احمدیوں پر لکھا جانے والا آخری مضمون

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

یہ بات تین دہائیوں سے زیادہ پرانی ہے۔ پلوں کے نیچے سے بہت سا پانی بہہ گیا ہے پر پل کے دو کنارے اور دور ہو گئے ہیں۔ موسم زیادہ بے رحم ہو گیا ہے اور سوچ، برداشت اور رواداری کے سارے پرندے روٹھ کر کسی اور دیس کی جھیلوں کو مراجعت کر گئے ہیں۔ پر سنیے کہ یہ قصہ اب بھی آج ہی کا ہے۔

ساتویں جماعت میں ہمیں معاشرتی علوم پڑھایا کرتے تھے جناب شبیر گوندل۔ چھ فٹ سے نکلتا قد تھا۔ چہرے پر ایک مسلسل خشونت رہتی تھی۔ مطالعہ پاکستان کے سرکاری بیانیے کے پکے مقلد تھے اور اپنے آپ کو عقل کل سمجھنے کا خبط رکھتے تھے۔ بچے انہیں اور وہ بچوں کو کوئی خاص پسند نہیں کرتے تھے۔ ایک دن پڑھاتے پڑھاتے نجانے کس پینک میں بات ختم نبوت اور قادیانیت کی طرف چل نکلی۔

ان دنوں احمدی یا لاہوری کا لفظ کم سننے کو ملتا تھا اور قادیانی کا لفظ عام شخص اسی نفرت انگیز لہجے میں استعمال کرتا تھا جیسا کہ آج کا عام آدمی۔ زہر زمین میں بہت نیچے تک بہت پہلے اتر گیا تھا اور ہر گھونٹ میں یہی زہر پینے اور اور پھر چھلکانے کی عادت مستحکم ہو چلی تھی۔ بات چل نکلی تو کمال فخر سے انہوں نے وسطی پنجاب کے اپنے ایک گاؤں کا قصہ چھیڑ دیا۔

بتایا کہ گاؤں کے ایک کونے پر ایک قادیانی خاندان آباد تھا۔ بڑا عرصہ گاؤں نے ان کا وجود برداشت کیا پھر ایک دن جمعے کی نماز کے ایمان افروز خطبے کے بعد گاؤں کے نوجوانوں کی غیرت بالآخر جاگ گئی اور وہ ادھر مسجد سے نکلے ادھر اپنے عقیدے کی بقا کی خاطر اس گھر کی جانب چل پڑے۔ گھر کے دروازے توڑ کر تین یا چار  مکینوں کو باہر نکالا۔ پہلے لاتوں، ڈنڈوں اور گھونسوں سے ان کی تواضع کی گئی پھر اسی گھر کے اندر انہیں باندھ کر گھر کو آگ لگا دی گئی۔ ادھر ان کے جسم راکھ ہوئے ادھر گاؤں نعرہ تکبیر سے گونج اٹھا۔

قصہ ختم ہوا تو انہوں نے داد طلب نظروں سے طالب علموں کی طرف دیکھا۔ اوروں کا تو یاد نہیں  لیکن میرے سارے قریبی دوستوں کے منہ کھلے ہوئے تھے اور کان اب تک بے یقین تھے۔ ہم میں سے اکثریت راسخ العقیدہ مسلمان  گھروں سے تھی پر گھر میں کبھی کسی نے بربریت اور نفرت کا ایسا پاٹھ نہیں پڑھایا تھا۔ ہم یہی جانتے تھے کہ انسان کی جان کا احترام ہر حال میں مقدم ہے اور عقیدہ ذات کے ساتھ جڑا ہے، اس پر حد جاری نہیں ہوتی، منصفی نہیں کی جاتی۔

کچھ دیر کی خامشی کے بعد ہم پانچ چھ دوست یہ پوچھنے پر مجبور ہو گئے کہ کسی کی جان لینے کا اختیار گوندل صاحب اور ان کے رفقا کر کیونکر ملا۔ ابھی معلومات خام تھیں۔ ذہن نہ کشادہ ہوا تھا نہ ہی بند تھا۔ عقیدے سے متعلق بہت بنیادی باتوں کے علاؤہ کچھ خاص پتہ نہیں  تھا پر پھر بھی بحث چھڑی تو کچھ ہی دیر میں شبیر گوندل صاحب کے پاس یاؤں یاؤں، غوں غوں اور “ابھی تم  بچے ہو” کے علاؤہ کوئی دلیل نہیں تھی۔

جماعت ختم ہوئی تو ان کے چہرے کی خشونت پہلے سے سوا تھی اور ہماری حیرت تاسف کے نئے در کھولتی تھی۔ چند دن گزرے تو ساتھ بیٹھنے والے ایک دوست شکیل نے ہمت کر کے بتایا کہ وہ بھی قادیانی ہے لیکن  ساتھ ساتھ اس نے وعدہ لے لیا کہ میں کسی کو بتاؤں گا نہیں کہ اس کا عقیدہ کیا ہے۔ جس سکول میں ایک استاد سر عام قادیانیوں کے اجتماعی قتل کا اعتراف فخر کے ساتھ کرتا تھا وہاں میں کیونکر ہمت کرتا کہ کسی کو بتا پاتا کہ شکیل بھی اسی طبقے کا فرد ہے جسے کچلنا، روندنا اور مارنا گویا ایمان کا چھٹا رکن سمجھا جا رہا ہے۔

دو روز پہلے اپنی بیٹی کے ساتھ بیٹھا باتیں  کر رہا تھا۔ بیٹی ایک اچھی خاصی لبرل کہلائی جانے والی یونیورسٹی میں پڑھتی ہے۔ باتوں باتوں میں  اس کی ایک دوست کا ذکر آیا تو معلوم ہوا کہ وہ بچی احمدی ہے۔ بیٹی کی آواز میں وہی تاسف اور حیرانی تھی جو میں نے پینتیس سال پہلے اپنے دوستوں کی آنکھوں میں  دیکھی تھی، جب اس نے بتایا کہ یونیورسٹی میں اس کے علاؤہ کسی کو نہیں پتہ کہ وہ احمدی ہے اور اس نے سختی سے میری بیٹی کو بھی یہی کہا ہے کہ یہ بات کسی کو پتہ نہیں  لگنی چاہیے وگرنہ اسے یونیورسٹی اسی طرح چھوڑنی پڑے گی جیسے اسے اپنا سکول چھوڑنا پڑا تھا کہ ساتھیوں اور استادوں کے نفرت انگیز جملے اور رویے اس کی روح کو زخم زخم کرتے تھے اور روز کرتے تھے۔

پینتیس سال میں عدم برداشت اور نفرت کا درخت بہت قدآور ہو گیا ہے۔ اس پر آئے برگ وبار سے پوری قوم فیض یاب ہوئی ہے اور زندگی ایک طبقے پر کیسے تنگ کی جاتی یے، یہ قرینہ ہم سب نے سیکھ لیا ہے اور یہ سب ہم نے اس مذہب کے نام پر سیکھا ہے جس کا مطلب ہم دنیا کو امن بتاتے ہیں، سلامتی بتاتے ہیں۔

مجھے اب اس بات کا کامل یقین ہو چلا ہے کہ اس ملک میں مذہب کو ہی ایندھن اور مذہب ہی کو چنگاری کے طور پر استعمال کرنے والا چلن ختم ہونے والا نہیں ہے۔ ہم بضد ہیں کہ تاریخ سے کچھ نہیں سیکھیں گے اور اپنی غلطیاں اور اپنی حماقتیں خود کریں گے۔ لیکن ہم یہ بھول جاتے ہیں کہ اس کی بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔

یہ قیمت آج احمدیوں کے خون اور آبرو سے چکائی جارہی ہے۔ کل یہی  آگ اہل تشیع کا دامن پکڑے گی، اہل حدیث اپنی باری پر سر بازار رسوا ہوں گے۔ بریلوی اور دیوبندی کس طرح سینگ لڑائیں گے، یہ اس کے بعد کا منظر نامہ ہے۔ ایک ایک کر کے عقیدے کے نام پر انسانیت کو بحیرہ عرب میں مکمل طور پر غرق کر دیا جائے گا۔ پھر شاید اس راکھ سے کوئی ققنس جنم لے اور ہم کبھی مستقبل بعید میں ماضی کے پچھتاووں پر کتابیں پڑھتے نظر آئیں۔ آثار واضح ہیں اور کھلی نشانیاں ہیں اس میں ان لوگوں کے لیے جو سمجھنا چاہتے ہیں۔

باقی تحریر پڑھنے کے لئے اگلا صفحہ کا بٹن دبائیے

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 143 posts and counting.See all posts by hashir-irshad