پنجاب کے الیکٹ ایبلز کیا بلا ہیں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

جمہوریت سے مراد عوام کی حکومت، عوام کے لیے اور عوام سے۔ کہا جاتا ہے مگر ہمارے ہاں یہ ”وکھری‘‘ قسم کی ہے۔ سارا زور 140الیکٹ ایبلز پر ہے جو جس کے ساتھ ہوں گے، وہی سکندر بنے گا۔ الیکشن میں چند روز باقی ہیں مگر ملکی معیشت، خارجہ پالیسی، اندرونی خطرات، بے تحاشہ آبادی، بیروزگاری، انتہا پسندی، دہشت گردی، سماجی ثقافتی گھٹن، معاشرتی تناؤ جیسے مسائل پر تقریباً تمام سیاسی جماعتیں، سیاست دان اور میڈیا خاموش ہیں۔ سارا زور اس امر پر ہے کہ الیکٹ ایبلز کس کے سا تھ ہیں۔

یہ کون لوگ ہیں؟ یہ برائے فروخت طاقت ور لوگ ہیں جنہیں صدیوں سے اپنے سے زیادہ طاقت ور کا ساتھ دے کر اپنے علاقے کے عام لوگوں کو کنٹرول کرنا آتا ہے۔ ا ن لوگوں نے مغل دور میں دہلی آگرہ کا ساتھ دے کر، اپنے علاقوں میں حکومت کی۔ اس کے بعد انگریز کے وفادار بن گئے اور جب پاکستان ان کی مرضی کے خلاف بن گیا تو فوجی آمر یا سیاسی حکمران کا ساتھ دینا شروع کردیا۔

صدیوں سے ان کا کام یہ ہے کہ پہلے دیکھو اور سمجھو کہ اقتدار کس کے پاس آئے گا۔ اُس کا ساتھ دو اور اس کے صلے میں اپنے علاقے پر قابض ہوجاؤں۔ آج الیکٹ ایبلز کو اسلام آباد یا صوبے کی حکومت سے زیادہ اپنے علاقے کی پولیس اور پٹواری کو کنٹرول کرنے میں دلچسپی ہے۔ وہ اسلام آباد میں صرف اسی کے ساتھ ہوگا جو اس کے علاقے کا ایس ایچ او اور پٹواری اس کے حوالے کردے۔

وسطی ایشیا/افغانستان سے آنے والے دہلی/آگرہ کے سلاطین نے سب سے پہلے الیکٹ ایبلز کو تلاش کیا۔ مغل بادشاہ کو جب یہ یقین ہوجاتا ہے کہ فلاں علاقے کا سب سے طاقت ور فرد ان کی چھتری تلے آنے کو تیار ہے تو وہ اس کے بدلے اسے انعام دیتے۔ پانچ ہزاری یا دس ہزاری اس کے ساتھ شاہی خلعت فاخرہ (فخر کا لباس) عطا کردیا جاتا۔ یوں جتنے ہزاری حلقے وہی اُس کا حلقہ بن جاتا ہے اور وہ اپنے زمانہ کا ایم این اے اس کے بدلے میں بادشاہ کو کیا دینا ہوتا تھا۔ شاہی فوج کے لیے سپاہی، گھوڑے اور اسلحہ اور بادشاہ کی جنگ کی صورت میں فوجی مدد۔

یہ شاہی الیکٹ ایبلز پنجاب، سندھ، سمیت پورے ہندوستان میں تھے۔ ان میں کئی نے پہلے مغلوں کے مقابلوں میں لودھی خاندان کا ساتھ اور کئی ہزاروں مرہٹوں سے بھی مل گئے۔ مگر مغلوں نے جب سب کو شکست دی اور ہندوستان پر مکمل کنٹرول کرلیا اور ان الیکٹ ایبلز کی اکثریت مغل (پارٹی) میں شامل ہوگئی۔

پنجاب میں الیکٹیبلز کا کھیل بہت پرانا ہے اتنا ہی پرانا جتنی پرانی پنجاب اسمبلی ہے۔ یونینسٹ پارٹی بلا لحاظ پنجابی جاگیرداروں کی پارٹی تھی جنھیں ہم آج الیکٹیبلز کہتے ہیں۔ 1937میں پہلی دفعہ پنجاب اسمبلی کے الکیشن ہوئے تھے۔ یونینسٹ پارٹی نے ان الیکشنز میں بھرپور کامیابی حاصل کی تھی۔ جناح کی قیادت میں مسلم لیگ کو پورے پنجاب سے صرف نشستیں پنجاب اسمبلی کی ملی تھیں ایک جہلم راجہ غضنفر علی خاں اور دوسری لاہور سے ملک بر کت علی ایڈووکیٹ۔ راجہ صاحب جیت کے اگلے دن یونینسٹ پارٹی میں چلے گئے تاہم ملک برکت علی تادم آخر مسلم لیگ سے وابستہ رہے تھے۔ یونینسٹ پارٹی کی جیت الیکٹیبلز کی مرحوں منت تھی۔ جناح کو جلد ہی احساس ہوگیا کہ مسلم لیگ کو اگر پنجاب میں سیاست کرنا ہے تو اسے الکیٹیبلز سے ہاتھ ملانا پڑے گا چنانچہ انھوں نے پنجاب مسلم لیگ جس کے صدر علامہ سر محمد اقبال تھے کی شدید مخالفت کے باوجود پنجاب کے وزیر اعظم سر سکندر جناح سے معاہدہ کر لیا جسے جناح سکندر پیکٹ کے نام جانا جاتا ہے۔

سر سکندر کی وفات کے بعد ملک خضر حیات ٹوانہ پنجاب کے وزیر اعظم بنے انھوں نے جناح سکندر معاہدہ کو طاق میں رکھ دیا لیکن 1946 کے ہونے صوبائی اسمبلی کے الکیشن میں ملک خضر حیات ٹوانہ کے پاوں تلے سے زمین سرک گئی اور ان کی پارٹی کے مسلمان الکیٹیبلز جناح مسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔ جنھیں ہم دولتانے، لغاری، مزاری اور ملک کہتے ہیں۔ یہ الیکٹیبلز ہی تھے جنھوں جناح مسلم لیگ کو پنجاب میں دسمبر 1946 کا الیکشن بھاری اکثریت سے جتوایا تھا اور پھر اسی الیکشن کی بنیاد پر تشکیل پانے والی پنجاب اسمبلی کی اکثریت نے پنجاب کو پاکستان میں شامل ہونے کی قرارداد منطور کی تھی۔

تقسیم کے بعد پنجاب کا پہلا وزیر اعلی نواب افتخار حسین ممدوٹ پشتی جاگیردار تھا اور اس کا مخالف ممتازاحمد خان دولتانہ بھی جاگیردار۔ دونوں کی چپقللش میں دولتانہ کو وزیر اعظم پاکستان لیاقت علی خان کی تائید حاصل تھی جو یوپی کا جاگیردار تھا اور وہ اپنے صوبہ یوپی سے الیکشن نہیں جیت سکتا تھا لہذا اس نے الیکشن مشرقی بنگال سے لڑا اور کامیابی حاصل کی تھی۔ پنجاب کا تیسرا وزیر اعلی عبدالحمید دستی بھی جنوبی پنجاب کا جاگیردار تھا۔ مغربی پاکستان کے وزیر اعلی حسن محمود کا تعلق بھی جنوبی پنجاب سے تھا اور وہ بھی الکیٹیبل تھا اور اب اس کا بیٹا سابق گورنر پنجاب اور احمد محمود بھی جو پیپلزپارٹی سے وابستہ ہے الیکٹیبلز ہی ہے۔ جہانگیر ترین اس کا بہنوئی ہے۔

جنرل ایوب خان نے کنونشن لیگ میں چن چن کر الیکٹیبلز کا جمع کیا تھا پھر جب بھٹو نے پیپلز پارٹی بنائی تو ساری کی ساری لیگ چند مستثیات کو چھوڑ کر پیپلز پارٹی میں شامل ہوگئی تھی کیونکہ ان الیکٹیبلز کو یقین ہوگیا تھا کہ جیت اب پیپلز پارٹی کی ہوگی۔

1970ء تک یہ الیکٹ ایبلز مسلم لیگ اور جنرل ایوب کی گود میں رہے مگر جب انہوں نے 1970ء کے عام انتخابات میں پہلی مرتبہ عام آدمی کو کامیاب ہوتے دیکھا تو مسئلہ بن گیا۔ بھٹو کی پیپلزپارٹی نے ماضی کے برعکس 1970ء کے انتخابات میں عام آدمی کو کامیاب کروایا۔ مولانا کوثر نیازی جن کا تعلق میانوالی سے تھا پسرور سے پی پی پی کی ٹکٹ پر جیل سے الیکشن لڑے اور انتخابی مہم کے بغیر ایم این اے کامیاب ہوئے جس پر کہا گیا کہ بھٹو کھمبا بھی کھڑا کرے گا تو الیکٹ ایبلز کے مقابلے میں کامیاب ہوگا۔ مگر اس کے باوجود دہلی کے بادشاہوں، مغلوں، انگریزوں، مسلم لیگ اور جنرل ایوب نے ان الیکٹ ایبلز نے شکست تسلیم نہ کی۔ اور دوسری طرف بھٹو بھی اپنے نام نہاد مشن کو بھول گیا۔ 1970ء میں ملتان کے جاگیردار صادق قریشی نے بھٹو پر قاتلانہ حملہ کروایا تھا مگر بعد میں وہ پی پی پی پنجاب حکومت کا وزیراعلیٰ بنا۔ 1977ء کے عام انتخابات میں بھٹو نے عام کارکن کی بجائے الیکٹ ایبلز کی طرف واپسی کی۔

بھٹو الیکٹ ایبلز کے ساتھ ایک دفعہ پھرکامیاب ہوا مگر جنرل ضیاء الحق کی مارشل لاء کے سامنے یہ الیکٹ ایبلز کھڑے نہ ہوئے یہاں تک کہ بھٹو کو پھانسی ہوگئی۔ دہلی کے بادشاہوں، مغلوں، انگریزوں، مسلم لیگ، جنرل ایوب کے ان صوبوں پر پٹھو الیکٹ ایبلز کو نئی زندگی جنرل ضیاء الحق کے 1985ء کے غیر جماعتی انتخابات سے ملی جوکہ الیکٹ ایبلز کے لیے تاریخی عروج ثابت ہوا یہاں سے آج تک پاکستانی سیاست نظریات، ملکی مسائل کے حل، قیادت، وژن اور تنظیم سازی سے مکمل طور پر نکل کر ان کے ہاتھ آگئی۔ تب سے یہی مسلم لیگ ن، مسلم لیگ ق، پیپلزپارٹی اور تحریک انصاف میں ماضی میں ان سے نفرت کا اظہار کرنے والا عمران خان آج انہیں کو شامل کرکے اپنی فتح کو یقینی قرار دے رہا ہے۔

الیکشن2018ء میں قومی مسائل کا ابھی تک ذکر خاص نہیں۔ کوئی بات نہیں کررہے کہ پاکستان کے مسائل کیا ہیں اوران کا حل۔ معاشی تناؤ حد سے زیادہ ہے۔ کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ گزشتہ سال کے 11 ارب ڈالر سے بڑھ کر 16 ارب ڈالر ہوگیا ہے۔ 4ارب ڈالر کہاں سے آئیں گے؟ غیرملکی زرمبادلہ کے ذخائر 10.26 ارب ڈالر رہ گئے ہیں جو دو ماہ کے درآمدات کے لیے کافی ہیں۔ روپے کی قدر (104) سے کم ہوتے ہوئے 126 ڈالر کے برابر ہوگئی ہے۔ درآمدات 55ارب ڈالر کو چھو رہی ہیڈں جوکہ 21ارب ڈالر کی برآمدات اور بیرون ممالک سے آنے والی پاکستانیوں کی کمائی 18 ارب ڈالر کو ملا کر بھی پورا نہیں ہوتا۔

گرے لسٹ میں پاکستان کا نام آگیا ہے جس کی بہت بڑی وجہ حافظ سعید کی سرگرمیوں پر مغرب کی خواہش کے مطابق کنٹرول کا نہ ہونا ہے۔ اس لسٹ میں نام آنے سے تجارت اور ترسیل زر کے معاملات میں مزید مشکلات آئیں گی۔ یہاں قابل ذکر بات یہ ہے کہ ہمالیہ سے اونچی اور بحر عرب سے گہری دوستی والے ملک چین اور سعودی عرب نے پاکستان پر پابندی کے خلاف آواز بلند نہیں کی۔

خارجہ سطح پر بھارت، ایران، افغانستان سے تناؤ موجود ہے۔ سعودی عرب، قطر، ابوظہبی، دبئی اور دیگر عرب ممالک سے پاکستانیوں کی واپسی جبکہ بھارتیوں کو خوش آمدید کیا جارہا ہے۔ بین الاقوامی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں مسلسل اضافہ پاکستان کے لیے ایٹمی دھماکے کے مترادف ہے۔ تیل کی قیمت میں چند دن میں 30روپے لیٹر کا اضافہ ہوگیا ہے۔

روپے کی گرتی ہوئی قدر لمحہ فکریہ ہے۔ صرف5روپے کم قدر ہونے سے 425ارب روپے کا قرضہ بڑھ جاتا ہے۔ ملک میں مہنگائی کا طوفان راستے میں ہے۔ بیرونی قرضے بڑھ کر 96 ارب ڈالر کی بلند سطح تک پہنچ گئے ہیں۔

یہ وہ چیلنجز ہیں جس کا مقابلہ ”الیکٹ ایبلز‘‘ کی مدد سے بننے والی نئی حکومت نے کرنا ہوگا۔
اسٹیبلشمنٹ کس جماعت کے ساتھ ہے ”الیکٹ ایبلز اس کے لیے اپنی پرانی روایت کے ساتھ کام کررہے ہیں مگر ایسی جمہوریت اور حکومت میں عام آدمی، عوام اور پاکستان کے لیے کچھ دکھائی نہیں دے رہا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •