ڈیم بنانا زیادہ ضروری ہے یا انصاف دینا؟

نہر کے کنارے بنے اس ڈھابے سے، میں ایک دن پہلے ہی آشنا ہوا تھا۔ پرسکون ماحول میں اپنے دوستوں ساتھ بیٹھے مسالے دار بار بی کیو کا مزہ لے رہا تھا۔ تبھی اس وائرس کے شکار ایک دوست پر حملہ تیز ہوا اور اس نے اس پرسکون ماحول کی ایسی تیسی پھیرنا شروع کردی۔ جی ہاں میں اسی وائرس کا ذکر کر رہا ہوں جو آج کل کی ڈیجیٹل جنریشن میں پھیل چکا ہے۔ جس کا شکار مریض خود پسندی، ضد، ڈھٹائی اور لا شعور کی انتہا پر پہنچ کر ہر جنازے شادی، عید شب برات، خوشی غمی کو اس کی بھینٹ چڑھا دیتا ہے، اور منتخب سویلین حکومتوں پر تبرا بھیجتے ہوئے، منٹو کے منگو کوچوان کی طرح تبدیلی تلاش کرتا پایا جاتا ہے۔ افسوس کہ اس وائرس کا اینٹی وائرس بہت کم جمہور پسندوں کی شکل میں موجود تو ہے، پر اس طرح سے ہائی لائٹ نہیں ہونے دیا جاتا، جس طرح سے اس وائرس کے سوداگروں اور مبلغوں کو میڈیا پر موقع فراہم کیا جاتا ہے۔ خیر واپس نہر کنارے چلتے ہیں، جہاں میرا دوست مجھے سارے پاکستان کے مسائل کا اکلوتا مجرم سمجھتے ہوئے کٹہرے میں کھڑا کیے، تفشیش کر رہا تھا اور گاہے بگاہے آواز اونچی کر کے مغلظات پیش فرما رہا تھا۔

میرے لیے یہ سب اب نیا نہیں تھا ابھی ایک دن پہلے اسی جگہ پر میں یہ سب فیس کر چکا تھا۔ ایک دو بنیادی باتیں پوچھنے پر جب میں نے اسے ڈرائنگ پیپر کی طرح کورا پایا تو مجھے احساس ہوا کہ یہ بھی گوگل جیسے سرچ انجن کو بس نئی آنے والی فلموں کی کاسٹ اور ریلیز ڈیٹ کی جان کاری کے لیے ہی استعمال کرتے ہیں؛ اس کے علاوہ اسے کوئی زحمت نہیں دیتے۔ اس وائرس کا شکار لوگوں میں ایک بات اور مشترک ہے کہ جب کوئی جواب نا بن پائے تو ایک دم سے محب وطن بن جاتے ہیں اور تبدیلی والی سرکار کو دو چار گالیاں دینے کہ بعد غیر جانب دار اور ملک کے سب سے بڑے خیر خواہ بن جاتے ہیں۔ قصہ اس بات پر ختم ہوا کے ڈیم بنانا ضروری ہے جس کی وجہ بظاہر مجھے یہ نظر آتی ہے، کہ انھیں پچھلے چھہ ماہ میں یہ بات سمجھائی گئی ہے، کہ اگر ڈیم نا بنا تو آپ کے ڈوب مرنے کے لیے بھی پانی نہیں بچے گا۔

ہر کام کا ایک پروسیس ہوتا ہے جو کسی خاص وقت کے ساتھ ہی پورا ہوتا ہے۔ اگر ایک طالب علم بی ایس کر رہا ہے، تو خواہ وہ کتنا ہی لائق فائق ہو، اسے چار سال ہی لگیں گے۔ خواہ وہ کہے کہ میں کھانا پینا چھوڑ دوں، یا کوئی اور قربانی دے دے۔ 31 دسمبر کے بعد ہی 2019 آئے گا۔ بالکل ایسے ہی ڈیم بھی صبح اٹھتے نہیں بن جائے گا، اسے بننے میں وقت لگے گا۔ منصوبہ سازوں نے کتنی چالاکی سے پچھلی منتخب حکومت کی ساری اچیومنٹس پر ڈیم (مٹی) ڈال دیا ہے۔ کمال ہے بھئی۔ آج ہر وائرس زدہ شخص ڈیم ڈیم کر رہا ہے۔ باقی سب کی جیسے اسے کبھی ضرورت ہی نہیں تھی۔ اعداد و شمار کے چکر میں پڑنے کی بجائے، یا 2013 سے پچھلی حکومتوں پر گریہ کرنے سے بہتر ہے، ہم آج ہی کا موازنہ کر لیں۔ ڈیم بنانا حکومتوں کا کام ہے، عدلیہ کا کام انصاف دینا ہے یا پھر عدلیہ ڈیم بنا لے اور انصاف کا ذمہ دودھ فروش حضرات کو دے دیا جائے۔

آج ہی کی ایکسپریس فیصل آباد کے فرنٹ پیج کی خبر تھی، کہ دس سال کی عمر میں گرفتار ہوئے بچے کو، آج 11 سال بعد بری کر دیا گیا؛ جب کہ وہ دمے کا مریض ہو گیا ہے۔ حضور ڈیم بنانا ضروری ہے پر ساتھ میں یہ بھی ضروری ہے کہ آپ جس کرسی پر تشریف فرما ہیں، وہاں سے انصاف ملے؛ سب کو۔ اب اس 21 سال کے نوجوان کا جیل میں گزرا لڑکپن واپس کون لائے گا۔ ڈیم بنانا ضروری ہے حضور، پر لاپتہ افراد جن کے بچے آپ پر امید لگائے لگائے جوان ہو گئے، ان کے پیاروں کو کون لائے گا۔ ڈیم بنانا ضروری ہے حضور پر اس زہریلی کمپین سے کہ جس میں کسی رشتے کا کسی رتبے کا لحاظ باقی نہیں رہا، متاثرہ ذہنوں کا علاج کون کرے گا۔ ڈیم بنانا ضروری ہے حضور، پر آپ۔ کے ادارے میں مدفون 19 لاکھ کیسوں کے ڈسے ہوئے لوگوں کو سکون کون دے گا۔ سب سے اہم ڈیم بنانا ضروری ہے پر اس سے بھی بہت ضروری ہمارے رشتے ناتے دوستیاں ہیں۔ انھیں ان وائرسوں کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ ڈیم بنائیں کہ اس میں ملک و قوم کا فائدہ ہے، پر خیال رکھیں کہ ڈیم تو بن جائے پر ہم کہیں پھر کبھی بھی قوم نہ بن سکیں۔