لفظوں کا جادوگر مجروح سلطان پوری

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  

مجروح سلطان پوری کا اصل نام اسرار حسین تھا۔ صدا بہار گیت لکھنے والے مجروح سلطان پوری کے قلم میں وہ بات تھی کہ زمانہ ان کا دیوانہ بن گیا۔ مجروح صاحب کے بارے میں یہ مشہور بات ہے کہ وہ جو بھی نغمہ لکھتے تھے امر ہوجاتا تھا۔ اترپردیش کے ضلع سلطان پور میں پیدا ہونے والے مجروح سلطان پوری کا قلم چلتا گیا اور وہ گانے لکھتے چلے گئے۔ بالی وڈ کا وقت بدل گیا، کلچر تبدیل ہو گیا، ہیرو اور ولن بدل گئے، موسیقار بدل گئے، جدت آگئی، لیکن اس عظیم نغمہ نگار کے قلم کی تخلیقی قوت کا کمال کم نہ ہوا بلکہ نکھرتا چلا گیا۔ ان کے لکھے گئے گانے دلیپ کمار، دیوآنند، راج کپور، سلمان خان، شاہ رخ خان اور عامر خان پر پکچرائز ہوئے اور سب کے سب مشہور ہوئے۔

بالی وڈ کے تینوں خان مجروح سلطان پوری کے لکے گئے گانوں کی وجہ سے مشہور ہوئے اور ان کی شناخت کا سبب وہی نغمے تھے۔ ایک سے بڑھ کر ایک گانا لکھا۔ مجروح صاحب نے تین سو فلموں کے لئے چار ہزار سے زائد نغمے لکھے اور ایک بھی گانا فلاپ نہیں ہوا۔ سب کے سب سپر ہٹ ثابت ہوئے۔ مجروح صاحب پاکستان اور بھارت کی شناخت ہیں اور اردو فلم انڈسٹری کی شان ہیں۔ وہ ایک ایسا نام ہیں جنہوں نے اپنے لفظوں کے جادو سے کڑوروں انسانوں کو اپنا دیوانہ بنایا اور ان کی وجہ سے بالی وڈ کے کئی ہیروز کو عالمی شہرت ملی۔

یکم اکتوبر انیس سو انیس میں اترپردیش کے ضلع سلطان پور کے علاقے نظام آباد میں پیدا ہونے والے مجروح سلطان پوری کے والد  ہیڈ کانسٹیبل تھے۔ مجروح نے حکمت سیکھی، حکمت کی، اپنا دواخانہ چلا یا، جہاں وہ مریضوں کو حکیمانہ نسخوں سے صحت یاب کرتے تھے۔ حکیمی دواخانہ کے ساتھ ساتھ سلطان پور میں مشاعروں میں بھی حصہ لیتے تھے۔ شعر و شاعری بھی لکھتے تھے۔ پھر ایک وقت آیا کہ حکمت کو چھوڑ کر ہمیشہ ہمیشہ کے لئے شعر و شاعری سے رشتہ جوڑ لیا۔ پھر لفظوں سے لوگوں کا علاج کرنے لگے۔

جگر مرادآبادی سے دوستی ہوئی، ان کے شاگرد بنے اور پھر اسی پہچان اور دوستی کی وجہ سے ممبئی میں آگئے اور بالی وڈ فلم انڈسٹری کا حصہ بن گئے۔ ان کی پہلی فلم شاہجہاں تھی، اس فلم کے تمام نغمے مجروح صاحب نے لکھے تھے۔ فلم بھی ہٹ ہوگئی اور گانے تو سپر ہٹ ہو گئے۔ اس فلم کا ایک معروف نغمہ ہے۔ جب دل ہی ٹوٹ گیا، ہم جی کے کیا کریں گے۔ کبھی موقع ملے تو ضرور سنیے۔

اس کے بعد ممبئی میں اردو کی ترقی پسند تحریک سے وابستہ ہوگئے۔ اس تحریک کا بنیادی مقصد یہ تھا کہ اردو میں نظم لکھی جائے اور اس نظم کے ذریعے انسانی زندگی کے مسائل بیان کیے جائیں۔ یہ اس زمانے کی سب سے بڑی تہذیبی تحریک تھی۔ ممبئی نے بھی مجروح صاحب کو پلکوں پر بٹھایا، ان کے لفظ لوگوں کے ذہن و دماغ میں اتر گئے۔

آزادی کے بعد مجروح صاحب باغیانہ نظم کی وجہ سے قید ہو گئے۔ اسی دوران جب وہ قید میں تھے تو معروف فلمی ہیرو راج کپور ان سے ملنے گئے اور کہا کہ مجروح صاحب یہ دنیا کیوں بنائی گئی؟ اس پر گیت لکھ کر دیں۔ مجروح صاحب نے وہ گیت راج کپور کو لکھ کر دیا، جس پر انہیں ایک ہزار روپیے ملے، جو اس زمانے میں بڑی رقم تھی۔ اس وقت ایک نغمہ لکھنے کا سو روپیہ ملتا تھا اور مجروح صاحب کو اکھٹے ایک ہزار روپیے مل گئے۔

وہ نغمہ تھا۔ دنیا بنانے والے کیا تیرے من میں سمائی۔ کاہے کو دنیا بنائی۔ یہ گانا انیس سو سڑسٹھ میں راج کپور نے اپنی فلم تیسری قسم میں استعمال کیا۔ اس گانے کی وجہ سے فلم سپر ہٹ ہوگئی۔ مجروح صاحب 24 مئی سن دو ہزار میں ممبئی میں جگر کی بیماری کے سبب انتقال کر گئے۔ فلم انڈسٹری میں آج بھی انہیں لفظوں کا جادوگر مانا جاتا ہے۔ بالی وڈ فلم انڈسٹری میں انہیں لفظوں کا جادوگر کا خطاب دیا گیا

Comments - User is solely responsible for his/her words

  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •  
  •