ڈاکٹر روتھ فاؤ۔۔۔ جسے نہ جزا کی پرواہ ، نہ جنت کا لالچ

پیر علی شاہ کا تعلق سوات سے ہے 1965 میں وہ اپنے مرض کے علاج کے لئے کراچی پہنچے تو ان کی ملاقات پاکستانی مدر ٹریسا ڈاکٹر روتھ فاؤ سے ہوگئی۔ شفاء تو مل گئی لیکن پیر روتھ کے مرید بن گئے۔ پیری مریدی کا سفر 1965 سے شروع ہوا جو آج تک جاری ہے۔ اسپتال سے متصل روتھ کا دو کمروں کا چھوٹا سا فلیٹ جو اب بعد از وفات میوزیم میں تبدیل ہوچکا ہے پیر علی شاہ ہی کی ذمہ داری ہے جنھوں نے اس فرشتہ صفت مسیحا کے ساتھ سب سے زیادہ وقت گزارا اور ان کے بیٹے بن کر رہے۔

اس فلیٹ کا ایک کمرہ اپنی اصل حالت میں ہے یہاں تک کہ وفات سے قبل وہ اخبار جو روتھ پڑھ رہی تھیں اب بھی ان کی رائٹنگ ٹیبل پر موجود ہے۔ لکٹری کے پلنگ پر ڈلی رنگین ”رلی“ بتارہی ہے کہ روتھ کو پاکستان کی روایات اور ثقافت سے کتنا پیار تھا۔ شاید کوئی نہ جانتا ہو کہ ا نھوں نے کتنی کتابیں لکھیں۔ دنیا کے کن کن ممالک نے انھیں اعزازات سے نواز دو دیوار پر بڑے بڑے حکمرانوں کے ساتھ یا پھر اعزازات وصول کرنے والی تصاویر سے زیادہ پاکستان کے پر خطر اور پسماندہ علاقوں، قصبوں اور دیہاتوں میں بسے بے بس، بیمار، لاچار لوگوں میں شفاءبانٹنے اور ان کے چہروں پر روتھ کو دیکھ کر امید کی کرن روشن ہونے کی تصاویر بے شمار ہیں۔

وہ صرف بیماروں کا علاج نہیں کرتیں تھیں ان کے مالی اور ذاتی مسائل تک حل کرتی تھیں۔ پیر علی نے بتایا کہ ان کے گھر ایسے مریض جو بھلے چنگے ہوچکے تھے اپنے مسائل لے کر ایسے آتے تھے جیسے یہ پیر منٹوں میں مسئلہ حل کردیگا۔ ایک بار کوئی اپنی عرضی لایا تو روتھ نے ایک دو روز کا وقت مانگا۔ دو روز بعد وہ ہی سائل خوشی خوشی لوٹ گیا اور روتھ اسپتال میں مصروف ہوگئیں۔ پیر علی نے گھر کی صفائی ستھرائی کرتے ہوئے محسوس کیا کہ ہلال امتیاز غائب ہے۔ مارے پریشانی ماتھے پر پسینہ آیا، روتھ کو اتنے بڑے اعزاز کی گمشدگی کی اطلاح دی تو انھوں نے اپنے ملنگ انداز میں کہا ارے پیر علی غائب نہیں ہوا میں نے بیچ دیا پیسوں کی ضرورت تھی میرے پاس کچھ کم تھے تو اسے بیچ کر کسی کو دے دیے۔

اسپتال کی مالک، بے پناء فنڈز حاصل کرنے والی کو پیسوں کی کمی ہوئی اور اس نے اپنا میڈل بیچ کر کسی اجنبی کی مدد کردی؟ یہ بات اسٹاف کے لئے کسی دھچکے سے کم نہ تھی۔ رفقا نے روتھ سے دریافت کیا کہ اگر ایسا تھا بھی تو آپ فنڈ استعمال کر سکتی تھیں یا ہم سے کہہ دیتیں یہ تو نہ کرتیں۔ جواب ملا فنڈ علاج کے لئے ہے وہ شخص مدد کی درخواست لے کر میرے پاس آیا تھا اس کی آس خدا کے بعد مجھ سے بندھی تھی تو یہ میری ہی ذمہ داری تھی۔ کیا فائدہ ایسی چیزوں کا جو بے جان ہو کسی کے کام نہ آسکے بس سجا کر دل خوش کیا جائے لیکن اب تو کام ہوگیا میں مطمئن ہوں۔ اس روز اسٹاف نے فیصلہ کیا کہ وہ دیگر میڈلز اور اعزازت اپنے پاس رکھیں کہیں پھر سے کچھ ایسا نہ ہو جائے۔

ڈاکٹر میروین لوبو جو 1990 سے ڈاکٹر روتھ کے ساتھ کام کر رہے ہیں انھوں نے یاد کرتے ہوئے کہا کہ یہ ان دنوں کی بات ہے جب پاکستان میں دہشت گردی عروج پر تھی اور دنیا بھر میں پاکستان پر تنقید کا سلسلہ جاری تھا۔ جرمنی میں ایک کانفرنس کے دوران کسی غیر ملکی نے پاکستان اور یہاں کے شہریوں پر تنقید شروع ہی کی کہ ڈاکٹر روتھ اپنی نشست سے کھڑی ہوگئیں اور اس شخص کو سختی سے کہا کہ میں نے جب پاکستان میں قدم رکھا تو میری عمر اس وقت اکتیس بتیس برس کے قریب تھی میں نے ملک کے کونے کونے میں جاکر جہاں وسائل نہ تھے، تعلیم نہ تھی، اجنبی معاشرہ تھا بے خوف و خطر کام کیا میں نے اکیلے ان ہی لوگوں کے ساتھ کبھی صحراوں میں تو کبھی پہاڑوں میں، کبھی کسی بجلی سے محروم جھونپڑے میں شب و روز گزارے ہیں۔ اس ملک سے کوڑھ کا مرض میں نے ختم نہیں کیا وہاں کے لوگوں نے ختم کیا جنھوں نے میرا ساتھ دیا، عزت دی مجھے اپنوں نے بڑھ کر سمجھا آپ کیسے میرے ملک کو دہشت گرد او ر اس کے عوام پر بات کرسکتے ہیں؟ میں اس کی اجازت ہرگز نہیں دے سکتی۔

ڈاکٹر لوبو نے مسکراتے ہوئے کہا میں نے انھیں پہلی بار اتنے غصے میں دیکھا وہ تو دنیا بھر میں پاکستان کی سفیر تھیں۔ وہ بہت خاص خاتون تھیں کیوںکہ وہ سب کو خا ص سمجھتی تھیں۔ ہم نے ان سے بہت کچھ سیکھا۔ ایک ایسی عورت جس کا اسپتال ہو وہ ہمارے کمرے میں آنے سے پہلے اجازت طلب کرتی تھیں اور پوچھتی تھیں کہ اگر آپ کوئی کام نہیں کر رہے تو کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟ فیلڈ پر ان کی ساری زندگی گزری وہ اندورن ملک چلنے والی عام مسافر بسوں میں ستر برس کی عمر تک سفر کرتی رہیں۔ پیرا میڈک اسٹاف ہو یا مقامی ڈرائیور کھانا وہ ہی کھاتیں جو سب کھاتے اور زیادہ تر برتن بھی ایک ہی ہوتے۔

انھوں نے بلوچستان اور پنجاب کے بارڈر پر لگنے والے علاقے جھنڈی میں بہت سفر کیا جہاں ایک ایک ہفتہ پیدل سفر کرنا پڑتا تھا۔ میں جب ا ن کے سا تھ شمالی علاقہ جات، گلگت، بلتستان، کشمیر گیا تو سفر کے دوران ہنس ہنس کر بتا تی دیکھو اب یہاں سڑک بن گئی پہلے تو پیدل آنا پڑتا تھا اور میں وہ دشوار راستے اور اونچی نیچی پر خطر سڑکیں دیکھ کر دل ہی دل میں خوفزدہ ہوتا اور پھر ڈاکٹر روتھ کا چہرہ دیکھتا جس پر اطمینان اور سکون کے سوا کچھ نہ ہوتا۔ میرے ذہن میں صرف ایک بات آتی کہ اب سمجھ آتا کہ مشکلیں کیسے اس مسیحا کے لئے سر جھکا کر راستہ بناتی چلی جاتی ہیں۔

ڈاکٹر روتھ کی انتھک محنت اثر دکھا رہی تھی کہ عالمی ادارہ صحت نے 1995 میں کراچی سے کوڑھ کا خاتمہ نہ ہو نے کے سبب پاکستان میں اس مرض کی موجودگی سے پاک نہ ہونے کی خبر دے ڈالی۔ میٹنگ میں ڈاکٹر تھامسن نے انکشاف کیا تو ڈاکٹر روتھ جو ان دنوں دور دراز کے شہروں اور قصبوں میں کام کر کے کوڑھ کا خاتمہ کرنے میں مصروف عمل تھیں انھوں نے ا س کی و جہ دریافت کی تو جواب ملا کہ شہر بھر میں امن و امان کا مسئلہ ہے ا ور کوئی بھی معالج کسی بھی نو گو ایریا میں داخل ہوکر اندھی گولی کا نشانہ بننا نہیں چاہتا۔ یہی وجہ ہے کہ کراچی میں یہ مرض ختم نہیں ہوسکا۔

ڈاکٹر روتھ نے یہ سن کر اعلان کیا کہ 1996 کا پورا سال وہ کراچی کے نام کرتی ہیں اور پھر وہ اپنے فیلڈ اسٹاف کے ہمراہ ہر نو گو ایریا میں گئیں یہاں تک کہ ان علاقوں کا امن و سکون تباہ کرنے والوں نے بھی ان کو عزت دی۔ ساتھ ساتھ علاقوں کی نشاندہی میں مدد فراہم کی کہ کہاں کہاں بیمار افراد موجود ہیں اور یوں ایک بار اسی ملک کی عوام کی مدد سے روتھ فاؤ نے کراچی سے بھی اس مرض کا خاتمہ کر کے اسی سال اعلان کیا کہ پاکستان اب کوڑھ سے نجات پاچکا۔ جب اس مرض کی شدت میں کمی ہوئی تو روتھ نے اسپتالوں میں ٹی بی، بینائی سے محرومی اور زچہ بچہ کی صحت کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کرلیا۔ سرکاری سطح پر بھی ڈاکٹر روتھ کے کام کو سراہا گیا اور اب ملک بھر میں 157اور کراچی میں چلنے والے 11اسپتالوں میں سے نوے فیصد سرکاری سطح پر چل رہے ہیں۔

مزید پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیں

ڈاکٹر مطاہر ضیاء نے تیس برس قبل روتھ کے سفر میں خود کو شریک کیا اور آج تک یہی ہیں عاجزی و انکساری ان کی شخصیت کا خاصہ ہے۔ شاید یہ انھوں نے روتھ سے سیکھا ہو کیونکہ ان کا تو یہی ماننا ہے کہ روتھ اس ادارے کی جو ان کے گھ ر جیسا ہے ایک ماں اور سربراہ کی طرح تھیں وہ جسمانی طور پر تو اب موجود نہیں لیکن روحانی طور پر آج بھی ہم سب کے ساتھ ہیں اور اس سربراہ کی برکتیں ہی ہیں جو بات اب تک بنی ہوئی ہے۔

ڈاکٹر روتھ نے اپنا وطن چھوڑا۔ اپنا خاندان دوست احباب چھوڑ کر وہ ایک ایسے ملک آبسیں جہاں تقسیم کے بعد سے غربت، افلاس اور بیماری اپنے قدم جمائے ہوئے تھی۔ لیکن ان کا عزم اور حوصلہ شاید ان پہاڑوں کی طرح مضبوط اور ناقابل شکست تھا جہاں پہنچنا ہر کسی کے بس کی بات نہیں شاید تب ہی وہ شمال میں کھڑے ا ونچے اونچے پہاڑوں کے قریب تو ان کے دامن میں بسنے والوں کے پاس دعا میں مانگنے والی غیبی مدد اور رحمت کی صورت پہنچ جاتی تھیں۔ لوگ ا س بحث میں لگے رہے کہ جنت کا حقدار کون ہے؟ تو کوئی منبر پر بتاتا رہا کہ بہشت میں جانے کے لئے ایمان کے کس درجے پر جانے کی ضرورت ہے تو دوسری جانب ایک عورت ان لوگوں میں جنھیں موذی مرض کی بناءپر اپنے بھی چھوڑ جاتے تھے، جن کی زندگی جیتے جی جہنم بن چکی تھیں ان کی زندگی میں شفاء بھرتی، چہرے پر مسکان لاتی، جینے کا حوصلہ دیتی اور ان کی زندگی جنت بناکر آگے بڑھ جاتی۔ اسے جزا کا لالچ نہ تھا وہ سب سے زیادہ امیر ہوتے ہوئے بھی غریب پرور درویش صفت عورت رہی۔

اس کے نام پر جہاں کئی دل موم پڑتے احترام میں سر جھکتے اس کے جانے کے بعد بھی یہ سلسلہ رکا نہیں۔ 10 اگست 2017 کے روز لوگوں پر آشکار ہوا کہ اس زمین پر کوئی گمنام سپاہی تھا ایسا مسیحا تھا جس نے اپنی زندگی کی پانچ دہائیاں لوگوں کی زندگیاں جنت بنانے میں گزار دیں تو اس روز ہی بہت سے دلوں نے فیصلہ کیا کہ جنت کمانے کا تو بعد میں سوچیں گے پہلے کسی کی جہنم نما زیست کو تو آسان کریں۔ فنڈز پہلے سے بھی زیادہ بڑھنے لگے۔

اسپتال کے احاطے میں لگی بڑی سی تصویر میں مسکراتی روتھ آج بھی آنے والے مریضوں کا استقبال کرتی ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہتی ہو کہ فکر نہ کرنا تم ٹھیک ہوجاؤ گے بس مایوس نہ ہونا حوصلہ نہ ہارنا۔ بس فرق صرف اتنا آیا ہے کہ اب اسپتال آنے والوں کو روتھ تو ہر جگہ دکھائی دیتی ہے لیکن وہ لمس اور جادو کی جپھی نہیں مل پاتی جس سے ان کی آدھی بیماری اسی وقت ختم ہوجاتی تھی۔