اویس کو سیلفیوں کی نہیں ایک سچے آدمی کی ضرورت ہے

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

محمد اویس سے ملیے۔

اویس کراچی میں رہتے ہیں۔ پڑھے لکھے ہی نہیں ، پاکستانی معیار سے اعلی تعلیم یافتہ ہیں۔ سیاسیات میں ایم اے کیا ہے۔

اویس مسکلر ڈیسٹرافی نامی جسمانی معذوری سے لڑ رہے ہیں۔ اس لڑائی میں انہوں نے ہمت نہیں ہاری پر اب ان کے حوصلے کچھ شکستہ ہو چلے ہیں۔ کچھ انسانیت سے ان کا اعتبار بھی اٹھ چلا ہے۔

اویس بیروزگار ہیں۔ کئی دفعہ نوکری کے لیے دیے گئے امتحان اعلی نمبروں سے پاس کیے۔ انٹرویو کی میز تک پہنچے اور پھر نامراد لوٹا دیے گئے۔ سنا ہے سندھ حکومت کا سپیشل کوٹہ سپیشل لوگوں کے لیے ہے لیکن اس میں شاید بہت ہی سپیشل لوگوں کی جگہ ہے۔ اویس شاید اس کسوٹی پر کھرے نہیں اترتے۔

میڈیا کو اپنا وقت بیچنا ہوتا ہے۔ اس میں ایسی انسانی المیے کی کہانیاں خوب بکتی ہیں۔ اینکرز آنکھوں میں آنسو بھرتے ہیں۔ بولنے میں ان کی آواز کپکپاتی ہے۔ ہمدردی کی ایک تہہ میک اپ کی تہہ کے اوپر بھی نظر آنے لگتی ہے۔ پھر ان سپیشل لوگوں کے ساتھ سیلفیاں بنوا کر انسٹاگرام پر ڈالی جاتی ہیں تاکہ لوگ انسان دوستی کے قائل رہیں۔ پر ادھر کیمرے بند ہوتے ہیں ادھر سب تسلیاں، سب وعدے ہوا ہو جاتے ہیں۔ میک اپ کے ساتھ ساتھ ہمدردی بھی اتار کر ٹشو میں لپیٹ کر کوڑے دان میں ڈال دی جاتی ہے۔

کبھی کبھی اہل اقتدار بھی عنایت کرتے ہیں۔ مسکراتے ہوئے ساتھ تصویر بناتے ہیں۔ ایسی ہر تصویر کی قیمت کچھ ووٹ تو ہوتی ہو گی۔ سر پر ہاتھ رکھتے ہیں۔ مائی باپ جو ہوئے۔ پھر وعدے کیے جاتے ہیں۔ کہ وعدے کون سا قرآن حدیث ہوتے ہیں کہ ان پر عمل کرنا یا ان کا وفا کرنا ضروری ہو۔ نثار کھوڑو صاحب نے تو ایک تقریب میں باقاعدہ اویس کو نوکری دینے کا حلف بھی اٹھایا تھا۔ سنا ہے حلف ناموں میں تبدیلی ہو تو ملک گیر مہم چلتی ہے۔ حلف توڑ دیے جائیں تو کسی کے کان پر کوئی جوں کیوں نہیں رینگتی۔

اویس ایک خوددار نوجوان ہے۔ اسے امداد کی تمنا نہیں ہے۔ وہ ہاتھ پھیلائے ہوئے بھی نہیں ہے۔ اسے بس اپنے ہم وطنوں سے اتنی مدد چاہیے کہ اس کی تعلیم کے مطابق اس کی ملازمت کا کوئی بندوبست کر دیا جائے۔ اویس اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہو سکتا۔ کیا ہم بھی بحیثیت قوم اتنے اپاہج ہیں کہ اویس کو سہارا نہیں دے سکتے۔ اور کچھ نہیں تو اس کی آواز ہی ان ایوانوں تک پہنچا دیں جہاں ایک کروڑ نوکریاں تیار ہو رہی ہیں۔ اے خانہ بر انداز چمن، کچھ تو ادھر بھی۔

آئیے مل کر آواز اٹھاتے ہیں۔ اور کچھ نہیں تو میں آپ سے اتنی توقع تو رکھ سکتا ہوں کہ آپ اس پیغام کو شئیر کریں گے۔ درد دل کے واسطے ایک بٹن تو دبایا جا سکتا ہے۔

اویس سے آپ اس نمبر اور اس فیس بک پروفائل پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

03337972365

Raja Mohammad Owais

https://www.facebook.com/awais.mastoi

image_pdfimage_print
Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

اگر آپ یہ سمجھتے ہیں کہ ”ہم سب“ ایک مثبت سوچ کو فروغ دے کر ایک بہتر پاکستان کی تشکیل میں مدد دے رہا ہے تو ہمارا ساتھ دیں۔ سپورٹ کے لئے اس لنک پر کلک کریں

حاشر ابن ارشاد

حاشر ابن ارشاد کو سوچنے کا مرض ہے۔ تاہم عمل سے پرہیز برتتے ہیں۔ کتاب، موسیقی، فلم اور بحث کے شوقین ہیں اور اس میں کسی خاص معیار کا لحاظ نہیں رکھتے۔ ان کا من پسند مشغلہ اس بات کی کھوج کرنا ہے کہ زندگی ان سے اور زندگی سے وہ آخر چاہتے کیا ہیں۔ تادم تحریر کھوج جاری ہے۔

hashir-irshad has 133 posts and counting.See all posts by hashir-irshad