باپ کی لاش کے ساتھ کھڑے بچے کی دل سوز تصویرپر 30 لاکھ کے عطیات

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

سوشل میڈیا پر ایک بچے کی اپنے باپ کی لاش کے ساتھ کھڑے روتے ہوئے دل سوز تصویر سامنے آنے کے بعد صارفین نے تیس لاکھ روپے چندہ جمع کر کے اس کے خاندان کو بھیج دیا ہے۔

یہ تصویر ٹوئٹر پر 7000 مرتبہ شیئر کی گئی ہے۔

27 سالہ انیل دارالحکومت دلی میں گٹر صاف کرنے کا کام کرتے تھے۔ کام کے دوران جن انھیں گٹر میں اتارنے والی رسی ٹوٹی تو وہ گر کر ہلاک ہوگئے۔

یہ بھی پڑھیے

‘گائے کی موت پر ہنگامہ اور دلت پر خاموشی’

کچھ اندازوں کے مطابق انڈیا میں پر سال ایک سو سوریج ورکرایسے ہی واقعات میں مارے جاتے ہیں۔

ورکروں کی نمائندہ تنظیموں کا کہنا ہے کہ ایسا اس لیے ہوتا ہے کیونکہ انھیں درست حفاظتی سامان مہیا نہیں کیا جاتا۔

ہندوستان ٹائمز کے رپورٹر شیو سنی نے پیر کے روز یہ تصویر شیئر کی تھی۔ انھوں نے بی بی سی کو بتایا کہ یہ منظر دیکھ کر ان کا ضمیر ہل کر رہ گیا تھا۔

https://twitter.com/shivsunny/status/1041544802570063873

وہ کہتے ہیں ’میں ایک کرائم رپورٹر ہوں اور میں نے دنیا میں بہت اندوہناک واقعات دیکھے ہیں مگر یہ ایک ایسی چیز تھی جو میں نے کبھی بھی دیکھی نہ تھی۔‘

انھوں نے بتایا کہ یہ تصویر انھوں نے انیل کی آخری رسمات سے چند لمحے قبل بنائی تھی۔ ’میں صرف گٹر صاف کرنے والوں کی ہلاکتوں کی طرف توجہ دلانا چاہتا تھا۔ یہ تصویر اس خاندان کی کہانی بیان کرتی تھی۔‘

شیو سنی نے بتایا کہ یہ خاندان آخری رسومات کے اخراجات بھی نہیں اٹھا سکتا تھا اور اس کی مدد محلے داروں نے کی تھی۔ محلے داروں نے شیو سنی کو بتایا کہ انیل کا چار ماہ عمر کا بیٹا ایک ہفتے پہلے ہی نمونیہ سے مر گیا تھا کیونکہ انیل اس کی دوا نہیں خرید سکتے تھے۔

انیل کے سوگوران میں دو بیٹیاں بھی شامل ہیں جن کی عمریں 7 اور 3 ہیں۔

سنی کی ٹوئٹ پر اودے فاؤنڈیشن کی نظر پڑی جس نے کیٹو نامی ایپ کی مدد سے چندہ جمع کیا۔

https://twitter.com/YRDeshmukh/status/1041918385204944897

سنی کہتے ہیں کہ ’یہ بالکل غیر متوقع تھا۔‘ وہ بتاتے ہیں کہ جہاں بالی وڈ ستاروں نے بھی ان سے رابطہ کیا، ادھر غریب لوگوں نے بھی دس دس روپے چندہ جمع کروایا۔

سوشل میڈیا پر سوالات اور لوگوں کے ہمددرانہ بیانات کی وجہ سے سنی واپس اس خاندان کے پاس گئے۔

جب سنی نے اس بیٹے سے بات کی تو اس نے بتایا کہ میں کبھی کبھی اپنے بات کے ساتھ کام پر جاتا تھا اور اس کا کام ہوتا تھا کہ اپنے باپ کے کپڑے اور جوتے سنبھال کر بیٹھے۔

اس بچے نے کہا کہ میرا باپ کہتا تھا کہ ابھی میرے گٹر میں اترنے کا وقت نہیں آیا ہے۔

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

بی بی سی

بی بی سی اور 'ہم سب' کے درمیان باہمی اشتراک کے معاہدے کے تحت بی بی سی کے مضامین 'ہم سب' پر شائع کیے جاتے ہیں۔

british-broadcasting-corp has 15444 posts and counting.See all posts by british-broadcasting-corp