کیا اب انگریز بھی ’اینٹی نیشنل‘ ہو گئے؟

سہیل حلیم - بی بی سی اردو ڈاٹ کام، نئی دہلی

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

کیا انگلینڈ کا دورہ کرنے والی انڈین کرکٹ ٹیم کو دوسرے ٹیسٹ میچ کے دوران کھانے میں بیف پیش کیا گیا تھا؟

جب ساری دنیا کو یہ معلوم ہے کہ انڈیا کی زیادہ تر ریاستوں میں بیف پر پابندی ہے تو کیا انھیں بیف پیش کیا جانا چاہیے تھا؟ اور کیا دوسرے ٹیسٹ میں شکست کا اس سے کوئی تعلق ہو سکتا ہے؟

انڈین کرکٹ بورڈ کی ایک ٹویٹ کے بعد سوشل میڈیا میں ان سوالوں پر دلچسپ بحث چھڑی ہوئی ہے جس میں سینیئر صحافی برکھا دت سے لے کر کشمیر کے ایک سابق وزیر اور ٹوئٹر کے بڑے بڑے ’یودھا‘ میدان میں اترے ہوئے ہیں۔

بی سی سی آئی نے لارڈز میں جاری ٹیسٹ کے دوران لنچ کا مینو ٹویٹ کیا تھا جس میں ‘بیف پاستا’ کے نام سے بھی ایک ڈش شامل تھی۔ بیف کا ذکر سنتے ہی ایک ٹی وی چینل کو خبر نظر آئی اور ہنگامہ شروع ہو گیا۔

برکھا دت نے لکھا ہے کہ کیا یہ واقعی خبر ہے؟ (کھانے میں بیف شامل تھا) تو کیا؟ کیا آپ یہ چاہتے ہیں کہ مینیو میں ’لنچرز آن آرڈر‘ شامل ہوتے؟

انڈیا میں گاؤ کشی کے نام پر ہجوم کے تشدد میں بہت سے مسلمان ہلاک ہوئے ہیں اور ’لنچنگ‘ کے یہ واقعات ایک اہم سیاسی موضوع بنے ہوئے ہیں۔ بہت سے لوگوں کا الزام ہے کہ گائے کے ان خود ساختہ محافظوں کو حکومت اور حکمراں بی جے پی اور اس کی اتحادی تنظیموں کی درپردہ سرپرستی حاصل ہے جس کی وجہ سے ان کے حوصلے بلند ہوئے ہیں۔

سینیئر صحافی ویر سنگھوی نے ٹوئٹر پر ہی لکھا کہ پہلے ’نو بال‘ اور اب ’نو بیف‘۔۔۔ بڑی افسوس ناک صورتحال ہے۔

کشمیر میں محبوبہ مفتی کی حکومت کے سابق وزیر نعیم اختر کا کہنا ہے کہ کہیں ٹیسٹ میچ میں شکست کی ذمہ داری مینو پر نہ ڈال دی جائے!

ڈاکٹر وائی اشوک بابو نے اپنے ٹویٹر ہینڈل سے لکھا ہے کہ اگلی مرتبہ کسی عالمی رہنما کو گلے لگانے سے پہلے وزیر اعظم کو یہ تصدیق کرلینی چاہیے کہ غیرملکی رہنما نے پچھلے 48 گھنٹوں میں بیف نہ کھایا ہو۔

بیف مینیو پر منقسم رائے

کوہلی

Reuters

ساریکا کا کہنا ہے کہ ’میں بہت سے ایسے ہندوؤں کو جانتی ہوں جو مزے لیکر بیف کھاتے ہیں۔۔۔آج کل کچھ لوگ ہندوتوا کے نشے میں چور ہیں۔۔۔یہ دوغلاپن!‘

ٹوئٹر ہینڈل ڈارک نائٹ کا کہنا ہے کہ ’آپ کیرالہ آئیے، کوئی ایسا شخص ڈھونڈنا مشکل ہو جائے گا جو بیف نہ کھاتا ہو!‘

لیکن ایسے لوگ بھی ہیں جنھیں لگتا ہے کہ دسترخوان پر بیف سے بنی ہوئی کوئی ڈش نہیں رکھی جانی چاہیے تھی۔

راجدر ساہنی لکھتے ہیں کہ کیا انگلینڈ کے بورڈ کو یہ نہیں معلوم کہ ہندوستانی کھلاڑیوں کو کھانے میں بیف کی ڈش پیش نہیں کی جانی چاہیے تھی؟ انڈین ٹیم کو احتجاج میں واپس آجانا چاہیے! اس بارے میں بی سی سی آئی کیا کر رہی ہے؟

انڈین سکوزر کا کہنا ہے کہ اگر پاکستانی ٹیم کے مینیو میں ’پورک‘ شامل کیا جاتا تو آپ اس کے خلاف ریلی نکالتیں۔ سیکولرزم کی آڑ میں نفرت پھیلانا بند کیجیے۔

لیکن زیادہ تر لوگوں نے طنز و مزاح کا مظاہرہ کیا ہے۔

وپل چوبے کا کہنا ہے کہ ’بلا شبہ یہ خبر تو ہے کیونکہ اگر وراٹ کوہلی اور ان کی ٹیم بیف کھا سکتے ہیں تو ہم کیوں نہیں؟ یہ تو امتیاز ہے!‘

سندھو مانمندر کا کہنا ہے کہ ’یہ بالکل ناقابل قبول ہے! برطانیہ اپنی سرزمین پر کھانے میں بیف کیسے شامل کر سکتا ہے؟ بی جے پی کو انھیں سبق سکھانے کے لیے اپنے ’لنچر‘ بھیجنے چاہییں۔۔۔‘

کچھ لوگ یہ سوال بھی اٹھا رہے ہیں کہ کیا ہندوستانی کھلاڑیوں کو بیف کھانے پر مجبور کیا گیا تھا یا صرف میز پر جو کھانا لگا ہوا تھا اس میں بیف بھی شامل تھا۔ اور کیا یہ کھانا صرف انڈین ٹیم کے لیے تھا یا دونوں ٹیم کے لیے؟ انڈیا کی ٹیم میں ایسے کھلاڑی بھی ہوں گے جو بیف کی بات تو دور، گوشت ہی نہ کھاتے ہوں، تو کیا مینو میں گوشت بالکل ہی شامل نہیں کیا جانا چاہیے؟

آئی ایم انڈین کا سوال ہے کہ ’بیف پر کیوں ہنگامہ کر رہے ہو؟ یہ صرف ایک مینو تھا، وہ بھی انڈیا سے باہر، کیا اب انگریز بھی اینٹی نیشنل ہو گئے؟‘

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 9659 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp