباد کر دیتا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ عمران خان اب اس حادثے گزر رہے ہیں۔

سیاست کل وقتی کام ہے۔ یہ انسان سے پورا آدمی مانگتی ہے۔ عمران خان نے جیسے جیسے اس عمل میں پیش قدمی کی، وہ اس کے رنگ میں رنگے چلے گئے۔ وقت نے انہیں اس نتیجے تک پہنچا دیا کہ یہ امکانات کا کھیل ہے اور زمینی حقائق سے متصادم ہو کر اقتدار کی سیاست میں کامیابی نہیں مل سکتی۔ زمینی حقائق میں تبدیلی سماجی تبدیلی سے آتی ہے۔

لوگ اس صبر آزما راستے پر چلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے۔ زمینی حقائق سے ہم آہنگی کا ایک نتیجہ اخلاق اور اصول کی قربانی ہے۔ عمران خان اس پر آمادہ ہو گئے۔ ریاستی اداروں کے ساتھ معاملات سے لے کر ان افراد کو پارٹی ٹکٹ دینے تک، جن کی بد عنوانی کے بارے میں انہیں کوئی شک نہیں، چند ایسے شواہد ہیں جن سے یہ بات پوری طرح ثابت ہو جاتی ہے۔ رفاہِ عامہ کے کام میں کسی حد تک اخلاقی تسکین کا سامان تھا لیکن سیاست میں تو یہ امکان بھی ختم ہو گیا۔

ان کی نفسیاتی تشکیل میں یہ بات بھی اہم ہے کہ انہوں نے زیادہ تر تنہا زندگی گزاری۔ وہ انسانی رشتوں کے ذائقے سے پوری طرح آشنا نہ ہو سکے۔ مامتا کا رشتہ بھی، اپنی وسعت کے ساتھ، ماں کی وفات کے بعد ہی ان پر منکشف ہوا۔ آج بھی وہ اپنے رشتوں سے لا تعلق ہیں۔

ان کے سگے اور جواں ساز چچا زاد بھائی کا انتقال ہو گیا اور وہ سالگرہ کا کیک کاٹتے رہ گئے۔ وہ اس کے جنازے میں بھی شریک نہیں ہوئے۔ ناراضی یقیناً تھی‘ مگر یہ مواقع ایسے ہوتے ہیں جب ہر شکایت ایک طرف رکھ دی جاتی ہے۔ ان کی پارٹی کے پہلے سیکرٹری جنرل ڈاکٹر فاروق خان بہیمانہ طریقے سے شدت پسندوں کے ہاتھوں قتل ہو گئے اور وہ تعزیت کے لیے مردان نہ جا سکے۔ انسانی جذبات سے یہ بے نیازی نفسیاتی عدم توازن کی علامت ہے۔

عمران نے زیادہ وقت انگلستان میں گزارا۔ یہ معاشرہ رشتوں کے بارے میں زیادہ حساس نہیں ہے۔ یوں رشتوں کے باب میں ان پر خارج سے بھی کوئی دباؤ نہیں تھا جو آدمی کو سماجی تعلقات کی گرفت میں رکھتا ہے۔ تنہا زندگی اگر ویسی ہو جیسی عمران کی تھی تو اس میں عملاً رشتوں کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔ چاہنے والوں کا ہجوم ہر وقت آپ کو گھیرے رکھتا ہے اور آپ رشتوں سے بے نیاز ہو جاتے ہیں۔

اگر آپ فطرتاً خود پسند ہیں تو پھر یہ ماحول آپ کو نرگسیت کا مریض بنا دیتا ہے۔ آپ اس احساس میں جیتے ہیں کہ لوگ آپ سے محبت کرنے کے پابند ہیں، آپ کسی سے محبت کے پابند نہیں۔ یہی عمران خان کے ساتھ بھی ہوا۔ وہ کسی کے ساتھ تا دیر رشتہ استوار نہ کر سکے۔

جب اقتدار کی سیاست ان کی پہلی ترجیح بنی تو اس کے بعد بھی، کچھ نظائر بتاتے ہیں کہ وہ داخلی کشمکش سے پوری طرح غافل نہیں رہے۔ یہی کشمکش انہیں پروفیسر رفیق اختر صاحب کے پاس لے گئی اور پھر پاک پتن۔ پاک پتن میں نفسیات اور سیاست کے مطالبات یکجا دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں کیا ہوا، یہ بتانے کے لیے مجھے خلافِ توقع و ارادہ تیسری قسط لکھنا پڑے گی۔

بشکریہ دنیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •