لاہور کے حلقہ 3 میں ڈاکٹر جاوید اقبال اور ذوالفقار علی بھٹو میں انتخابی معرکہ

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

1970 کے الیکشن میں لاہور سے قومی اسمبلی کے ایک حلقے میں ذوالفقار علی بھٹو کا مقابلہ علامہ اقبال کے بیٹے ڈاکٹر جاوید اقبال سے تھا۔ فرزند اقبال کے سب سے بڑے سپورٹر آغا شورش کاشمیری تھے جو جلسوں کا اہتمام بھی کرتے۔ مجید نظامی بھی ان کی حمایت میں پیش پیش تھے۔ جماعت اسلامی ان کے ساتھ تھی۔ مولانا مودودی نے نواب زادہ نصر اللہ خان سے کہا کہ وہ اپنی پارٹی کے امیدوار کو دستبردار کرا لیں تاکہ بھٹو اور جاوید اقبال کا ون ٹو ون مقابلہ ہو مگر انھوں نے اس سے معذوری ظاہر کر دی۔ صدر جنرل یحییٰ خان کی ہمدردیاں بھی جاوید اقبال کے ساتھ تھیں اور وہ انھیں متحدہ مسلم لیگ کا صدر دیکھنا چاہتے تھے۔ بھٹو سے الیکشن ہارنے کے بعد لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس کی طرف سے ڈاکٹر جاوید اقبال کو جج بنانے کی سفارش یحییٰ خان کے پاس پہنچی تو انھوں نے جاوید اقبال سے کہا :

چیف جسٹس نے ججی کے لیے آپ کا نام بھیجا ہے، لیکن آپ نے اتنی جلدی ہمت کیوں ہار دی؟ میں تو گذشتہ الیکشنوں کو کالعدم قرار دینے کے بارے میں سوچ رہا ہوں اور ازسر نو الیکشن کرانے کا ارادہ ہے جس کے رولز کے تحت اس سیاسی جماعت کو کامیاب قرار دیا جائے گا جو اپنے ’’ ونگ ‘‘ کے علاوہ پاکستان کے دوسرے ’’ونگ‘‘ سے ایک تہائی ووٹ حاصل کرے‘‘ میں (جاوید اقبال)نے عرض کی ’’ سر! میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مجھ میں ملکی سیاست میں حصہ لینے کی صلاحیت نہیں ہے۔‘‘

یحییٰ خان کے عزائم کی بلندی ملاحظہ ہو۔ ملک سنگین بحران میں گھرا ہے اور وہ ایسے منصوبے گانٹھ رہے تھے جن کی کامیابی کا ان کے سوا کسی کو یقین نہیں تھا۔

خیر بات ہم کو کرنی ہے بھٹو بمقابلہ جاوید اقبال انتخابی معرکے کی۔ جاوید اقبال کو علامہ اقبال کا سپوت ہونے کا فائدہ حاصل تھا، ان کی اس شناخت کو انتخابی جلسوں میں خاص طور سے اجاگر کیا جاتا۔جاوید اقبال کونسل مسلم لیگ کے ٹکٹ پر الیکشن لڑ رہے تھے۔ اس لیے وہ پاکستان بنانے والی پارٹی کا امیدوار ہونے کے دعوے دار تھے۔ اسی حلقہ سے جو مغربی پاکستان میں قومی اسمبلی کا حلقہ نمبر ساٹھ (لاہور تین) تھا، کنونشن مسلم لیگ کے ٹکٹ پر احمد سعید کرمانی بھی میدان میں تھے، یہ وہی صاحب ہیں جن کا ذکر ایک سیاسی اجتماع میں ہوا تو بھٹو نے کہا ’ہو از شی؟‘

بھٹو پر جاوید اقبال کو اس اعتبار سے سیاسی برتری حاصل تھی کہ دسمبر 1964 میں ہونے والے صدارتی الیکشن میں انھوں نے ایوب خان کے بجائے محترمہ فاطمہ جناح کا ساتھ دیا تھا اور جلسوں میں ان کے ساتھ رہے تھے۔ بھٹو اس زمانے میں ایوب خان کے قریبی ساتھی تھے ۔ 70ء کے الیکشن میں بھٹو کے ذاتی کردار پر مخالفین کی طرف سے کیچڑ تو اچھالا ہی گیا ،سوشلزم بھی بمنزلہ کفر قرار پایا ۔ جاوید اقبال کو نظریہ پاکستان کے علمبردار اور بھٹو کو اس نظریے کے دشمن کی صورت میں پیش کیا گیا۔ ان کے پوسٹروں پر یہ لکھا ہوتا کہ مقابلہ جاوید اقبال سے نہیں فکر اقبال سے ہے۔ الیکشن میں جاوید اقبال کی طرف سے ووٹروں کے لیے قیمے والے کلچوں اور ٹرانسپورٹ کا بھی انتظام تھا لیکن یہ سب بھی ان کے کام نہ آیا۔ وہ ’’ اپنا گریباں چاک ‘‘ میں لکھتے ہیں :

’’ میرے حلقے میں جتنے بھی پولنگ اسٹیشن تھے وہاں انتظام بہت اچھا تھا ۔ دوپہر کے کھانے کے لیے قیمے والے نان موجود تھے اور میاں محمد شریف نے ووٹروں کو لانے کے لیے بسوں کا انتظام بھی کر رکھا تھا ۔ میرے ورکروں کو امید تھی کہ میں اس حلقے سے کامیاب ہوجاؤں گا ۔ لیکن ایسا نہ ہوا۔ بہت بڑی تعداد میں ووٹر میری ہی فراہم کردہ ٹرانسپورٹ پر آئے ، میرے ہی کیمپ سے قیمے والے نان کھائے اور چٹیں وصول کیں ، لیکن اندر جا کر ووٹ بھٹو کو ڈال گئے۔ ‘‘

الیکشن کا رزلٹ آیا تو بھٹو نے 78132 اور جاوید اقبال نے 33921 ووٹ حاصل کئے۔ جاوید اقبال کو ہارنے کا ایک فائدہ یہ ہوا کہ وہ جج بن گئے ، دوسرے جب مولوی مشتاق نے بھٹو کے خلاف کیس میں انھیں بینچ کا حصہ بنانا چاہا تو انھوں نے اس بنا پر انکار کردیا کہ وہ ملزم کے مقابلے میں الیکشن لڑ چکے ہیں، اس لیے مناسب نہیں کہ اس کے خلاف کیس سنیں۔ یوں وہ لاہور ہائی کورٹ کے اس بدنام زمانہ بینچ کا حصہ بننے سے بچ گئے جس نے بھٹو کو پھانسی کی سزا سنائی تھی۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •