رخشان ڈویژن کی سیاسی تبدیلیوں میں موجود سبق

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

رخشان ریجن کے علاقے نوشکی، چاغی، خاران اور واشک میں، خاص طور پر موخر الذکر تین اضلاع میں سیاسی طور پر یہ یقین پختہ ہو چلا تھا، کہ وہاں جو سیاسی اشخاص بر سر اقتدار ہیں، انھیں ہرانا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ کیوں کہ وہ کئی دہائیوں سے مسلسل کامیاب ہوتے چلے آ رہے تھے اور انھوں نے وہاں کے تمام اداروں، اور حالات پر اپنی گرفت مضبوط کر رکھی تھی۔ باالفاظ دیگر انھوں نے اپنی ناقابل شکست اجارہ داری قائم کی ہوئی تھی۔ اس وجہ سے وہاں کے لوگوں کی اکثریت دل سے نہ چاہتے ہوئے بھی انھی شخصیات کو ووٹ دینے پر مجبور تھی، کیوں کہ ان سے بغاوت کرنا خود کو خسارے کی طرف دھکیلنے کے برابر تھا۔

ایسے میں ان مذکور اضلاع کے سیاسی مقتدر لوگوں میں ایک ایسی متکبرانہ غلط فہمی پیدا ہوچکی تھی کہ ہم اپنی سیاسی حکمت عملی اور ذہانت سے جیت رہے ہیں، ہماری جیت میں عوام سے زیادہ ہماری دولت اور سیاسی سوجھ بوجھ کا عمل دخل ہے۔ اسی طرح یہ لوگ عوام کو جہالت کے ایسے کھلونے سمجھ بیٹھے تھے کہ یہ ہر وقت ان سے اپنی مرضی کے مطابق کھیل سکیں گے اور من چاہا نتیجہ برامد کرسکیں گے۔ یہی وجوہ تھیں کہ یہ مسلسل عوامی مفادات کو نظر انداز کرکے اپنے علاقوں کو بادشاہوں کی طرح چلا رہے تھے۔

عوام کے ٹیکسوں سے حاصل شدہ فنڈز کو میراث سمجھ کر کھا رہے تھے۔ ان کے نزدیک اپنے چند خوشامدیوں کے سوا عام لوگوں کی کوئی اہمیت اور حیثیت نہ تھی۔ عوام سے ان کا رویہ ایسا تھا کہ جیسے ان کے ووٹوں کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ یہ ہرسال ایک نئی سیاسی چال کے ساتھ آ کر کسی نہ کسی طرح خود کو کامیاب کرواتے تھے اور اس ضمن میں سب سے بڑا ہتھیار ان کا پیسا تھا، کہ چند ووٹ بنک رکھنے والوں کو پیسا دو اور ان کا ووٹ لے کر کامیاب ہوجاؤ۔ پس اگلے الیکشن تک کام کرنے کی بجائے پیسا جمع کرو۔

اس دفعہ ان اجارہ داروں نے پیسے کے ساتھ خلائی مخلوق کی چھتری تلے ان کی براہ راست مدد حاصل کر کے اپنے حساب سے اپنی پوزیشن پہلے سے زیادہ مضبوط بنا رکھی تھی۔ اور یہ غلط فہمی بھی کہ غربت، جہالت اور مختلف مسائل کا شکار بنے لوگ ایسی بے بسیوں میں جکڑے ہوئے ہیں، کہ ان میں مزاحمت کی زرا بھی سکت باقی نہیں ہے۔ اگر چند افراد میں موجود بھی ہو، تاہم ان کی یہ ننھی مزاحمت پہلے تجربات کی طرح شکست سے دو چار ہو جائے گی، اور یہ لوگ اگلے پانچ سالوں میں محرومیوں کا شکار بن کر نشانِ عبرت بنیں گے۔ نیز جہاں جہاں مشکل در پیش ہو وہاں وہاں بڑے بھائی مدد کو پہنچ جائیں گے۔

یہ لوگ یہ بات بالکل بھول چکے تھے کہ اقتدار بخشنے والی اصل قوت عوام ہے۔ ان کو اندازہ ہی نہیں تھا کہ برداشت کی بھی ایک حد ہوتی ہے، قدرت بھی سدھرنے کے لیے ایک متعین مدت تک موقع دیتی ہے۔ چناں چہ ان کے خلاف عوام کے دل میں انتقام کا رد عمل نشوونما پا رہا تھا، جو پچیس جولائی کو سن بلوغت تک پہنچ گیا۔ اور اس نے اپنے کئی عشروں کا بدلہ ان کی بری طرح شکست کی صورت میں لے لیا۔

رخشان ڈویژن کی اس سیاسی تبدیلی میں کامیاب اور ناکامیاب ہونے والی سیاسی شخصیات، دونوں کے لیے سبق موجود ہیں۔ اس الیکشن سے یہ ثابت ہوا کہ نہ پیسا اور نہ ہی خفیہ کمک جیت دلا سکتی ہے۔ (بلکہ یہ بھی کہ پیسا اور کمک مل کر بھی نہ جتوا سکے)۔ اسی طرح طاقت کا اصل سرچشمہ عوام ہیں، جو سیلاب بن کر کسی بھی طاقت کو پیچھے دھکیل کر کسی کو بھی کامیابی اور ناکامی سے دوچار کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ عوام سے مضبوط رشتہ، عوامی مسائل کا حل اور عوام کی عزت افزائی ہی کامیابی کی اصل ضمانت ہے۔ جو ان شرائط پر پورا اترے گا، وہی حکمران (عوامی نمایندہ) ہو گا۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
شمیم شاہ جی کی دیگر تحریریں
شمیم شاہ جی کی دیگر تحریریں