پاکستان میں ہم جنس پرست لڑکیوں کی سرگرمیاں

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

ملائیشیا سے آنے والی خبر، وہ لڑکی اور بہت سے سُنی ہوئی باتیں۔ میں دیر تک اس موضوع میں الجھی رہی۔ میں سوچ رہی تھی کہ دنیا کس تیزی سے سیاہ کاریوں کو قبول کرتی جارہی ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے 1977ء کے ICD9 میں ہم جنس پرستی کو ذہنی بیماریوں میں سرفہرست رکھا۔ لیکن 17 مئی 1990 کو عالم ادارہ صحت کی اسمبلی کی تصدیق سے اسے ICD۔ 10 سے ہٹا دیا گیا۔ برطانیہ میں ہم جنس پرستوں کی شادی قانوناًجائز ہے۔ برطانیہ کے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق اس قانون سے ”استفادہ“ کرنے کے لیے رجسٹریشن کرانے والے جوڑوں کی تعداد پچاس ہزار سے تجاوز کرگئی ہے۔

قومی ادارہ شماریات کی رپورٹ کے مطابق برطانوی معاشرے میں جوڑے بننا اور ٹوٹنا معمول بن چکا ہے۔ ان جوڑوں میں ہم جنس پرست مردوں کے ساتھ ساتھ ہم جنس پرست خواتین بھی شامل ہیں۔ برطانیہ نے ہم جنس پرست مردوں اور عورتوں کو باہم ”شادی“ کرنے کا قانون ”سول پارٹنرشپ“ دسمبر 2005ء میں بنایا تھا۔ اس وقت دنیا بھر کے 113ممالک میں ہم جنس پرستی کو قانونی تحفظ حاصل ہے، جن میں مالی، اردن، ترکی، تاجکستان، کرغزستان، بوسنیا اور آزربائیجان جیسے مسلمان ممالک بھی شامل ہیں۔ 76ممالک میں یہ عمل غیرقانونی ہے۔ ماہرینِ عمرانیات کا کہنا ہے کہ ہم جنس پرستی کا کوئی ٹھوس جواز نظر نہیں آتا کیوں کہ اس کا سب سے بڑا نقصان کسی مذہب یا مسلک کو نہیں بلکہ براہ راست انسانیت کو ہے۔

ایک طرف یہ قبولیت ہے اور دوسری طرف ان مکروہ افعال سے مکمل چشم پوشی، جیسی ہمارے یہاں ہے۔ پاکستان میں بھی اگرچہ ہم جنس پرستی قابل تعزیر جرم ہے لیکن اب کچھ غیرملکی سفارت کار ہم جنس پرستی کو پروموٹ کر رہے ہیں۔ اسلام کی رو سے ہم جنسی پرستی ایک گناہ ہے اور اس کے لیے سزائیں موجود ہیں، اس سب کے باوجود پاکستان میں ہم جنس پرستوں کی بڑی تعداد موجود ہے، جن میں خواتین بھی شامل ہیں اور بڑھتی ہوئی بے راہ روی کے باعث ایچ آئی وی ایڈز کی بیماری میں بھی اضافہ ہوا ہے۔ پاکستان میں ایچ آئی وی ایڈز کے 56 ہزار مریض موجود ہیں۔

میں جس زمانہ میں کالج کی طالبہ علم تھی اس زمانے میں کالج کی سطح پر ایک گروپ باقاعدہ اس حوالے سے اپنا کام کرتا تھا۔ میں اپنے کالج کی ہیڈ سی آر تھی۔ اکثر ان لڑکیوں کو قابلِ اعتراض حالت میں پکڑا گیا اور کالج انتظامیہ کے سپرد کیا گیا۔ لیکن چوں کہ اس وقت میں خود ان باتوں سے بہت زیادہ واقف نہیں تھی تو میرے لیے یہ اتنا اہم موضوع نہیں تھا۔

ہوتا یوں ہے کہ ہم اپنی گھر کی بیٹیوں پر کچھ خاص پابندیاں عائد کرتے ہیں کہ انھیں جنس مخالف سے کس حد تک دور رہنا چاہیے لیکن یہ نہیں بتاتے کہ اپنی سہیلیوں سے ملنے یا ان کے ساتھ رابطہ کس حد تک ہونا چاہیے اکثر لڑکیوں کو یہ ہی علم نہیں ہوتا کہ وہ جو کررہی ہیں وہ غلط ہے یا گناہ ہے ان کے نزدیک کسی مرد سے تعلق تو گناہ ہوسکتا ہے لیکن کسی عورت سے تعلق گناہ نہیں، اور یہ سب نہایت نارمل انداز میں چل رہا ہوتا ہے، یعنی انھیں علم ہی نہیں ہوتا کہ یہ غلط عادت عمر بڑھنے کے ساتھ ساتھ ان میں پختہ ہوتی جائے گی اور پھر باقاعدہ ایک نفسیاتی عارضہ بن کر سامنے آئے گی۔

ماں باپ کسی بھی صورت میں یہ نہیں جان پاتے کہ ان کی بیٹی کسی نفسیاتی عارضے کا شکار ہوچکی ہے۔ اکثر نتائج شادی کے بعد سامنے آتے ہیں۔ اس عارضے کا شکار فرد مخالف جنس سے تعلق رکھنے والے اپنے شریکِ حیات سے مطمئن نہیں ہوپاتا، پریشانیاں عمر بھر کا روگ بن جاتی ہیں۔

ہمارے ملک میں اکثریت دینِ اسلام کے پیروکاروں کی ہے۔ اسلام وہ مذہب ہے جو جسمانی روحانی قلبی اور فکری طہارت کا درس دیتا ہے اور اس کا مقصد ایک باحیا، معاشرے کی تشکیل ہے۔ قرآنِ کریم میں بے حیائی کے کاموں سے دور رہنے کی تلقین کی گئی ہے۔ احادیثِ مبارکہ میں بھی بار بار اس کا ذکر ملتا ہے۔ اسلام میں بے حیائی بے راہ روی اور فحش باتوں اور اقدامات سے نہ صرف روکا گیا ہے بلکہ اس کی باقاعدہ سزا بھی تجویز کی گئی ہے۔ ظاہر ہے جب تک سزا کا عنصر نہیں ہوگا تب تک برائی کا خاتمہ لفاظی کا سوا کچھ نہیں۔ ہمارا مسئلہ تو یہ ہے کہ ہم مان ہی نہیں رہے کہ ہمارے آس پاس پرائی پھیل چکی ہے۔

ہمارے یہاں ہم جنس پرست خواتین کے منظم گروہ اپنی تقریبات منعقد کررہے ہیں، جہاں ایسی خواتین کو خوش آمدید کہا جاتا ہے جو اس گناہ میں اپنا حصہ ڈالنا چاہتی ہوں۔ بہت سے لوگوں کو میری تحریر بری لگے گی لیکن ایسی بہت سی حقیقتیں ہیں جو ہمارے معاشرہ میں اپنا وجود رکھتی ہیں، جن سے ہم نظریں نہیں چُرا سکتے۔

افسوس ناک امر یہ ہے کہ یہ گھناؤنی حرکتیں انسان کی آزادی کے نام پر ہوتی ہیں، اور اسی نام پر انھیں تحفظ دیا جاتا ہے، لیکن آزادی کے علمبردار یہ بات بھی ذہن نشین کرلیں کہ انسان جب حیوانیت کی حدود کو پار کرگیا ہو تو اس کے لیے لفظ انسانیت ہی موزوں نہیں رہتا سو آزادی کا نعرہ کیسا؟ کھلے عام بے حیائی کے کاموں کی حمایت کرنا عجب تماشہ ہے۔ اس برائی سے آنکھیں چُرانے یا اسے آزادی سمجھنے والے اس بات سے بے خبر ہیں کہ اگر برائی کو نہ روکا گیا تو یہ تماشہ ان کے گھروں میں بھی ہوسکتا ہے۔ پھر شاید انھیں خود برا لگ رہا ہو۔ عقل ہوش اور دماغ رکھنے کے باوجود برائی کو برائی نا سمجھنا خود فریبی کو سوا اور کیا ہے؟
Sep 24, 2018

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •