کرپشن کا سوال

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

دیکھئے، یورپ جیسی شفافیت درکار ہے تو یہ سمجھنا ہو گا کہ ان شفاف معاشروں کی بنت کیا ہے؟ مغرب میں لوگ ٹیکس دیتے ہیں، ہم حج ادا کرتے ہیں نیز ہر برس اربوں روپے کے جانور قربان کرتے ہیں لیکن ہم حکومت کو ایک دھیلا ٹیکس دینے پر تیار نہیں۔ ان کے ہاں دودھ کی بوتلیں اور انڈے دروازے کے باہر رکھے رہتے ہیں اور کوئی چوری نہیں کرتا۔

ہمارے ہاں پانی کی سبیل پر رکھے گلاس کو زنجیر باندھی جاتی ہے اور مسجد سے جوتے چوری ہوتے ہیں۔ ان کے ہاں امیر زیادہ ٹیکس دیتا ہے اور غریب سے کم ٹیکس لیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں امیر کم ٹیکس دیتا ہے اور غریب سے زیادہ ٹیکس لیا جاتا ہے۔ ان کی معیشت کی بنیاد صنعت ہے اور ہماری معیشت کی بنیاد زراعت۔ چنانچہ وہ دن بھر کام کرنے کے بعد تفریح پر نکلتے ہیں جبکہ ہمارے اخبارات میں نمازِ استسقا کی اپیل شائع ہوتی ہے۔

وہ وقت پر دفتر آتے ہیں اور پورا وقت دیانتداری سے کام کرتے ہیں۔ ہم دیر سے دفتر پہنچتے ہیں، چائے پیتے ہیں اور پھر وقفہ نماز کے دوران ایسے غائب ہوتے ہیں کہ واپس دفتر نہیں آتے۔ ان کی برآمدات زیادہ ہیں اور درآمدات کم چنانچہ ان کا معیار زندگی مسلسل بلند ہوتا ہے۔ ہمیں ہر برس اربوں ڈالرز کا خسارہ ہوتا ہے کیونکہ ہماری درآمدات زیادہ ہیں اور برآمدات کم۔ وہ اپنے انسانی سرمائے کا معیار بلند کرنے کی فکر میں رہتے ہیں اور ہماری آخری امید زیر زمین معدنیات ہیں۔ ان کے ہاں قانون کے موثر نفاذ کو یقینی بنایا جاتا ہے ، ہمیں سخت سزاﺅں پر اصرار ہے۔

ان کے تعلیمی اداروں میں وہ تعلیم دی جاتی ہے جسے پا کر طالب علموں میں مسائل کو سمجھنے اور ان کو حل کرنے کی اہلیت پیدا ہوتی ہے۔ چنانچہ وہ مشین بناتے ہیں، بیماریوں کا علاج ڈھونڈتے ہیں۔ فکر اور فلسفہ میں نئی راہیں تراشتے ہیں۔ ہمارے تعلیمی اداروں میں وہ تعلیم دی جاتی ہے جسے پا کر ہماری سوچ کی تنگ دامانی کا موازنہ شاہ دولے کے چوہوں سے کیا جا سکتا ہے۔ ہمارا ہنر کپڑا بننے، اینٹیں بنانے اور چمڑا سکھانے تک محدود ہے۔

ہمیں اپنی ادبی روایت پر بہت غرّہ ہے، ادب کا ایک نوبل انعام ہمارے حصے میں نہیں آیا۔ ہم دنیا کی امامت کرنا چاہتے ہیں لیکن ہماری منتخب حکومتوں کو اپنی میعاد پوری کرنے کے لالے پڑے رہتے ہیں۔ ترقی یافتہ دنیا میں ووٹ عوام کو از راہ عنایت ملنے والی رعایت نہیں، ایک مسلمہ استحقاق ہے۔ ہمیں اسلامی دنیاسے رشتوں پر ناز ہے لیکن اسلامی دنیا والے ہمارا بنایا ہوا کپڑا نہیں خریدتے۔

جب ہمارے محنت کش اپنے جسم و جاں کا تیل بیچنے ان کے دیسوں میں جاتے ہیں تو ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کیا جاتا ہے اور انہیں شہریت ملنے کا کوئی امکان نہیں ہوتا جب کہ مغربی ممالک میں ایک خاص ضابطہ کار سے گزرنے کے بعد انہیں شہریت مل جاتی ہے۔ معاشرے کو بدعنوانی اور کرپشن سے پاک کرنا ہے تو پھر شفاف نظام کے سب تقاضے پورا کرنا ہوں گے اور خرابی کی تمام صورتوں پر غور کرنا ہو گا۔

بدعنوانی کو مالی خورد برد یا رشوت ستانی تک محدود کرنا انسانی معاشرے کی پیچیدہ نوعیت اور جدید اداروں کے کردار سے لاعلمی کی نشانی ہے۔ مالی بدعنوانی بے شک معاشی اور سماجی ترقی کے لیے زہر کا درجہ رکھتی ہے تاہم مہذب معاشرے میں سب سے خطرناک بدعنوانی حکومت کا ناجائز ہونا ہے۔ اجتماعی سطح پر بدعنوانی کی بدترین صورت اداروں کا اپنے آئینی دائرہ کار سے تجاوز کرنا ہے۔

انفرادی دیانت داری کا پھول ایسے معاشروں میں بہار دیتا ہے جہاں عوام کے امکان پر اعتماد کیا جاتا ہو، جہاں قانون کی بالادستی قائم ہو، جہاں علم، دستور اور ضابطے کی مدد سے معیار زندگی میں مسلسل بہتری اجتماعی نصب العین ہو، جہاں رائے کے شخصی اور اجتماعی اظہار پر پابندیاں نہ ہوں، جہاں واقعاتی کوتاہیوں کا سدباب انفرادی پارسائی کی بجائے اختیارات اور احتساب کے اداراتی توازن سے کیا جاتا ہو۔ دیانت داری کی کرن لاقانونیت، سازش اور منافقت کی تاریکی میں نہیں پھوٹتی۔

کرپشن کے بارے میں یہ نکتہ قابل غور ہے کہ احتساب کا یہ ہتھیار سیاسی قوتوں ہی پر کیوں آزمایا جاتا ہے۔ احتساب کا یہ نزلہ جمہوری قوتوں ہی پر کیوں گرتا ہے۔ احتساب کی یہ بکری ہر دس برس بعد ہماری سیاسی قیادت کا بونٹ چر جاتی ہے۔ اس سے انکار نہیں کہ معاشرے میں بدعنوانی موجود ہے اور اسے دور کرنا چاہیے لیکن احتساب کو جمہوریت اور سیاسی عمل کو بے دست و پا کرنے کے لیے استعمال کرنا اپنے پاﺅں پر کلہاڑا مارنا ہے۔ جمہوریت ہی شفاف اور کرپشن سے پاک معاشرے کی طرف لے کر جاتی ہے۔ دیانت داری کی کونپل لوگوں کے ووٹ لینے والی سیاسی قیادت کے بطن ہی سے پھوٹے گی خواہ پاکستان کے لوگ کسی بھی سیاسی جماعت کو ووٹ دیں۔

کرپشن مٹھی بھر لوگوں سے چند ارب روپے واپس لینے سے دور نہیں ہو سکتی اور نہ ایسا کرنے سے عوام کا معیارِ زندگی بلند ہو گا۔ عوام کی معاشی حالت پیداواری عمل کی طرف رجوع کرنے سے بہتر ہو گی اور پیداواری عمل پر مبنی پالیسیاں جمہوری قیادت ہی دے سکتی ہے۔ حکومت نام ہی پالیسی بنانے کے اختیار کا ہے۔ حکومت معاشرے کی اجتماعی ترجیحات پر نظرثانی کرنے، نیا اجتماعی نصب العین اور نیا قومی بیانیہ مرتب کرنے کے اختیار کا نام ہے۔

پاکستان کی تاریخ میں لیاقت علی خان کے قتل کے بعد یہ اختیار کس سیاسی قائد کے پاس رہا ہے؟ یہ اختیار ذوالفقار علی بھٹو کے پاس تھا اور نہ بے نظیر کے پاس۔ یہ اختیار محمد خاں جونیجو کو مل سکا اور نہ نواز شریف کو ، جس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری سیاسی قیادت ایسی پالیسیاں مرتب نہیں کر سکی جو پاکستان کے عوام کو خوش حالی کی طرف لے جا سکیں۔ کیا مضائقہ ہے کہ کرپشن کی پکار کے ہاتھوں مفلوج ہونے والی سیاسی قیادت کے بارے میں بحث کو شیکسپیئر کے ایک اقتباس سے سمیٹا جائے۔

The fault, dear Brutus, is not in our stars,

But in ourselves, that we are underlings

(پیارے بروٹس، خرابی ہمارے ستاروں میں نہیں، خود ہم میں ہے۔ اور خرابی یہ ہے کہ ہم بالشتیے ہیں۔)

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •